قرآن
ﮑ
ﰾ
ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ
ﭪ ٥١ ٥١ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ
ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ
ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ٥٢ ٥٢ ﮊ ﮋ ﮌ
ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ
ﮗ ﮘ ﮙ ٥٣ ٥٣ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ
ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ
ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ
ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ
ﯢ ٥٤ ٥٤ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ
ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ٥٥ ٥٥ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ
ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ٥٦ ٥٦ ﯾ ﯿ ﰀ
ﰁ ﰂ ﰃ ﰄ ﰅ ﰆ ﰇ ﰈ ﰉ ﰊ
ﰋ ﰌ ﰍ ﰎ ﰏ ﰐ ﰑ ﰒ ﰓ ﰔ ﰕ ٥٧ ٥٧
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَتَّخِذُواْ ٱلۡيَهُودَ وَٱلنَّصَٰرَىٰٓ أَوۡلِيَآءَۘ بَعۡضُهُمۡ أَوۡلِيَآءُ بَعۡضٖۚ وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمۡ فَإِنَّهُۥ مِنۡهُمۡۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَهۡدِي ٱلۡقَوۡمَ ٱلظَّٰلِمِينَ ٥١
باخبر لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہود ونصاریٰ کے ذِمّی (اسلامی ممالک میں رہنے والے غیر مسلم) لوگ اور منافقین اپنے ہم مذہب لوگوں سے خط وکتابت کرکے مسلمانوں کی خبریں پہنچاتے ہیں اور مسلمانوں کی جن خفیہ باتوں اور رازوں کی اطلاع پاتے ہیں، ان کی مخبری کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ اہل ذمہ اور ان کے ہم مذہب لوگوں کی باہمی اطلاعات اور خبر رسانی کی وجہ سے تاتاریوں کی سلطنت اور ملکوں میں مسلمانوں کی پوری پوری جماعت کو گرفتار اور قید کرلیا گیا۔ (ابن تیمیہ: ۲؍ ۴۹۶)
(ذِمّی: ایسے شخص کو کہتے ہیں جو دارالاسلام یا اسلامی مملکت میں جزیہ دے کر رہتا ہے ۔یعنی جزیہ کے عوض اسلامی حکومت اس کی حفاظت کا ذمہ لیتی ہے ،گویا مسلم حکومت اور اس کے درمیان عہد و پیمان ہوتا ہے۔مترجم)
سوال: اہلِ کتاب کے ساتھ دوستی کرنے سے ممانعت کیوں کی گئی ہے؟
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَتَّخِذُواْ ٱلۡيَهُودَ وَٱلنَّصَٰرَىٰٓ أَوۡلِيَآءَۘ بَعۡضُهُمۡ أَوۡلِيَآءُ بَعۡضٖۚ وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمۡ فَإِنَّهُۥ مِنۡهُمۡۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَهۡدِي ٱلۡقَوۡمَ ٱلظَّٰلِمِينَ ٥١
دوستی کی اصل اور بنیاد محبت ہے ، جس طرح دشمنی کی بنیاد نفرت ہے ۔ چنانچہ باہمی محبت ایک دوسرے سے قربت وموافقت(اتفاق)کا ذریعہ ہے اور آپس کی نفرت ایک دوسرے سے دوری اور اختلاف کا سبب ہے۔ (ابن تیمیہ: ۲؍ ۴۹۸)
سوال: دوستی کی اصل اور دشمنی کی اصل کیاہے؟
فَتَرَى ٱلَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٞ يُسَٰرِعُونَ فِيهِمۡ يَقُولُونَ نَخۡشَىٰٓ أَن تُصِيبَنَا دَآئِرَةٞۚ فَعَسَى ٱللَّهُ أَن يَأۡتِيَ بِٱلۡفَتۡحِ أَوۡ أَمۡرٖ مِّنۡ عِندِهِۦ فَيُصۡبِحُواْ عَلَىٰ مَآ أَسَرُّواْ فِيٓ أَنفُسِهِمۡ نَٰدِمِينَ ٥٢
(فَتَرَى ٱلَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم) جن کے دلوں میں بیماری ہے۔
یعنی: شک ،نفاق اور ایمان کی کمزوری کا روگ ہے ۔وہ کہتے ہیں: ہمارا ان سے دوستی کرنا دراصل ضرورت کے تحت ہے کیونکہ(نَخۡشَىٰٓ أَن تُصِيبَنَا دَآئِرَةٞۚ ) ہم ڈرتے ہیں کہ ہم کسی مصیبت کے پھیر میں نہ آجائیں۔
یعنی اگر ہم (ان یہود ونصاریٰ سے الگ تھلگ رہے اور) حالات کا چکر یہود ونصاریٰ کے حق میں ہوجائے اور غالب ہوگئے تو ایسی صورت میں ہماری دوستی کا یہ احسان ہمیں ان سے بچالیگااور وہ ہمارے ساتھ اچھا برتاؤ کریں گے۔
یہ اسلام کے ساتھ ان کا بہت برا گمان ہے ۔اللہ تعالیٰ نے ان کی اس بدگمانی کو دور کرتے ہوئے فرمایا: (فَعَسَى ٱللَّهُ أَن يَأۡتِيَ بِٱلۡفَتۡحِ) وہ وقت دور نہیں جب اللہ تمہیں (مسلمانوں ) کو فتح دیگا۔جس کے ذریعہ اللہ اسلام کو عزت اور غلبہ عطافرمادیگا۔(السعدی:۲۳۵)
سوال: آیت کے تناظر میں بتائیے کہ براگمان یا بدظنی کس طرح بڑی برائی تک لے جاتی ہے؟
فَتَرَى ٱلَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٞ يُسَٰرِعُونَ فِيهِمۡ يَقُولُونَ نَخۡشَىٰٓ أَن تُصِيبَنَا دَآئِرَةٞۚ فَعَسَى ٱللَّهُ أَن يَأۡتِيَ بِٱلۡفَتۡحِ أَوۡ أَمۡرٖ مِّنۡ عِندِهِۦ فَيُصۡبِحُواْ عَلَىٰ مَآ أَسَرُّواْ فِيٓ أَنفُسِهِمۡ نَٰدِمِينَ ٥٢
(نَٰدِمِينَ) وہ شرمندہ اور نادم ہوں گے۔ یعنی: منافقین اپنے طرز عمل (اور دورنگی پالیسی) پر پچھتائیں گے ،جس سے نہ ان کو کوئی فائدہ ملے گا اور نہ کسی نقصان سے بچ پائیں گے بلکہ ان کا منافقانہ عمل ہی ان کے لئے فساد کی جڑ اور مصیبت بن جائیگا کیونکہ وہ ذلیل اور رسوا ہوں گے ۔ اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کے سامنے ان کی اصلیت بے نقاب کردیگا ؛ جبکہ پہلے وہ چھپے ہوئے تھے اور ان کی اصل حالت وکیفیت لوگوں کو معلوم نہیں تھی ۔مگر اب ان کا پردہ فاش ہوجائیگا ۔چنانچہ جب ان کے اندرونی عیب اور خباثت کی گرہیں کھل جائیں گی تب اللہ کے مومن بندوں پر ان کا معاملہ کھل کر سامنے آجائیگا۔اس وقت مسلمان ان کے مکروفریب پر بڑا تعجب کریں گے اور کہیں گے کہ دیکھویہ کس طرح اپنے مومن ہونے کی نمائش اور مظاہرہ کرتے تھے ،اس پر قسمیں کھاتے تھے اور باتیں بناتے تھے ۔مگر اب ان کا جھوٹ،بناوٹ اور کھوٹ کھل گیا او ر ان کا بھانڈا پھوٹ گیا۔ (ابن کثیر: ۲؍۶۶)
سوال: جو شخص مسلمانوں کے خلاف کافروں سے دوستی کو ترجیح دے ،وہ آخرت سے پہلے دنیا میں بھی سزا پاتا ہے۔ اس کی وضاحت کیجیے.
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ مَن يَرۡتَدَّ مِنكُمۡ عَن دِينِهِۦ فَسَوۡفَ يَأۡتِي ٱللَّهُ بِقَوۡمٖ يُحِبُّهُمۡ وَيُحِبُّونَهُۥٓ أَذِلَّةٍ عَلَى ٱلۡمُؤۡمِنِينَ
(أَذِلَّةٍ) نرم اور مہربان ہوں گے۔یہ لفظ (أَذِلَّةٍ) “ ذلیل” کی جمع ہے اور چونکہ ان سچے مومنوں کی اس “ذلت” سے مراد رفق ونرمی ، عاجزی اور انکساری ہے ۔ اس سے رسوائی اور خواری مراد نہیں ہے اس لئے یہ “ذلت” حقیقت میں عزت ہے۔ (البقاعی: ۲؍ ۴۸۳)
سوال:آیت کریمہ میں مومنوں کے لئے ذلت اختیار کرنے سے کیا مرادہے؟
أَعِزَّةٍ عَلَى ٱلۡكَٰفِرِينَ
اللہ کے دشمنوں کے ساتھ سختی اور شدت کا برتاؤ کرنا ان چیزوں میں سے ہے جو بندے کو اللہ سے قریب کرتی ہیں کیونکہ اللہ اپنے دشمنوں پر غضبناک اور ناراض ہوتا ہے اس لئے بندۂ مومن ان سے سختی برت کر ان سے اپنے رب کی ناراضگی میں موافقت کرتا ہے ۔اور یہ بات ذہن نشین رہے کہ ان سے سختی اور شدت برتنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ انہیں دینِ اسلام کی طرف اچھے اور بہتر انداز میں دعوت نہ دی جائے یعنی یہ سختی انہیں اچھے ڈھنگ سے دعوت دینے میں رکاوٹ نہیں بنتی ۔اس طرح اللہ کے دشمنوں کے ساتھ برتاؤ میں سختی اور دعوت میں نرمی دونوں چیزیں اکٹھا ہوں گی ۔اور دونوں چیزوں میں خود ان کی مصلحت وبھلائی ہے اس لئے کہ ان دونوں رویوں کا فائدہ انہی کی طرف لوٹے گا۔ (السعدی: ۲۳۶)
سوال: کافرو ں پر ہم کب سختی کریں گے اور کب ان کے ساتھ نرمی برتیں گے؟
ذَٰلِكَ فَضۡلُ ٱللَّهِ يُؤۡتِيهِ مَن يَشَآءُۚ وَٱللَّهُ وَٰسِعٌ عَلِيمٌ ٥٤
اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و احسان سے مومنوں کو عالی شان خوبیاں عطافرمائی ہیں ۔یہ شاندارصفات اور خوبیاں بہت سے ایسے نیک کاموں کا سبب بنتی ہیں جن کا یہاں ذکر نہیں کیا گیا ۔اللہ نے جب ان جلیل القدر صفات اور اعلیٰ خوبیوں پر مومنوں کی تعریف کی تو (اس کے فوری بعد مذکورہ آیت میں ) اس بات کو جتایا اور یاد دہانی فرمائی کہ یہ سب کچھ ان مومنوں پر اللہ کا فضل اور اس کا احسان ہے ۔تاکہ وہ خود پسندی اور گھمنڈ میں مبتلا نہ ہوجائیں بلکہ اس ذات کا شکر اداکریں جس نے ان پر یہ احسان فرمایاہے ۔نتیجہ میں اللہ ان پر اپنے فضل وکرم کی اور زیادتی فرمائے ۔ اس لئے بھی کہ دوسروں کو یہ بات اچھی طرح معلوم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے بیچ کوئی رکاوٹ نہیں ہے ۔ (السعدی: ۲۳۶)
سوال:اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی صفات کا بیان اس بات سے کیوں ختم کیا کہ یہ صفات اللہ کے فضل سے ہیں‘‘؟