قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے

ﰿ



٩٦ ٩٦


ﭿ
٩٧ ٩٧

٩٨ ٩٨

٩٩ ٩٩


١٠٠ ١٠٠


١٠١ ١٠١

١٠٢ ١٠٢

ﯿ
١٠٣ ١٠٣
124
سورۃ المائدہ آیات 0 - 98

ٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلۡعِقَابِ وَأَنَّ ٱللَّهَ غَفُورٞ رَّحِيمٞ ٩٨

اللہ تعالیٰ نے رحمت کو اپنی صفت قرار دیا ہے جو اس کے اسماءِ حسنیٰ جیسے رحیم ورحمن میں مذکور وموجود ہے۔جبکہ عذاب اور عقاب کو اللہ نے اپنے مفعولات یعنی کئے جانے والے کاموں میں بتایا ہے جو اس کے اسماءِ حسنیٰ (بہترین ناموں )میں مذکور نہیں ہیں۔(ابن تیمیہ: ۲؍ ۵۶۱)
سوال: آیت انسان کے اندر خوف اور امید دونوں کی جوت جگاتی اور سبب بنتی ہے ۔اسے بیان کیجئے.

سورۃ المائدہ آیات 0 - 98

ٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلۡعِقَابِ وَأَنَّ ٱللَّهَ غَفُورٞ رَّحِيمٞ ٩٨

یعنی اللہ کی ان دونوں صفتوں کی پہچان اور دونوں کا علم تمہارے دلوں میں جزم اوریقین کی صورت میں موجودہونے چاہئیں ، تمہیں اچھی طرح سےمعلوم ہونا چاہئے کہ اللہ اپنی نافرمانی کرنے والے کو دنیا اور آخرت کی سخت سزا دینے والا ہے اور جو اس کی بارگاہ میں توبہ کرے اور اس کی فرمانبرداری کرے، وہ اسے خوب بخشنے والا رحم کرنے والا ہے ۔یہ علم و یقین تمہیں اس کی سزا سے ڈرنے اور اس کی بخشش اور ثواب کی امید رکھنے کا فائدہ دیگااور نتیجہ میں تم اس ڈر اور امید کے تقاضوں پر عمل کرنے لگوگے ۔(السعدی:۲۴۵)
سوال:اس بات کو جاننے اور ماننے کا کیا فائدہ ہے کہ “اللہ سخت سزادینے والا ہے اور وہ خوب بخشنے والا بڑے رحم والا ہے”؟

سورۃ المائدہ آیات 0 - 99

مَّا عَلَى ٱلرَّسُولِ إِلَّا ٱلۡبَلَٰغُۗ وَٱللَّهُ يَعۡلَمُ مَا تُبۡدُونَ وَمَا تَكۡتُمُونَ ٩٩

(مَّا عَلَى ٱلرَّسُولِ إِلَّا ٱلۡبَلَٰغُۗ) رسول کے ذمہ تو صرف پہنچادینا ہے ۔
یعنی ہدایت دینا اور حق کو قبول کرنے کی توفیق بخشنا رسول اللہ ﷺ کا کام نہیں ہے اور نہ ہی اجر وثواب ان کے اختیار میں ہے ۔ان کی ذمہ داری تو بس اللہ کے پیغام واحکام کو لوگوں تک پہنچادینا ہے۔ (القرطبی: ۸؍۲۲۵)
سوال: اللہ کی طرف دعوت دینے والے کی ذمہ داری کس حد تک ہے ،اس کی تعیین کیجئے؟

سورۃ المائدہ آیات 0 - 100

قُل لَّا يَسۡتَوِي ٱلۡخَبِيثُ وَٱلطَّيِّبُ وَلَوۡ أَعۡجَبَكَ كَثۡرَةُ ٱلۡخَبِيثِۚ فَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ يَٰٓأُوْلِي ٱلۡأَلۡبَٰبِ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُونَ ١٠٠

ناپاک اورگندی چیزحلال وپاکیزہ چیز کے برابر نہیں ہوسکتی ۔نہ مقدار میں ،نہ خرچ کرنے میں ،نہ مرتبہ ومقام میں اور نہ ہی ختم ہونے میں ۔چنانچہ پاکیزہ چیز داہنی جانب کا رخ اختیار کرتی ہے جبکہ گندی چیز بایاں راستہ لیتی ہے ۔ پاک چیز کا مقام جنت ہے اور ناپاک کا ٹھکانہ جہنم ہے۔(القرطبی: ۸؍۲۲۶)
سوال: بتائیے کہ پاکیزہ اور گندی چیز برابر کیوں نہیں ہوسکتی؟

سورۃ المائدہ آیات 0 - 100

قُل لَّا يَسۡتَوِي ٱلۡخَبِيثُ وَٱلطَّيِّبُ وَلَوۡ أَعۡجَبَكَ كَثۡرَةُ ٱلۡخَبِيثِۚ فَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ يَٰٓأُوْلِي ٱلۡأَلۡبَٰبِ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُونَ ١٠٠

باری تعالیٰ کاارشاد ہے کہ :اللہ کی نافرمانی کرنے والا اور اس کی فرمانبرداری کرنے والا دونوں اللہ کے نزدیک یکساں اور برابر نہیں ہوسکتے اگرچہ نافرمان لوگوں کی تعداد بہت زیادہ ہوجائے اور تمہیں ان کی کثرت اچھی لگنے لگےاس لئے کہ اللہ کی اطاعت کرنے والے لوگ ہی قیامت کے دن اللہ کی طرف سے ثواب پاکر کامیاب ہونے والے ہیں۔ خواہ وہ تعداد میں گنہگار ونافرمان لوگوں سے کم اور تھوڑے ہی کیوں نہ ہوں۔ اسی طرح اللہ کی معصیت ونافرمانی کرنے والے لوگ ہی سب سے زیادہ خسارہ ونقصان اٹھانے والے ،ناکام ونامراد لوگ ہیں اگرچہ وہ تعداد میں بہت زیادہ ہی کیوں نہ ہوں ۔لہذا تم اللہ کے نافرمان لوگوں کی بڑی تعداد سے ہرگز متاثر نہ ہونا اور دھوکا مت کھانا کہ یہ اتنے زیادہ ہیں پھر بھی اللہ انہیں ڈھیل دے رہا ہے ،انہیں دنیوی عذاب اور سزا دینے میں جلدی نہیں کررہا ہے کیونکہ اچھا انجام تو صرف اللہ کے اطاعت گذار اور فرمانبردار بندوں کے لئے ہے۔ (الطبری: ۱۱؍ ۹۶)
سوال: عقلمند آدمی باطل پرست لوگوں کی کثرت سے دھوکا نہیں کھاتا۔آیت کی روشنی میں اس بات کی وضاحت کیجئے۔

سورۃ المائدہ آیات 0 - 100

قُل لَّا يَسۡتَوِي ٱلۡخَبِيثُ وَٱلطَّيِّبُ وَلَوۡ أَعۡجَبَكَ كَثۡرَةُ ٱلۡخَبِيثِۚ فَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ يَٰٓأُوْلِي ٱلۡأَلۡبَٰبِ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُونَ ١٠٠

(وَلَوۡ أَعۡجَبَكَ كَثۡرَةُ ٱلۡخَبِيثِۚ) اگرچہ تمہیں گندی چیز کا زیادہ ہونا اچھا لگے۔
کیونکہ گندی اور بری چیزاس کے کرنے والے کو کچھ بھی فائدہ نہیں دیتی ہے بلکہ دین و دنیا دونوں میں اسے نقصان پہنچاتی ہے۔
(فَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ يَٰٓأُوْلِي ٱلۡأَلۡبَٰبِ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُونَ) پس اللہ کا تقوی اختیار کرو اور اس کا ڈر دل میں بسالو ،اے عقل والو! تاکہ تم فلاح پاؤ۔
اللہ نے “ اُولُوا الْاَلْبَابِ” یعنی:جوعقل اور سوجھ بوجھ میں بالغ اور فکر ورائے میں کامل لوگ ہیں ۔ان کو حکم دیا ہے اور انہی کی طرف خطاب کا رخ ہے۔
کیونکہ یہی لوگ لائق توجہ اور قابل اعتناء ہیں ۔یہی عقل وشعور والے ہیں جن کے اندر خیر وبھلائی کی امید کی جاتی ہے ۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس بات سے آگاہ فرمایا ہے کہ فلاح وکامیابی ، تقویٰ پرمنحصر ہے اور تقویٰ یعنی اللہ کا ڈریہ ہے کہ امر ونہی یعنی حکم اور ممانعت میں اللہ کی موافقت کی جائے ۔لہذا جس نے اللہ کا ڈر اور تقویٰ اختیار کیا ، اس نے پوری پوری کامیابی پائی اور جس نے تقویٰ چھوڑدیا اس نے اپنے حصہ میں نقصان ہی نقصان لے لیا اور بہت سارے فائدوں سے ہاتھ دھوبیٹھا۔ (السعدی: ۲۴۵)
سوال: اللہ تعالیٰ نے خطاب کا رخ تمام لوگوں کی بجائے صرف عقل والوں کی طرف کیوں کیا ہے؟

سورۃ المائدہ آیات 0 - 102

قَدۡ سَأَلَهَا قَوۡمٞ مِّن قَبۡلِكُمۡ ثُمَّ أَصۡبَحُواْ بِهَا كَٰفِرِينَ ١٠٢

ایسی باتیں تم سے پہلے اور لوگوں نے بھی پوچھی تھیں پھر ان باتوں کے منکر ہوگئے۔اس کی وجہ یہ تھی کہ ان لوگوں نے رشد وہدایت پانے کے لئے سوالات نہیں پوچھے تھے بلکہ ان کا پوچھنا مذاق اڑانے اورسرکشی کے طور پر تھا ۔ (ابن کثیر: ۲؍ ۱۰۰)
سوال: سوال پوچھنے والوں کی حالت وکیفیت الگ الگ ہوتی ہے تو کون سا سوال پسندیدہ ہوتاہے اور کون سا ناپسندیدہ؟