قرآن
ﮙ
ﱅ
ﭠ ﭡ ١٩ ١٩ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ
٢٠ ٢٠ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ
ﭵ ﭶ ﭷ ٢١ ٢١ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ
ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ
ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ٢٢ ٢٢ ﮍ ﮎ ﮏ
ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ
ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ٢٣ ٢٣ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ٢٤ ٢٤
ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ
ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ
ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ٢٥ ٢٥ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ
ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ
ﯰ ٢٦ ٢٦ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ
ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ ﰁ ﰂ ﰃ ﰄ ﰅ ٢٧ ٢٧ ﰇ ﰈ
ﰉ ﰊ ﰋ ﰌ ﰍ ﰎ ﰏ ﰐ ﰑ ﰒ ٢٨ ٢٨
إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُوْلُواْ ٱلۡأَلۡبَٰبِ ١٩ ٱلَّذِينَ يُوفُونَ بِعَهۡدِ ٱللَّهِ وَلَا يَنقُضُونَ ٱلۡمِيثَٰقَ ٢٠
وہ عہد جو انہوں نے اللہ سے باندھا ہے،اس میں ہر طرح کا معاہدہ اور عہدوپیمان داخل ہے اور جو بھی قسم کھائی جائے اور نذرمانی جائے وہ سب شامل ہیں۔ لہٰذا بندہ جب عہدوپیمان اور قول وقرار کو مکمل طور سے ادا کرے گا،نہ ان کو توڑیگا اور نہ ہی ان میں کمی بیشی کریگا،تبھی وہ ان عقل والوں میں شامل ہوگا جن کے لئے بڑا ثواب ہے۔ (السعدی؍۴۱۶)
سوال:بندے کا شمار کب عقل والوں میں ہوتا ہے؟
وَيَدۡرَءُونَ بِٱلۡحَسَنَةِ ٱلسَّيِّئَةَ أُوْلَٰٓئِكَ لَهُمۡ عُقۡبَى ٱلدَّارِ ٢٢
اس کے معنی میں ایک بات یہ کہی گئی ہے کہ:جو شخص ان کے ساتھ بدسلوکی کرتاہے،وہ اس کو بہتر انداز اور احسن طریقہ سے دفع کرتے ہیں۔ لیکن زیادہ ظاہر معنی یہ ہے کہ:وہ نیکیاں کرتے ہیں اور ان کے ذریعہ برائیوں کو دفع کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿إِنَّ ٱلۡحَسَنَٰتِ يُذۡهِبۡنَ ٱلسَّيِّـَٔاتِ﴾ [هود: 114]. یقینا نیکیاں برائیوں کو مٹادیتی ہیں۔ (ابن جزی: ۱؍۴۳۶)
سوال:اللہ تعالیٰ نے بندوں کے لئے ایک ایسا راستہ کھول رکھا ہے جس کے ذریعہ وہ خود سے برائیوں کے اثرات کو مٹاسکتے ہیں۔وہ کیا ہے؟
جَنَّٰتُ عَدۡنٖ يَدۡخُلُونَهَا وَمَن صَلَحَ مِنۡ ءَابَآئِهِمۡ وَأَزۡوَٰجِهِمۡ وَذُرِّيَّٰتِهِمۡۖ
اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ان کے محبوب لوگوں کو بھی جنت میں اکٹھاکردیگا جیسے ان کے باپ،دادا،اہل وعیال اور بیٹے وغیرہ۔ اگر وہ ایمان والے اور جنت میں داخل ہونے کے لائق ہوں گے، تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور ان کی لذتیں اور خوشیاں دوبالا ہوجائیں۔ (ابن کثیر: ۳؍۴۹۲)
سوال: اللہ تعالیٰ جنت میں جنتی کے ساتھ اس کے باپ،داداکو،اس کی نیک بیوی اور نیک اولاد کو کیوں جمع کردیگا؟
وَٱلۡمَلَٰٓئِكَةُ يَدۡخُلُونَ عَلَيۡهِم مِّن كُلِّ بَابٖ ٢٣ سَلَٰمٌ عَلَيۡكُم بِمَا صَبَرۡتُمۡۚ فَنِعۡمَ عُقۡبَى ٱلدَّارِ ٢٤
پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے اس فرمان سے بندوں کے شوق اور رغبت کو اور بڑھادیا: (والملائكة يدخلون عليهم من كل باب)اور فرشتے جنت کے ہردروازے سے ان کے پاس(عزت واکرام اور استقبال کے لئے)آئیں گے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ جو حقیقی بادشاہ ہے اس کے نمائندوں کا باربار آنا اوران کا خوب توجہ دینا ایسی چیز ہوگی جو جنتیوں کے لئے فخر کا احساس کہیں زیادہ بڑھادیگی اور ان کی خوشی اور عزت میں چار چاند لگادیگی۔ (البقاعی: ۴؍۱۴۷)
سوال: جنت میں مومنوں کے پاس فرشتوں کے آنے کا کیا فائدہ ہوگا؟
ٱللَّهُ يَبۡسُطُ ٱلرِّزۡقَ لِمَن يَشَآءُ وَيَقۡدِرُۚ وَفَرِحُواْ بِٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا وَمَا ٱلۡحَيَوٰةُ ٱلدُّنۡيَا فِي ٱلۡأٓخِرَةِ إِلَّا مَتَٰعٞ ٢٦
ان کے رزق کا زیادہ اور کشادہ ہونا ان کی عزت وتکریم کے لئے نہیں ہے جس طرح کچھ مسلمانوں کے رزق کا تنگ ہونا ان کی ذلت و رسوائی کے لئے نہیں ہے۔ یہ دونوں چیزیں اللہ کی جانب سے الٰہی حکمتوں اور مصلحتوں کی بنیاد پر ہوتی ہیں۔جسے اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے چنانچہ کبھی کافر ونافرمان بندے کوڈھیل اور فریب میں دینے کی غرض سے بڑی آسودگی اور خوشحالی سے نواز دیتا ہے ۔اورمومن بندے کوان کے اجر و ثواب میں اضافہ و زیادتی کی خاطر تنگی اور پریشانی میں مبتلا کردیتا ہے۔ (الألوسی: ۱۳؍۱۸۴)
سوال: کیا دنیا میں رزق کی زیادتی اس بات کی دلیل ہے کہ آدمی توفیق والا اورعزت دار ہے؟
وَفَرِحُواْ بِٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا
وہ لوگ اس طرح خوش اور مگن ہوگئے کہ اس کی وجہ سے دنیا کی زندگی پر مطمئن ہوگئے اور آخرت سے غافل ہوگئے۔اور ایسا ان کی کم عقلی کی وجہ سے ہواہے۔ (السعدی؍۴۱۷)
سوال: دنیا کی چیزوں پر خوش ہونا کب برا ہوتا ہے؟
ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَتَطۡمَئِنُّ قُلُوبُهُم بِذِكۡرِ ٱللَّهِۗ أَلَا بِذِكۡرِ ٱللَّهِ تَطۡمَئِنُّ ٱلۡقُلُوبُ ٢٨
ہر دل اللہ کے ذکر سے اطمینان اور سکون پاتا ہے۔ اب اگر کوئی اپنے دل کے بارے میں یہ بتائے کہ اس کا دل ایسا نہیں ہے تو وہ شخص جھوٹا، حق کا مخالف اورہٹ دھرم ہے۔اور جو شخص مطیع و فرمانبردار بنے اور حق کو مان لے اور اطمینان وسکون کے اس نسخہ پر عمل کرے وہ ایمان والا ہے۔ (البقاعی: ۴؍۱۴۷)
سوال: کون سی چیز ہے جو دلوں کے پورے اطمینان میں رکاوٹ بنتی ہے؟