قرآن
ﮚ
ﱅ
ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ٣٤ ٣٤ ﭣ ﭤ ﭥ
ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ
ﭯ ٣٥ ٣٥ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ
ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ٣٦ ٣٦ ﮃ
ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ
ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ
ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ
٣٧ ٣٧ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ
ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ٣٨ ٣٨ ﯓ ﯔ ﯕ
ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ
ﯠ ٣٩ ٣٩ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ
ﯪ ﯫ ٤٠ ٤٠ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ
ﯲ ﯳ ﯴ ٤١ ٤١ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ
ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ ﰁ ﰂ ﰃ ٤٢ ٤٢
وَءَاتَىٰكُم مِّن كُلِّ مَا سَأَلۡتُمُوهُۚ وَإِن تَعُدُّواْ نِعۡمَتَ ٱللَّهِ لَا تُحۡصُوهَآۗ
(لا تحصوها) تم انہیں شمار نہیں کرسکوگے۔تم ان نعمتوں کو گننے کی طاقت نہیں رکھتے اور نہ ہی تمہارے پاس انہیں حصر و احاطہ کرنے کی قوت ہے اس لئے کہ یہ بہت زیادہ اور بے شمار ہیں جیسے کان،آنکھ،شکل وصورت کو درست اور ٹھیک ٹھاک کرنا۔اس کے علاوہ بہت ساری نعمتیں جیسے صحت وعافیت اور روزی وغیرہ۔اتنی ساری نعمتیں جن کو شمار نہیں کیا جاسکتا۔ (القرطبی: ۱۲؍۱۴۵)
سوال:آپ پر اللہ کی جونعمتیں ہیں کیا آپ ان کو گن سکتے ہیں اور کیوں؟
وَإِذۡ قَالَ إِبۡرَٰهِيمُ رَبِّ ٱجۡعَلۡ هَٰذَا ٱلۡبَلَدَ ءَامِنٗا
اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کی دعا قبول فرمائی،شرعاً بھی اور قدراً بھی۔ چنانچہ اللہ نے شریعت میں شہر مکہ کو حرمت والا بنادیا اور تقدیر کے لحاظ سے اس کے مامون و محفوظ رہنے کا فیصلہ فرمادیا اور اس کی حرمت کے ایسے اسباب فراہم کردئیے جو سب کو معلوم ہیں لہٰذا جب بھی کسی ظالم نے حرم مکی کے ساتھ برائی کا ارادہ کیا تو اللہ نے اسے توڑپھوڑکر رکھ دیا،ہلاک وبرباد کردیا جیسا کہ اصحاب فیل یعنی ابرہہ کے لشکر ہاتھی والوں کے ساتھ اور دوسروں کے ساتھ بھی ہوچکا ہے۔ (السعدی؍۴۲۶)
سوال: اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کی دعا قبول فرمائی۔ اس قبولیت کی کیا شکلیں ہیں؟
وَمَنۡ عَصَانِي فَإِنَّكَ غَفُورٞ رَّحِيمٞ ٣٦
یہ ابراہیم خلیل علیہ السلام کی شفقت ومہربانی ہے کہ انہوں نے گنہگاروں کے لئے اللہ سے مغفرت ورحمت اورمعافی ومہربانی کی دعا مانگی۔ (السعدی؍۴۲۷)
سوال: آیت کی روشنی میں بتائیے کہ انبیاء کرام علیہم السلام اپنی قوموں اور امتوں کے حق میں بڑے شفیق ومہربان تھے۔ایک داعی کو اس سے کیا سبق ملتا ہے؟
رَبَّنَا لِيُقِيمُواْ ٱلصَّلَوٰةَ
یعنی ایسے موحّدین (توحید والے)بنا جو نماز قائم کرنے والے ہوں۔اس لئے کہ تمام دینی عبادات میں نماز سب سے زیادہ خاص اور افضل عبادت ہے۔ لہذا جس نے نماز قائم کیا اس نے پورے دین کو قائم کیا۔(السعدی: ۴۲۷)
سوال:ابراہیم علیہ السلام نے جب اپنی آئندہ نسل کے لئے دعا مانگی تو نماز قائم کرنے کی خصوصی دعا کیوں مانگی؟
ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ ٱلَّذِي وَهَبَ لِي عَلَى ٱلۡكِبَرِ إِسۡمَٰعِيلَ وَإِسۡحَٰقَۚ إِنَّ رَبِّي لَسَمِيعُ ٱلدُّعَآءِ ٣٩
رہا ابراہیم علیہ السلام کا یہ کہنا: (إن ربي لسميع الدعاء) یقینا میرا رب دعا کو خوب سننے والا ہے۔ تو اس سے خاص سننا مراد ہے یعنی: اللہ کی طرف سے جواب دینے اور قبول کرنے کا سننا۔ یہا ں سننے کا عام معنی مراد نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ تو ہر آواز کو سننے والا ہے۔ (ابن تیمیہ: ۴؍۱۲۰)
سوال:ابراہیم علیہ السلام نے خاص طور سے اللہ کی دعا سننے والی صفت کو ذکر کیوں کیا جبکہ اللہ تعالیٰ تو ہر آوازکو سننے والا ہے؟
وَلَا تَحۡسَبَنَّ ٱللَّهَ غَٰفِلًا عَمَّا يَعۡمَلُ ٱلظَّٰلِمُونَۚ إِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمۡ لِيَوۡمٖ تَشۡخَصُ فِيهِ ٱلۡأَبۡصَٰرُ ٤٢
آپ صبر کیجئے جس طرح ابراہیم علیہ السلام نے صبر کیا تھا اور مشرکوں کو بتادیجئے کہ عذاب کا جلد نہ آنا اور مہلت ملنا اس وجہ سے نہیں ہے کہ اللہ تمہارےاعمال سے راضی ہے بلکہ یہ اللہ کی سنت اور اس کا طریقہ ہے کہ وہ گنہگاروں کو ایک مدت تک ڈھیل دیتا ہے۔میمون بن مہران رحمہ اللہ کہتے ہیں: آیت کا مضمون ظالم کے لئے دھمکی ہے اور مظلوم کے لئے تسلی۔ (القرطبی: ۱۲؍۱۵۷)
سوال:ظالم اور مجرم پر عذاب کا فوراً نہ آنا کیا اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے خوش ہے؟
إِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمۡ لِيَوۡمٖ تَشۡخَصُ فِيهِ ٱلۡأَبۡصَٰرُ ٤٢
یعنی: ہولناک مناظر دیکھنے کی وجہ سے اور خوف وخطرے سے گھبراہٹ وبے چینی کے مارے آنکھیں حرکت نہیں کریں گی،پلکیں نہیں جھپکیں گی اور آنکھیں کھلی اور پھٹی رہ جائیں گی۔ (السعدی؍۴۲۷)
سوال:قیامت کے دن لوگ اپنی آنکھوں کو کھلی رکھیں گے اور اسے بند نہیں کر پائیں گے اور اسے حرکت نہیں دیں گے۔اس سے کیا سمجھ میں آتا ہے؟