قرآن
ﮎ
ﰹ
ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ٧٠ ٧٠ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ
ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ
ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ٧١ ٧١ ﭾ
ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ
٧٢ ٧٢ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ
ﮓ ﮔ ﮕ ٧٣ ٧٣ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ
ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ
ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ
ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ
٧٤ ٧٤ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ
ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ
ﯵ ٧٥ ٧٥ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ
ﯾ ﯿ ﰀ ﰁ ﰂ ﰃ ﰄ ﰅ ﰆ
ﰇ ﰈ ﰉ ﰊ ﰋ ﰌ ﰍ ﰎ ٧٦ ٧٦
وَإِنَّآ إِن شَآءَ ٱللَّهُ لَمُهۡتَدُونَ
(گائے کے اوصاف وماہیت کے متعلق سوالات کرتے ہوئے)اگر انہوں نے (وَإِنَّآ إِن شَآءَ ٱللَّهُ لَمُهۡتَدُونَ)(اور بے شک اگر اللہ نے چاہا تو ہم ہدایت پاجائیں گے)ان شاء اللہ نہ کہاہوتا تووہ مطلوبہ گائے تک کبھی بھی نہیں پہنچتے۔(نہ انہیں مطلوبہ گائے ملتی ،نہ ہی اسے ذبح کرکے حکم کو پورا کرپاتے مگر ‘‘ان شاء اﷲ”کہنے سے راہ مل گئی۔)(ابن کثیر:۱؍۱۰۴)
سوال: ان شاء اﷲ کہنے پر موسیٰ( علیہ السلام )کی قوم کوکیا فائدہ ملا؟
قَالُواْ ٱلۡـَٰٔنَ جِئۡتَ بِٱلۡحَقِّۚ
(یعنی جب نہایت نایابصفت والی گائے کا مطالبہ ہوا تو انہوں نے کہا:اب آپ نے واضح اور معقول بات پیش کی ہے۔)یہ ان کی نادانی تھی،ورنہ پہلی ہی بار حق ان تک آچکا تھا ،وہ کوئی بھی گائے پیش کردیتے تو مقصود حاصل ہوجاتا ،لیکن انہوں نے کثرت ِسوال کے ذریعے سے تشدد اور سختی کی راہ اپنائی تو اللہ نے بھی ان پر سختی کی (یعنی پابندیاں بڑھادیں۔)(السعدی:۵۵)
سوال: موسیٰ( علیہ السلام )کی قو م کا (ٱلۡـَٰٔنَ جِئۡتَ بِٱلۡحَقِّۚ)(اب آپ حق بات لائے۔)کہنا کس بات پر دلالت کرتا ہے ؟
فَذَبَحُوهَا وَمَا كَادُواْ يَفۡعَلُونَ ٧١
(پس انہوں نے گائے ذبح کرلی اور قریب تھا کہ وہ ایسا نہیں کرپاتے۔)اپنی نافرمانی اوربے جا حجت کی وجہ سے ،یا پھرگائے کے بہت مہنگی ہونے کی وجہ سے۔کیونکہ یہ بات آئی ہے کہ وہ گائے ایک یتیم بچہ کی تھی اور انہوں نے گائے کے برابر سونا دیکر اسے خریدا تھا ۔یا ان کا گائے ذبح کرنا اس لئے مشکل تھا کہ اس صفت والی گائیں بہت کم پائی جاتی تھیں۔اور یہ بات مروی ہے کہ اگر وہ لوگ کوئی معمولی سی گائے بھی ذبح کردیتے تو ان کی طرف سے کافی ہوجاتی لیکن انہوں نے سختی برتی تو ان پر بھی سختیاں تھوپ دی گئیں۔(ابن جزی:۱؍۷۰)
سوال: سچے تقویٰ کے برخلاف جھوٹی پارسائی بندے کو مشقت میں مبتلاکردیتی ہے؟اس بات کو آیت کی روشنی میں بیان کیجئے؟
ثُمَّ قَسَتۡ قُلُوبُكُم مِّنۢ بَعۡدِ ذَٰلِكَ فَهِيَ كَٱلۡحِجَارَةِ أَوۡ أَشَدُّ قَسۡوَةٗۚ
پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کی سختی بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہ پتھر کی مانند ہیں۔جو لوہے سےبھی زیادہ سخت ہیں کیونکہ لوہے اور سیسے کو جب آگ میں پگھلایا جائے تو وہ پگھل جاتے ہیں برخلاف پتھر کے جو آگ میں بھی نہیں پگھلتا۔(السعدی:۵۵)
سوال: ان کے سخت دلوں کو پتھر سے تشبیہ کیوں دی گئی،لوہےسے تشبیہ کیوں نہیں دی گئی؟
ثُمَّ قَسَتۡ قُلُوبُكُم مِّنۢ بَعۡدِ ذَٰلِكَ فَهِيَ كَٱلۡحِجَارَةِ أَوۡ أَشَدُّ قَسۡوَةٗۚ
دل کی قوت ومضبوطی جو قابل تعریف ہے ،یہ اس سختی اورقساوت سے الگ چیز ہے جو قابل مذمت ہے لہٰذا مناسب ہے کہ دل مضبوط تو ہو مگر اس میں سختی نہ ہواور وہ نرم تو ہو مگر اس میں کمزوری نہ ہو۔(ابن تیمیہ:۱؍۲۴۳)
سوال: دل کی قوت اور اس کی سختی میں کیا فرق ہے؟
وَإِنَّ مِنَ ٱلۡحِجَارَةِ لَمَا يَتَفَجَّرُ مِنۡهُ ٱلۡأَنۡهَٰرُۚ وَإِنَّ مِنۡهَا لَمَا يَشَّقَّقُ فَيَخۡرُجُ مِنۡهُ ٱلۡمَآءُۚ وَإِنَّ مِنۡهَا لَمَا يَهۡبِطُ مِنۡ خَشْيَةِ ٱللَّهِ ٧٤
یقیناًکچھ پتھر ایسے ہیں جو تمہارے دلوں سے زیادہ فائدہ مند ہیں کیونکہ ان سے (نہریں پھوٹتی اور بہتی ہیں اور)پانی نکلتا ہے اور (خوف الٰہی سے لرزکر)گرپڑتے ہیں۔
مجاہد( رحمہ اللہ) کہتے ہیں: ‘‘کسی پہاڑ کی چوٹی سے جو پتھر گرتا ہے ،یاکسی پتھر سے چشمہ پھوٹتا ہے اور اس سے پانی نکلتاہے تو اس کی وجہ اللہ کا ڈر ہی ہے،جیسا کہ قرآن نے اسے بیان کیا ہے”۔(القرطبی:۲؍۲۰۸)
سوال: آیت کی روشنی میں بتائیے کہ کس طرح بعض پتھر ،سخت دلوں سے زیادہ مفید ہوتے ہیں؟
أَفَتَطۡمَعُونَ أَن يُؤۡمِنُواْ لَكُمۡ وَقَدۡ كَانَ فَرِيقٞ مِّنۡهُمۡ يَسۡمَعُونَ كَلَٰمَ ٱللَّهِ ثُمَّ يُحَرِّفُونَهُۥ مِنۢ بَعۡدِ مَا عَقَلُوهُ وَهُمۡ يَعۡلَمُونَ ٧٥
(مِنۢ بَعۡدِ مَا عَقَلُوهُ)یعنی اسے بخوبی جاننے اور سمجھنے کے بعد(کہ یہ اللہ کا کلام ہے ،پھر بھی خرد برد سے باز نہیں آئے۔ )اس میں ان کے لئے سرزنش ہے۔مطلب یہ ہے کہ یہودیوں کے آباء واجداد نے ماضی میں برے کرتوت کئے اور سرکشی دکھائی چنانچہ آج کے یہودی انہی کی روش پر قائم ہیں ۔پھر تم کیسے ان کے ایمان کی آس لگائے بیٹھے ہو؟
اس کلام میں یہ دلیل بھی ہے کہ وہ عالِم جو حق کو جانتا ہے پھر بھی ہٹ دھرمی کے ساتھ اس کی مخالفت کرتا ہے تو وہ رشد وہدایت سے دور اور محروم ہوجاتا ہے۔اس لئے کہ وہ وعدوں اور وعیدوں کو جانتا توہے لیکن اس کا یہ علم اسے حق کی مخالفت اورسرکشی سے باز نہیں رکھ سکا۔(القرطبی:۲؍۲۱۳)
سوال: جاہل اور سرکش عالم ،ان دونوں میں ہدایت سے قریب تر کون ہے ؟