قرآن
ﮒ
ﰿ
ﭚ ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ
ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ٦٠ ٦٠ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ
ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ
ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ٦١ ٦١ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ
ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ٦٢ ٦٢ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ
ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ
ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ٦٣ ٦٣ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ
ﮣ ﮤ ﮥ ٦٤ ٦٤ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ
ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ
ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ٦٥ ٦٥ ﯥ
ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ٦٦ ٦٦ ﯰ ﯱ
ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ٦٧ ٦٧ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ
ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ ﰁ ﰂ ﰃ ﰄ ﰅ ﰆ
ﰇ ﰈ ﰉ ﰊ ﰋ ﰌ ﰍ ﰎ ٦٨ ٦٨
وَهُوَ أَسۡرَعُ ٱلۡحَٰسِبِينَ ٦٢
(اللہ کے حساب میں دیر ہونے کا سوال ہی نہیں اٹھتا)اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک تو اللہ کا علم کامل ہے ۔دوسرااللہ نے ان کے اعمال کو محفوظ کررکھا ہے ۔ یعنی اس نے لوح محفوظ میں سب کچھ لکھ رکھا ہے ،پھر فرشتوں نے ان کے ایک ایک عمل کونامہ اعمال میں درج کررکھاہے جو ان کے ہاتھوں میں ہے۔ (السعدی: ۲۵۹)
سوال:اللہ اپنے بندوں سے جلد حساب لینے والا ہے ۔اس بارے میں اللہ کی عظمت کیا ہے؟بیان کیجئے.
قُلۡ مَن يُنَجِّيكُم مِّن ظُلُمَٰتِ ٱلۡبَرِّ وَٱلۡبَحۡرِ تَدۡعُونَهُۥ تَضَرُّعٗا وَخُفۡيَةٗ لَّئِنۡ أَنجَىٰنَا مِنۡ هَٰذِهِۦ لَنَكُونَنَّ مِنَ ٱلشَّٰكِرِينَ ٦٣
(لَنَكُونَنَّ مِنَ ٱلشَّٰكِرِينَ) تو پھر ہم ضرور اس کے شکر گذاربندے بن جائیں گے۔شکر کا مطلب ہے: نعمت کو پہچاننا اور اس کاپورا حق ادا کرنا۔ (البغوی: ۲؍ ۳۰)
سوال: اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا پورا شکرکس طرح ادا ہوسکتا ہے؟
قُلۡ مَن يُنَجِّيكُم مِّن ظُلُمَٰتِ ٱلۡبَرِّ وَٱلۡبَحۡرِ تَدۡعُونَهُۥ تَضَرُّعٗا وَخُفۡيَةٗ لَّئِنۡ أَنجَىٰنَا مِنۡ هَٰذِهِۦ لَنَكُونَنَّ مِنَ ٱلشَّٰكِرِينَ ٦٣ قُلِ ٱللَّهُ يُنَجِّيكُم مِّنۡهَا وَمِن كُلِّ كَرۡبٖ ثُمَّ أَنتُمۡ تُشۡرِكُونَ ٦٤
اللہ تعالیٰ نے انہیں اس بات پرڈانٹا ہے کہ وہ مصیبتوں اور سختیوں میں تو صرف اسی کو پکارتے ہیں لیکن خوشحالی میں اللہ کے ساتھ دوسروں کوبھی پکارنے لگتے ہیں۔ (القرطبی: ۸؍۴۱۲)
سوال: آیت کریمہ کے تناظر میں بیان کیجئے کہ فریاد طلب کرنے کے بارے میں مشرکین کے یہاں کیسا تضاد ہے؟
أَوۡ يَلۡبِسَكُمۡ شِيَعٗا وَيُذِيقَ بَعۡضَكُم بَأۡسَ بَعۡضٍۗ
(أَوۡ يَلۡبِسَكُمۡ شِيَعٗا) یا تمہیں فرقہ فرقہ بنادے۔
اس کا مطلب یہ بتایا گیا ہے کہ:اللہ تمہیں اس طرح گروہوں میں بانٹ دیگا کہ ایک گروہ دوسرے گروہ سے لڑتا بھڑتا رہے ۔ یہ اس طرح ہوگا کہ ان کے معاملے کو مشتبہ اور خلط ملط کردیگا اور دنیا کی چاہت میں ان کے اُمراء وحکام کے درمیان اختلاف وانتشار ہوگا۔ اور یہی اس فرمان کا مطلب ہے: (وَ يُذِيْقَ بَعْضَكُمْ بَاْسَ بَعْضٍ)اور تمہیں ایک دوسرے گروہ کی شدت کا مزہ چکھائیگا۔ یعنی اللہ تعالیٰ ایسی حالت کردیگا کہ فتنہ وفساد میں پڑکر تم آپس میں جنگ وجدال کروگے اور ایک دوسرے کو قتل کرکے اذیتوں کا مزہ چکھوگے۔ (القرطبی: ۸؍۴۱۴)
سوال: معاشرے کے مختلف طبقوں کے درمیان معاملہ خلط ملط ہوجانے سے کس طرح سزا ہوتی ہے؟
وَإِذَا رَأَيۡتَ ٱلَّذِينَ يَخُوضُونَ فِيٓ ءَايَٰتِنَا فَأَعۡرِضۡ عَنۡهُمۡ حَتَّىٰ يَخُوضُواْ فِي حَدِيثٍ غَيۡرِهِۦۚ وَإِمَّا يُنسِيَنَّكَ ٱلشَّيۡطَٰنُ فَلَا تَقۡعُدۡ بَعۡدَ ٱلذِّكۡرَىٰ مَعَ ٱلۡقَوۡمِ ٱلظَّٰلِمِينَ ٦٨
اگر شیطان تمہارے ذہنوں سے یہ ممانعت بھلادے کہ اللہ کی آیتوں میں نکتہ چینیاں اور مخالفانہ کوششیں کرنے والوں سے الگ رہنا چاہئے ،تو جیسے ہی یہ ممانعت یاد آجائے توان کے پاس سے نکل پڑواوریاد آجانے کے بعد ان کے ساتھ نہ بیٹھو۔ (ابن جزی: ۱؍ ۲۷۴)
سوال: اس شخص کو آپ کیا نصیحت کریں گے جو اللہ کی آیتوں میں عیب نکالنے والوں کے ساتھ رہتا اور ان کی مجلسوں میں بیٹھتا ہے اور اس کے جواز پر یہ دلیل دیتا ہے کہ ‘‘میں غور وفکر اور سمجھنے کے لئے ایسا کرتا ہوں’’؟
وَإِذَا رَأَيۡتَ ٱلَّذِينَ يَخُوضُونَ فِيٓ ءَايَٰتِنَا فَأَعۡرِضۡ عَنۡهُمۡ حَتَّىٰ يَخُوضُواْ فِي حَدِيثٍ غَيۡرِهِۦۚ وَإِمَّا يُنسِيَنَّكَ ٱلشَّيۡطَٰنُ فَلَا تَقۡعُدۡ بَعۡدَ ٱلذِّكۡرَىٰ مَعَ ٱلۡقَوۡمِ ٱلظَّٰلِمِينَ ٦٨
جو شخص اللہ کی آیتوں میں عیب جوئی اور نکتہ چینی کرے ‘اس کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ترک کردیا جائیگا اور اس سے قطع تعلق کیا جائیگا چاہے وہ مومن ہو یا کافر۔
(القرطبی: ۸؍۴۱۹)
سوال: جو شخص بدعات اور شکوک وشبہات پیش کرے۔اس کے بارے میں ہمارا کیارویہ اورطرز عمل ہونا چاہئے؟
وَإِمَّا يُنسِيَنَّكَ ٱلشَّيۡطَٰنُ فَلَا تَقۡعُدۡ بَعۡدَ ٱلذِّكۡرَىٰ مَعَ ٱلۡقَوۡمِ ٱلظَّٰلِمِينَ ٦٨
خیر وبھلائی کابھول جاناشیطان کی طرف سے ہوتا ہےجیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: (وَإِمَّا يُنسِيَنَّكَ ٱلشَّيۡطَٰنُ فَلَا تَقۡعُدۡ بَعۡدَ ٱلذِّكۡرَىٰ مَعَ ٱلۡقَوۡمِ ٱلظَّٰلِمِينَ) اور اگر ایسا ہو کہ شیطان تمہیں بھلادے تو چاہئے کہ یاد آجانے کے بعد ایسے لوگوں میں نہ بیٹھو جو ظلم کرنے والے ہیں۔ (ابن تیمیہ: ۳؍ ۳۲)
سوال:بندہ خیر وبھلائی کو کیسے بھول جاتا ہے؟