قرآن
ﯺ
ﱕ
ﭞ ٢٢ ٢٢ ﭠ ﭡ ﭢ ٢٣ ٢٣ ﭤ ﭥ ﭦ ٢٤ ٢٤
ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ٢٥ ٢٥ ﭭ ﭮ ٢٦ ٢٦ ﭰ ﭱ ﭲ
ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ٢٧ ٢٧ ﭸ ﭹ ﭺ ٢٨ ٢٨
ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ٢٩ ٢٩ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ
ﮈ ٣٠ ٣٠ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ٣١ ٣١ ﮑ ﮒ ﮓ
ﮔ ٣٢ ٣٢ ﮖ ﮗ ﮘ ٣٣ ٣٣ ﮚ ﮛ ﮜ ٣٤ ٣٤
ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ٣٥ ٣٥ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ٣٦ ٣٦ ﮨ ﮩ
ﮪ ٣٧ ٣٧ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ٣٨ ٣٨ ﯔ ﯕ
ﯖ ﯗ ﯘ ٣٩ ٣٩ ﯚ ﯛ ﯜ ٤٠ ٤٠ ﯞ ﯟ
ﯠ ﯡ ﯢ ٤١ ٤١ ﯤ ﯥ ﯦ ٤٢ ٤٢ ﯨ ﯩ ﯪ
ﯫ ﯬ ﯭ ٤٣ ٤٣ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ٤٤ ٤٤ ﯴ
ﯵ ﯶ ٤٥ ٤٥ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ٤٦ ٤٦ ﯾ
ﯿ ﰀ ٤٧ ٤٧ ﰂ ﰃ ﰄ ﰅ ﰆ ﰇ ٤٨ ٤٨
ﰉ ﰊ ﰋ ٤٩ ٤٩ ﰍ ﰎ ﰏ ﰐ ٥٠ ٥٠
أَلَمۡ نَجۡعَلِ ٱلۡأَرۡضَ كِفَاتًا ٢٥
زمین زندوں کو اپنی پشت پراور مردوں کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے، یہ آیت میت کے دفن کرنے نیز اس کے بالوں اور اس سے زائل کی گئی تمام چیزوں کے دفن پر دلالت کرتی ہے۔(القرطبی: 21؍505)
سوال: اس آیت سے کونسا شرعی حکم مستنبط ہوتا ہے؟
إِنَّهَا تَرۡمِي بِشَرَرٖ كَٱلۡقَصۡرِ ٣٢ كَأَنَّهُۥ جِمَٰلَتٞ صُفۡرٞ ٣٣
(جِمَالَتٌ صُفْرٌ ) زرد مائل سیاہى كو كہتے ہیں، یہ جملہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ جہنم کے شعلے، آگ اور شرارے تاریک ہوں گے، اور یہ کہ جہنم کالی، بد شکل، اور شدید گرم ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے اس سے سلامتی کا سوال کرتے ہیں۔ (السعدی: 905)
سوال: آیت میں تدبر کرنے اورمعنی کو سمجھنے کے بعد جہنم کی آگ کا رنگ بتلائیے؟ اور کیا یہ تاریک ہے یا اس کے اندر کوئی روشنی بھی ہے؟
فَإِن كَانَ لَكُمۡ كَيۡدٞ فَكِيدُونِ ٣٩
یہ ان کو عاجز کرنے اور دنیا میں ان کا مکر بیان کرنے اور اس پر انہیں پھٹکار دینے کے لئے ہے۔ (ابن جزی: 2؍525)
سوال: روز قیامت جب کفار عاجز ہوں گے اور بول نہ سکیں گے تو ان سے مکر کس طرح صادر ہوگا؟
كُلُواْ وَٱشۡرَبُواْ هَنِيٓـَٔۢا بِمَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ ٤٣
اس کلام میں صراحت ہے کہ دنیا میں ان کا عمل آخرت میں جنت کی نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کا سبب ہوگا، جبکہ حدیث میں ہے: (لَنْ يَّدْخَلَ أَحَدٌ مِنْكُمْ الْجَنَّةَ بِعَمَلِهِ) تم میں سے کوئی بھی جنت میں اپنے عمل کے بدلے ہرگز نہیں داخل ہوگا۔(بخاری و مسلم) دونوں نصوص میں کوئی تعارض نہیں ہے، اس لئے کہ داخل ہونا اللہ کے فضل سے ہوگا، پھر داخل ہونے کے بعد اعمال کے سبب وارث بنایا جائے گا، درجات ہوں گے اور فائدہ اٹھانا ہوگا۔ جنت میں داخل ہو نے کے واسطے اللہ کے فضل میں تمام لوگ شریک ہوں گے،لیکن داخل ہونے کے بعد اعمال کے سبب درجات میں تفاوت ہوگا۔ (الشنقیطی: 8؍404)
سوال: اعمال اور جنت کے دخول کے درمیان کیا تعلق ہے؟
كُلُواْ وَتَمَتَّعُواْ قَلِيلًا إِنَّكُم مُّجۡرِمُونَ ٤٦
اس میں دلالت ہے کہ ہر مجرم کا انجام چنددن فائدہ اٹھانا ہےاور پھر عذاب وہلاکت میں ہمیشہ باقی رہنا ہے۔ (الألوسی: 15؍197)
سوال: مجرمین کے لئے دنیا میں فائدہ اٹھانے اور کھانے کا حکم کس بات پر دلالت کرتا ہے؟
وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ ٱرۡكَعُواْ لَا يَرۡكَعُونَ ٤٨
(جب ان سے کہا جاتا ہے کہ) اللہ عز وجل کی وحی قبول کرتے ہوئے اس کی اطاعت کرو اور اس کے دین کی اتباع کرتے ہوئے اسی کے لئے خشوع وخضوع اختیار کرو اور اس تکبر ونخوت کو اتار پھینکو۔ (لَا يَرْكَعُوْنَ) تو وہ نہ خشوع اختیار کرتے ہیں، نہ اسے قبول کرتے ہیں بلکہ اپنے تکبر پر مصر رہتے ہیں۔ (الألوسی: 15؍197)
سوال: رکوع کاحکم اور مشرکین کا اس کوقبول نہ کرنے کی دلالت کیا ہے؟
وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ ٱرۡكَعُواْ لَا يَرۡكَعُونَ ٤٨ وَيۡلٞ يَوۡمَئِذٖ لِّلۡمُكَذِّبِينَ ٤٩
ان کا ایك جرم یہ بهى ہے کہ جب انہیں نماز کا حکم دیا جاتا ہے جو عبادات میں افضل و اشرف ہے اور ان سے کہا جاتا کہ رکوع کرو تو وہ اس حکم سے رو گردانی کرتے ہیں ۔ اس سے بڑا جرم اور کیا ہوسکتا ہے؟ اس سے بڑی تکذیب اور کیا ہوسکتی ہے؟ (السعدی: 905)
سوال: اس آیت میں تدبر کیجئے اور نماز کا مقام و مرتبہ بیان کیجئے؟