قرآن
ﮒ
ﰿ
ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ
ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ
ﭱ ﭲ ﭳ ٤٦ ٤٦ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ
ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ٤٧ ٤٧ ﮄ
ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ
ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ٤٨ ٤٨ ﮕ ﮖ ﮗ
ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ٤٩ ٤٩ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ
ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ
ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ
ﯜ ﯝ ٥٠ ٥٠ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ
ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ
٥١ ٥١ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ
ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ ﰁ ﰂ ﰃ
ﰄ ﰅ ﰆ ﰇ ﰈ ﰉ ﰊ ٥٢ ٥٢
فَقُطِعَ دَابِرُ ٱلۡقَوۡمِ ٱلَّذِينَ ظَلَمُواْۚ وَٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ ٤٥
اللہ تعالیٰ نے اپنی قضاء وقدر کے مطابق حق کو جھٹلانے والوں کے لئے جو تباہی کافیصلہ کیا ہے اس پر ہر طرح کی تعریف اللہ کے لئے ہی ہے جو تمام کائنات کا رب ہےکیونکہ اس کے ذریعہ کئی فائدے حاصل ہوتے ہیں،جیسے :اس کی نشانیاں اور آیتیں واضح ہوجاتی ہیں ،اس کی باتیں حق ثابت ہوتی ہیں ،اللہ کی جانب سے اس کے دوستوں کی عزت افزائی ہوتی ہے جبکہ اس کے دشمنوں کو رسوائی ملتی ہے ،نیز رسولوں کی لائی ہوئی تعلیمات وشریعت کی سچائی معلوم ہوتی ہے۔ (السعدی: ۲۵۶)
سوال: مشرکین کو عذاب دینے کے مضمون والی آیتوں کو حمد وتعریف کے ساتھ ختم کرنے کی کیا وجہ ہے؟
فَقُطِعَ دَابِرُ ٱلۡقَوۡمِ ٱلَّذِينَ ظَلَمُواْۚ وَٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ ٤٥
ان تمام باتوں میں اس بات پر تنبیہ اور آگاہی ہے کہ ظالموں کی ہلاکت وبربادی پر اللہ تعالیٰ حمد وتعریف کا حقدار ہے اس لئے کہ ان کے ہلاک ہوجانے میں دوسرے تمام لوگوں کی بھلائی اور بہتری ہے ۔اور صلاح ودرستگی بہت ہی عظیم نعمت ہے اور نعمت کا شکر ادا کرنا واجب ہے چنانچہ آیت میں اللہ کی یہ حمد وتعریف اس کا شکرانہ ہے اس لئے کہ یہ ایک نعمت کے جواب میں ہے ۔ (ابن عاشور:۷؍۲۳۲)
سوال: ظالموں کا ہلاک وبرباد ہونا اللہ کی ایک نعمت ہے ۔اس بات کی وضاحت کیجئے.
فَقُطِعَ دَابِرُ ٱلۡقَوۡمِ ٱلَّذِينَ ظَلَمُواْۚ وَٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ ٤٥
ظالموں کی جڑ کاٹ دینے پر اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کی تعریف فرمائی ہے اس لئے کہ یہ رسولوں کے حق میں اللہ کا انعام و احسان تھا۔ چنانچہ اس مقام پر (ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ) کہہ کر اور اللہ کی تعریف بیان کرکے رسولوں کو اور ان کے ماننے والوں کو تعلیم دینا مقصود ہے کہ ظالموں کے شر سے اللہ کے کافی ہوجانے پر وہ اس کی حمد وتعریف بیان کریں۔ (البغوی: ۲؍ ۲۲)
سوال: جب ہم دیکھیں کہ اللہ نے ظالموں کو ہلاک کردیا ہے اس وقت ہمارے لئے شرعی حکم کیا ہے؟
قُلۡ أَرَءَيۡتُمۡ إِنۡ أَخَذَ ٱللَّهُ سَمۡعَكُمۡ وَأَبۡصَٰرَكُمۡ وَخَتَمَ عَلَىٰ قُلُوبِكُم مَّنۡ إِلَٰهٌ غَيۡرُ ٱللَّهِ يَأۡتِيكُم بِهِۗ ٱنظُرۡ كَيۡفَ نُصَرِّفُ ٱلۡأٓيَٰتِ ثُمَّ هُمۡ يَصۡدِفُونَ ٤٦
‘‘تصریف الآیات’’ یعنی باربار آیات کو بیان کرنے اور دہرانے کا مطلب ہے : مختلف طریقوں سے بیان کرنا ،الگ الگ انداز میں پیش کرنا ۔ یہ اس طرح کہ کبھی آسمانوں اور زمین کے مشاہدے کی دلیلیں بیان کی گئی ہیں،کہیں لوگوں کے جسم وجان میں موجود دلیلوں کی حجت پیش کی گئی ہے اور کسی جگہ پچھلے زمانوں میں اللہ کی پیدا کردہ قوموں کے حالات بطوردلیل پیش کئے گئے ہیں۔ (ابن عاشور: ۷؍۲۳۵)
سوال: آیت میں مذکور ‘‘تصریف الآیات’’ کس طرح ہوتا ہے؟
وَأَنذِرۡ بِهِ ٱلَّذِينَ يَخَافُونَ أَن يُحۡشَرُوٓاْ إِلَىٰ رَبِّهِمۡ
یہ قرآن ساری مخلوق کے لئے ڈرانے والا اور تنبیہ کرنے والا ہے لیکن اس سے صرف وہی لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں (ٱلَّذِينَ يَخَافُونَ أَن يُحۡشَرُوٓاْ إِلَىٰ رَبِّهِمۡ ) جو اس بات سے ڈرتے ہیں کہ انہیں اپنے رب کے حضور اکٹھا کیا جائیگا۔
یعنی وہ پکا یقین رکھتے ہیں کہ انہیں دنیا کے اس عارضی گھر سے آخرت کے دائمی گھر کی طرف منتقل ہونا ہی ہے ۔ نتیجہ میں وہی چیزیں اختیار کرتے ہیں جو انہیں فائدہ پہنچاتی ہوں اور نقصان دینے والی چیزوں کو چھوڑدیتے ہیں۔(السعدی: ۲۵۷)
سوال: ڈرانے کو صرف ان لوگوں کے ساتھ خاص کیوں کیا گیا ہے جو حشر یعنی قیامت کے دن اکٹھا کئے جانے سے ڈرتے ہیں؟
وَلَا تَطۡرُدِ ٱلَّذِينَ يَدۡعُونَ رَبَّهُم بِٱلۡغَدَوٰةِ وَٱلۡعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجۡهَهُۥۖ
دعاء ومناجات کے لئے صبح اورشام کے وقت کو خاص طورپرذکرفرمایاہے اس لئے کہ ان اوقات میں عام طور پر لوگ اپنے کاموں میں بہت زیادہ مشغول ہوتے ہیں ،چنانچہ جو شخص کام کی مشغولیت کے وقت میں عبادت کی طرف متوجہ ہوتا ہو وہ فرصت وفراغت کے وقت میں مصروفیت کے مقابل زیادہ عمل کرنے والا ہوگا۔ (القرطبی: ۸؍۳۸۹)
سوال: اللہ سبحانہ نے صبح اور شام کے وقت کو خاص طور پر کیوں ذکر فرمایاہے؟
وَلَا تَطۡرُدِ ٱلَّذِينَ يَدۡعُونَ رَبَّهُم بِٱلۡغَدَوٰةِ وَٱلۡعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجۡهَهُۥۖ مَا عَلَيۡكَ مِنۡ حِسَابِهِم مِّن شَيۡءٖ وَمَا مِنۡ حِسَابِكَ عَلَيۡهِم مِّن شَيۡءٖ فَتَطۡرُدَهُمۡ فَتَكُونَ مِنَ ٱلظَّٰلِمِينَ ٥٢
یہ آیت بلال،عمار بن یاسر،عبداللہ بن مسعود،خبّاب اور صُہیب رضی اللہ عنہم جیسے کمزور مومنین کے بارے میں نازل ہوئی۔ واقعہ یہ ہوا کہ : قریش کے بعض مشرکین نے نبی ﷺ سے کہا کہ: ہم اپنے الگ شرف و مقام کی بنا پر ان کمتر لوگوں کے ساتھ میل جول نہیں رکھ سکتے۔اب اگر آپ ان لوگوں کو اپنے پاس سے ہٹادیں تو ہم آپ کی اتباع کے لئے تیار ہیں۔ (ابن جُزی: ۱؍ ۲۷۱)
سوال: یہ آیت مدعو افراد کے ساتھ سلوک و تعامل کے دعوتی و منہج وطریقہ کار کی نشاندہی کرتی ہے ۔ اسے بیان کیجئے.