قرآن
ﮩ
ﱍ
ﭙ ﭚ ﭛ ﭜ ﭝ ٥٣ ٥٣ ﭟ ﭠ
ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ٥٤ ٥٤ ﭦ ﭧ ﭨ
ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ
٥٥ ٥٥ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ
٥٦ ٥٦ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ٥٧ ٥٧ ﮆ
ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ
ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ٥٨ ٥٨ ﮙ
ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ٥٩ ٥٩ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ
ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ٦٠ ٦٠ ﮭ
ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ
ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ٦١ ٦١ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ
ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ٦٢ ٦٢ ﯭ ﯮ
ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ
ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ ﰁ ﰂ ﰃ ﰄ ٦٣ ٦٣
يَوۡمَ يَغۡشَىٰهُمُ ٱلۡعَذَابُ مِن فَوۡقِهِمۡ وَمِن تَحۡتِ أَرۡجُلِهِمۡ
جہنم كى آگ انہیں ہر طرف سے گھیركر ركھے گى ، اور یہ حسّی عذاب كى انتہا ہے۔ (ابن كثیر: 3؍404)
سوال: عذاب جہنم كو اس طرح كیوں بیان كیا گیا كہ انہیں اوپر اور نیچے ہر طرف سے گھیر كر ركھےگا؟
وَيَقُولُ ذُوقُواْ مَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ ٥٥
اور یہ معنوى عذاب ہوگا جو ان كے دلوں پر اثر كرےگا۔ (ابن كثیر: 3؍404)
سوال: اس طرح كى بات جہنمیوں سے كیوں كہى جائےگى؟
يَٰعِبَادِيَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِنَّ أَرۡضِي وَٰسِعَةٞ فَإِيَّٰيَ فَٱعۡبُدُونِ ٥٦
اگر كسى جگہ تمہارے رب كى عبادت کرنا محال ہوجائے تو وہاں سے كسى ایسى جگہ ہجرت كرجاؤ جہاں بلاشرکت غیر الله كى عبادت ممكن ہو، پس عبادت كى جگہیں بہت كشاده ہیں اور معبود برحق صرف ایك ہے۔(السعدى: 634)
سوال: مومنوں كو اس طرح كى خبر دینے سے كیا مراد ہے كہ الله كى زمین بڑى كشاده ہے؟
يَٰعِبَادِيَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِنَّ أَرۡضِي وَٰسِعَةٞ فَإِيَّٰيَ فَٱعۡبُدُونِ ٥٦ كُلُّ نَفۡسٖ ذَآئِقَةُ ٱلۡمَوۡتِۖ ثُمَّ إِلَيۡنَا تُرۡجَعُونَ ٥٧
یہاں الله تعالىٰ نے موت كا ذكر دنیا اور اسكے پرخطر معاملات كى حقارت كو بتانے كیلئے كیا ہے كہ بعض مومنین یہ سمجھتےہیں كہ اپنے وطن مكہ سے اگر نكل كر دوسرى جگہ جائیں گے تو انہیں موت ، بھوك یا اس طرح كے دیگر خطرات كا سامنا ہوسكتا ہے ، اسى لئے الله نے دنیا كو حقیر بنا كر پیش كیا ، یعنى تمہیں ہر حال میں مركر ہمارى طرف آنا ہے، اس لئے الله كى اطاعت، اسكى طرف ہجرت اور اسكے احكامات كى بجاآورى میں جلدى کرو۔ (القرطبى: 16؍382)
سوال: اس شخص كو آپ كیا جواب دیں گے جو یہ كہے كہ اگر میں معصیت كى اس جگہ سے نكل كر چلاجاؤں جہاں میرى روزى روٹى كا ٹھكانہ ہے ، تو میرا كیا ہوگا؟
وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ لَنُبَوِّئَنَّهُم مِّنَ ٱلۡجَنَّةِ غُرَفٗا تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَاۚ نِعۡمَ أَجۡرُ ٱلۡعَٰمِلِينَ ٥٨
یہاں بھى مقصد مومنوں كى ان پریشانیوں كو ہلكا دكھانا ہے جو وه الله كى راه میں جھیلتےہیں – گرچہ وه مصیبت موت ہى كى صورت میں كیوں نہ ہو- الله كى طرف سے اس انعام وفضل اور ہمیشگى كى جنت كے مقابلے میں جس کا انہیں انتظار ہے۔ (ابن عاشور: 21؍23)
سوال: آیت كى روشنى میں اس بات كو واضح كیجئے كہ مومن جن مصیبتوں كو جھیلتا ہے وه اس اجر وثواب كے مقابلے بہت ہلكا ہے جس کا اسے انتظار ہے.
وَكَأَيِّن مِّن دَآبَّةٖ لَّا تَحۡمِلُ رِزۡقَهَا ٱللَّهُ يَرۡزُقُهَا وَإِيَّاكُمۡۚ وَهُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلۡعَلِيمُ ٦٠
یعنى كتنے ایسے كمزور جاندار ہیں جو اپنى روزى خود حاصل نہیں كرسكتے ، لیكن الله تعالىٰ ان كى كمزورى کے باوجود انہیں روزى دے رہا ہے، چنانچہ اس آیت سے مقصد مومنوں كے دلوں كو مضبوط كرنا ہے اس وقت جب انہیں ہجرت كر كے دوسروں كے پاس جانے میں فقروفاقے اور بھوك كا خوف ہو، یعنى جس طرح الله تعالىٰ كمزور جانداروں كو رزق دیتا ہے اسى طرح تمہیں بھى رزق دےگا جب تم اپنے علاقے سے ہجرت كرو گے۔ (ابن جزى: 2؍162)
سوال: اس آیت میں مومنوں كے دلوں كیلئے مضبوطى اوران کے نفس کا تزكیہ ہے ، اس كى وضاحت كیجئے.
وَكَأَيِّن مِّن دَآبَّةٖ لَّا تَحۡمِلُ رِزۡقَهَا ٱللَّهُ يَرۡزُقُهَا وَإِيَّاكُمۡۚ وَهُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلۡعَلِيمُ ٦٠
(الله يرزقها وإياكم) رزق كے حریص اور اس كے بارےمیں الله پر بھروسہ كرنے والے، زیادتى كے طالب اور قناعت پسند ، حیلہ ساز اور عاجز سب کو
الله تعالىٰ نے برابر كردیا ہےتاكہ كوئى مضبوط بدن والا یہ نہ سمجھ بیٹھے كہ اسے اس کی رزق اس کےطاقت ور ہونے كى بنیاد پر مل رہى ہے اور كمزور یہ نہ تصور كرے كہ اسے اسكى عاجزى كى وجہ سےکم روزی مل رہی ہے۔ (القرطبى: 16؍386)
سوال: كیا كسى كے زیاده حرص كرنے سے اس کے رزق میں اضافہ ہوجاتا ہے ؟