قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے

ﮝ

ﱇ

ﭑ ﭒ ﭓ ﭔ ﭕ ﭖ ٥٠ ٥٠ ﭘ ﭙ ﭚ ﭛ ﭜ
ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ
ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ
ﭳ ﭴ ٥١ ٥١
ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ
ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ٥٢ ٥٢
ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ
ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ
ﮑ ٥٣ ٥٣
ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ
ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ٥٤ ٥٤
ﮤ ﮥ
ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ
ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ٥٥ ٥٥
ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ
ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ٥٦ ٥٦
ﯥ
ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ
ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ
ﯷ ٥٧ ٥٧
ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ ﰁ
ﰂ ﰃ ﰄ ﰅ ﰆ ﰇ ﰈ ﰉ ﰊ ﰋ ٥٨ ٥٨
287
سورۃ الإسراء آیات 0 - 51

وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هُوَۖ قُلۡ عَسَىٰٓ أَن يَكُونَ قَرِيبٗا ٥١

قیامت کے وقت کی تعیین کا کوئی فائدہ نہیں۔اس کا فائدہ اور اس کا دارومدار تو اس کے اقرار،اس کی تحقیق اور اس کے اِثبات میں ہے ورنہ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح اسے ضرور آنا ہے اس اعتبار سے وہ قریب ہی ہے۔(السعدی: ۴۶۰)
سوال:مشرکو ں کا قیامت کے وقت کے بارے میں سوال بے محل ہے۔ایسا کیوں؟

سورۃ الإسراء آیات 0 - 52

يَوۡمَ يَدۡعُوكُمۡ فَتَسۡتَجِيبُونَ بِحَمۡدِهِۦ وَتَظُنُّونَ إِن لَّبِثۡتُمۡ إِلَّا قَلِيلٗا ٥٢

کیونکہ انسان اگر دنیا میں اور قبر میں ہزاروں سال ٹھہرارہے تو وہ اسے قیامت کی مدت کے مقابلہ میں تھوڑاہی شمار کیا جائیگا۔امام قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: قیامت کے مقابلہ میں یہ لوگ دنیا کی مدت کو بہت حقیر سمجھیں گے۔ (البغوی: ۲؍۶۸۷)
سوال:قیامت کے دن بندہ ایسا کیوں سمجھے گا کہ دنیا میں وہ بہت تھوڑا رہا؟

سورۃ الإسراء آیات 0 - 53

وَقُل لِّعِبَادِي يَقُولُواْ ٱلَّتِي هِيَ أَحۡسَنُۚ

اگر دو اچھے امور درپیش ہوں اور ان دونوں میں جمع وتطبیق ممکن نہ ہو تو ان میں جو بہتر ہو اس کو ترجیح دی جائے اور اچھی بات ہمیشہ اچھے اخلاق او ر عمل صالح کی دعوت دیتی ہے اس لئے جسے اپنی زبان پر قابو ہے اس کے تمام معاملات اس کے اختیار میں ہیں۔ (السعدی؍۴۶۰)
سوال:بہتر اور سب سے بہتر قول کے درمیان کیا فرق ہے؟اور ہمیں کس کا حکم دیا گیا ہے؟

سورۃ الإسراء آیات 0 - 53

وَقُل لِّعِبَادِي يَقُولُواْ ٱلَّتِي هِيَ أَحۡسَنُۚ إِنَّ ٱلشَّيۡطَٰنَ يَنزَغُ بَيۡنَهُمۡۚ

یعنی شیطان بندوں کے دین ودنیا خراب کرکے ان کے درمیان فساد پھیلانا چاہتا ہے۔اور اس فساد کی دوا یہ ہے کہ وہ بری باتوں میں شیطان کی پیروی نہ کریں جن کی طرف شیطان دعوت دیتا ہے۔اور آپس میں نرم رویہ اختیار کریں تاکہ شیطان کی ریشہ دوانیوں کا قلع قمع ہو جو اُن کے درمیان فساد کا بیج بوتا رہتا ہے اس لئے کہ شیطان ان کا حقیقی دشمن ہے او ر ان پر لازم ہے کہ وہ شیطان کے خلاف برابر لڑائی کرتے رہیں۔ (السعدی؍۴۶۰)
سوال:آپ کے اور لوگو ں کے بیچ دوران گفتگو شیطان مداخلت کرتا رہتا ہے۔ آپ اس کا علاج کیسے کریں گے؟

سورۃ الإسراء آیات 0 - 53

وَقُل لِّعِبَادِي يَقُولُواْ ٱلَّتِي هِيَ أَحۡسَنُۚ إِنَّ ٱلشَّيۡطَٰنَ يَنزَغُ بَيۡنَهُمۡۚ إِنَّ ٱلشَّيۡطَٰنَ كَانَ لِلۡإِنسَٰنِ عَدُوّٗا مُّبِينٗا ٥٣

اس تعلق سے ادب سکھانے کا سب سے اہم مقصد یہ ہے کہ امت آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ حسن سلوک اور نرم گفتگو سے پیش آئے کیونکہ بات ہی سے مقصد کا پتہ چلتا ہے۔پھر اس بارے میں بھی ادب سکھایا گیا ہے کہ مشرکوں سے بحث ومباحثہ کرتے وقت ایسی باتوں سے اجتناب کریں جن سے لڑائی جھگڑا یا نفرت کا اندیشہ ہو او ر اس کی وجہ سے مشرکوں کی ہٹ دھرمی مزید بڑھ جائے او ر پھر یہی ان کے اور ان کے دشمن کے درمیان شیطان کا کچوکا بن جائے۔ (ابن عاشور: ۱۵؍۱۳۲)
سوال:آیت میں سب سے اہم مقصد کیا ہے؟

سورۃ الإسراء آیات 0 - 57

أُوْلَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ يَدۡعُونَ يَبۡتَغُونَ إِلَىٰ رَبِّهِمُ ٱلۡوَسِيلَةَ أَيُّهُمۡ أَقۡرَبُ وَيَرۡجُونَ رَحۡمَتَهُۥ وَيَخَافُونَ عَذَابَهُۥٓۚ

خوف ورجاء یعنی ڈر اور امید کے بغیر عبادت پوری نہیں ہوتی چنانچہ خوف کی وجہ سے بندہ منع کردہ چیزوں سے باز رہتا ہے اور امید کی وجہ سے نیک کام
کثرت سے کرتا ہے۔(ابن کثیر: ۳؍۴۶)
سوال:مومن کی زندگی میں خوف ورجاء کی کیا اہمیت ہے؟

سورۃ الإسراء آیات 0 - 58

وَإِن مِّن قَرۡيَةٍ إِلَّا نَحۡنُ مُهۡلِكُوهَا قَبۡلَ يَوۡمِ ٱلۡقِيَٰمَةِ أَوۡ مُعَذِّبُوهَا عَذَابٗا شَدِيدٗاۚ كَانَ ذَٰلِكَ فِي ٱلۡكِتَٰبِ مَسۡطُورٗا ٥٨

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب بھی زنا اور سود جیسی مہلک بیماریاں کسی بستی میں ظاہر ہوتی ہیں تو اللہ انہیں ہلاک کردیتا ہے۔(القرطبی: ۱۳؍۱۰۷)
سوال:اللہ تعالیٰ بستیوں کو کب ہلاک کرتا ہے؟