قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے

٥ ٥ ٦ ٦
٧ ٧
٨ ٨ ٩ ٩
١٠ ١٠
١١ ١١
١٢ ١٢
ﭿ
١٣ ١٣
١٤ ١٤
١٥ ١٥
١٦ ١٦
١٧ ١٧
١٨ ١٨
١٩ ١٩
٢٠ ٢٠ ٢١ ٢١
٢٢ ٢٢
٢٣ ٢٣
٢٤ ٢٤
٢٥ ٢٥
٢٦ ٢٦

٢٧ ٢٧
٢٨ ٢٨
ﯿ ٢٩ ٢٩
٣٠ ٣٠
٣١ ٣١

٣٢ ٣٢
٣٣ ٣٣
588
سورۃ المطففين آیات 0 - 14

كَلَّاۖ بَلۡۜ رَانَ عَلَىٰ قُلُوبِهِم مَّا كَانُواْ يَكۡسِبُونَ ١٤

اس سے مراد گناہ پر گناہ کرنا ہے حتی کہ دل کالا ہوجائے۔ مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں: مراد وہ شخص ہے جو گناہ کرتا ہے تو گناہ اس کے دل کو گھیرلیتا ہے،پھر گناہ کرتا ہے تو گھیرا اور بڑھ جاتا ہے حتی کہ گنا ہ اس کے دل پرچھاجاتے ہیں۔بکر بن عبداللہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: بندہ جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر سوئی کے نوک کی مانند سوراخ ہو جاتا ہے،پھر گناہ کرتا ہے تو دوبارہ ایسا ہی سوراخ ہوجاتاہے حتی کہ گناہوں کی کثرت سے اس کا دل چھلنی کے جیسا ہوجاتا ہے تب نہ تو وہ کسی خیر کو سمجھ پاتا ہے اور نہ ہی اس میں کوئی اچھائی ٹکتی ہے۔(القرطبی: ۲۲؍۱۴۳)
سوال:آیت میں زنگ سے کیا مراد ہے او ر وہ بندے کے دل تک کیسے پہونچتا ہے؟

سورۃ المطففين آیات 0 - 14

كَلَّاۖ بَلۡۜ رَانَ عَلَىٰ قُلُوبِهِم مَّا كَانُواْ يَكۡسِبُونَ ١٤

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بندہ جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک کالا دھبہ پڑجاتا ہے پھر اگر توبہ کرلے تو اس کا دل صاف ہوجاتا ہے لیکن اگر دوبارہ کرے تو پھر سے داغ لگ جاتا ہے اور گناہوں کی کثرت سے وہ داغ بڑھتے بڑھتے پورے دل کو ڈھانپ لیتا ہے اور یہی وہ (رَانَ) ہے جسے اللہ تعالیٰ نے بیان کیا ہے :(كلا بل ران على قلوبهم ما كانوا يكسبون) (الطبری: ۲۴؍۲۸۶)
سوال:دل پرلگے ہوئے زنگ کو دور کرنے میں توبہ کا کیا اثر ہوتا ہے؟واضح کیجئے.

سورۃ المطففين آیات 0 - 15

كَلَّآ إِنَّهُمۡ عَن رَّبِّهِمۡ يَوۡمَئِذٖ لَّمَحۡجُوبُونَ ١٥

حسین بن فضل رحمہ اللہ کہتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے جس طرح انہیں دنیا میں اپنی توحید سے محروم کردیا تھا اسی طرح آخرت میں انہیں اپنے دیدار سے محروم کردے گا۔زَجّاج رحمہ اللہ کہتے ہیں: اس آیت میں دلیل ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کو دیکھا جاسکے گا۔(الشوکانی: ۵؍۴۰۰)
سوال:آخرت میں فاجرو ں کو اللہ کے دیدار سے کیوں محروم کردیا جائیگا؟

سورۃ المطففين آیات 0 - 26

خِتَٰمُهُۥ مِسۡكٞۚ وَفِي ذَٰلِكَ فَلۡيَتَنَافَسِ ٱلۡمُتَنَٰفِسُونَ ٢٦

(المتنافسون) یعنی اللہ کی اطاعت میں تیزی دکھانے والے۔(تَنَافُس)کا اصل معنی ہے عمدہ چیز کے حصول کے لئے دوسروں کو پچھاڑنا اور بلند مرتبہ لوگوں کی مشابہت اختیار کرنے اور ان تک پہنچنے کے لئے خوب جدوجہد کرنا مگر اس طرح کہ دوسروں کو نقصان نہ پہنچے۔ اس طور پر اس میں شرافت نفس اور بلندہمتی کا معنی بھی پایا جاتا ہے۔ (الألوسی: ۱۵؍۲۸۳)
سوال:اس آیت میں مذکور قابل تعریف مقابلہ آرائی سے کیا مراد ہے؟

سورۃ المطففين آیات 0 - 26

خِتَٰمُهُۥ مِسۡكٞۚ وَفِي ذَٰلِكَ فَلۡيَتَنَافَسِ ٱلۡمُتَنَٰفِسُونَ ٢٦

اس آیت میں سورت کے ابتدائی حصہ کی طرف اشارہ ہے وہ اس طرح کہ جب وہ لوگ کانٹے مار کر دوسروں کے حق چھین کر مال جمع کرنے میں لگے ہوئے ہیں تو قیامت کے دن ان کے لئے تباہی ہے اور جبکہ نیک لوگ قیامت کے دن نعمتوں میں ہوں گے اور یہ ان کا مشروب ہے تو اصل مقابلہ آرائی کا مقام یہ ہے نہ کہ محبت میں یا فانی چیزوں کی آس میں کسی کا حق مارنا۔ (الشنقیطی: ۸؍۴۶۳)
سوال:سورت میں کس مقابلہ آرائی کو اچھا اور کسے برا بتایا گیا ہے؟

سورۃ المطففين آیات 27 - 28

وَمِزَاجُهُۥ مِن تَسۡنِيمٍ ٢٧ عَيۡنٗا يَشۡرَبُ بِهَا ٱلۡمُقَرَّبُونَ ٢٨

تسنیم جنت کا اعلیٰ ترین مشروب ہے۔اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ عام نیک لوگوں کے مشروب میں تسنیم کی آمیزش ہوگی جبکہ مقرب بندے خالص تسنیم پئیں گے۔یہ فرق اس وجہ سے کہ بدلہ عمل کے موافق ہی ہوتا ہے تو چونکہ مقرب بندوں کے اعمال اللہ کے لئے خالص تھے اس لئے ان کا مشروب بھی خالص ہوگااور عام نیک لوگوں نے نیکیوں کی ساتھ دوسرے مباح کام بھی کئے ہوں گے اس لئے ان کا مشروب بھی ملاجلا مخلوط ہوگا۔چنانچہ جو خالص ہوگا اس کا مشروب خالص ہوگا اور جس کا عمل مخلوط ہوگا اس کا مشروب بھی مخلوط ہوگا۔(ابن القیم: ۳؍۲۷۰)
سوال:مقرب بندوں کا مشروب خالص تسنیم کا جبکہ عام نیک بندوں کے مشروب میں تسنیم کے ساتھ کچھ اور کیوں ملا ہوگا؟

سورۃ المطففين آیات 0 - 31

وَإِذَا ٱنقَلَبُوٓاْ إِلَىٰٓ أَهۡلِهِمُ ٱنقَلَبُواْ فَكِهِينَ ٣١

کفار مومنوں کو دکھ پہنچاکربہت خوش اور اتراتے ہوئے گھروں کو جاتے تھے۔یہ دھوکا کھانے کا اونچا درجہ ہے وہ اس طرح کہ وہ خوب برائیاں کرنے کے باوجود دنیا میں امن وچین سے رہے۔ایسا لگتا تھا کہ ان کے پاس اللہ کا مکتوب یا عہد آیا ہو کہ وہ اہل ِسعادت میں سے ہیں،اس کے علاوہ انہوں نے اپنے ہدایت پر ہونے اور مومنوں کے گمراہ ہونے کا حکم لگالیا تھا۔یہ محض اللہ پر جھوٹ باندھنا اور بلا علم اس کی طرف غلط بات منسوب کرنے کی جسارت تھی۔ (السعدی؍۹۱۶)
سوال:بیان کیجئے وہ بڑی برائی کیا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے ان مشرکوں کے حال کے ضمن میں بیان کیا ہے؟