قرآن
ﯲ
ﱕ
ﭚ ﭛ ﭜ ﭝ ١٠ ١٠ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ
١١ ١١ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ١٢ ١٢ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ
ﭲ ﭳ ١٣ ١٣ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ١٤ ١٤
ﭼ ﭽ ﭾ ١٥ ١٥ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ
١٦ ١٦ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ
١٧ ١٧ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ١٨ ١٨ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ
ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ١٩ ١٩ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ
٢٠ ٢٠ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ٢١ ٢١ ﮭ ﮮ ﮯ ٢٢ ٢٢ ﮱ ﯓ ٢٣ ٢٣
ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ٢٤ ٢٤ ﯞ ﯟ ﯠ
ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ٢٥ ٢٥ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ
٢٦ ٢٦ ﯮ ﯯ ﯰ ٢٧ ٢٧ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ٢٨ ٢٨ ﯸ ﯹ ﯺ
٢٩ ٢٩ ﯼ ﯽ ٣٠ ٣٠ ﯿ ﰀ ﰁ ٣١ ٣١ ﰃ ﰄ ﰅ ﰆ
ﰇ ﰈ ﰉ ٣٢ ٣٢ ﰋ ﰌ ﰍ ﰎ ﰏ ﰐ ٣٣ ٣٣
ﰒ ﰓ ﰔ ﰕ ﰖ ٣٤ ٣٤ ﰘ ﰙ ﰚ ﰛ ﰜ ٣٥ ٣٥
وَتَعِيَهَآ أُذُنٞ وَٰعِيَةٞ ١٢
دل کی طرح کان کو بھی یاد رکھنے سے متصف کیا جاتا ہے ، کہا جاتا ہے یاد رکھنے والا دل، یا د رکھنے والا کان، اس لئے کہ کان اور دل کے درمیان تعلق ہے، علم کان کے ذریعہ دل تک داخل ہوتا ہے، کان دل کا دروازہ، سفیر اور اس تک علم کو پہنچانے والا ہے جس طرح زبان دل کا پیغام پہنچانے والا سفیر ہے، جس شخص کو دل اور اعضاء كے درمیان تعلق کے بارے میں جانکاری ہوگی وہ یہ بات اچھی طرح جانتا ہوگا کہ کان کو یاد رکھنے کے وصف سے متصف کرنا زیادہ مناسب ہے اور یہ کہ جب کان یاد رکھتا ہے تو دل یاد رکھتا ہے۔ (ابن القیم: 3؍189)
سوال: کان کو واعیہ (یاد رکھنے والا) سے موصوف کرنے کا سبب کیا ہے؟
لِنَجۡعَلَهَا لَكُمۡ تَذۡكِرَةٗ وَتَعِيَهَآ أُذُنٞ وَٰعِيَةٞ ١٢
وعی: سنی ہوئی باتوں کا علم، یعنی اس کی خبر کا علم ایسے کانوں کو ہو جو وعی سے موصو ف ہوں،یعنی ان کی کیفیت یہ ہو کہ وہ یاد رکھیں۔ اس میں مشرکین کا اشارۃً ذکر ہے کہ انہوں نے طوفان اور کشتی -جس کے ذریعہ سے مومنین كو نجات ملى - کی خبر سے نہیں نصیحت حاصل کی اور اسے مزاحیہ قصوں کی طرح لیا۔ (ابن عاشور: 29؍123)
سوال: آیت میں مشرکین کا اشارۃً ذکرہے اس کی وضاحت کریں؟
إِنِّي ظَنَنتُ أَنِّي مُلَٰقٍ حِسَابِيَهۡ ٢٠
جب جب انسان اعلی ہوگا تو آگہی کا حصول اوراپنے نفس کی کمتری كا احساس زیادہ ہوگا……حالتِ خوف میں عقلمند کو عمل پر ابھارنے کے لئے خطرے کا گمان ہی کافی ہے۔ (البقاعی: 20؍362 )
سوال: انسان کے کمال عقل کی علامت کیا ہے؟
كُلُواْ وَٱشۡرَبُواْ هَنِيٓـَٔۢا بِمَآ أَسۡلَفۡتُمۡ فِي ٱلۡأَيَّامِ ٱلۡخَالِيَةِ ٢٤
صحیح بخاری میں نبیﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: کوئی شخص اپنے عمل کے بدلے جنت میں داخل نہیں ہوگا، لوگوں نے کہا: اےاللہ کے رسول! آپ بھی نہیں؟ تو آپ نے فرمایا: میں بھی نہیں،الّا یہ کہ اللہ اپنی رحمت وفضل سے مجھے نواز دے۔ (ابن تیمیہ: 6؍388 )
سوال:عمل صالح عمل کرنے والے کو کب نفع دے گا؟
ثُمَّ فِي سِلۡسِلَةٖ ذَرۡعُهَا سَبۡعُونَ ذِرَاعٗا فَٱسۡلُكُوهُ ٣٢ إِنَّهُۥ كَانَ لَا يُؤۡمِنُ بِٱللَّهِ ٱلۡعَظِيمِ ٣٣ وَلَا يَحُضُّ عَلَىٰ طَعَامِ ٱلۡمِسۡكِينِ ٣٤
حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ مسکینوں کے لئے اپنی بیوى کو شوربہ بڑھانے کی ترغیب دیتے تھے اوراسی آیت سے استنباط کرتے ہوئےکہتے تھے: ہم نے آدھی زنجیر ایمان کی بدولت اتار دی ہے تو کیا باقی آدھی کو نہ اتار دیں۔ ( الألوسی: 15؍57 )
سوال: ایمان اور مساکین پر خرچ کرنے کا کیا اجر ہے اگر یہ دونوں چیزیں کسی مومن میں جمع ہوجائیں؟
وَلَا يَحُضُّ عَلَىٰ طَعَامِ ٱلۡمِسۡكِينِ ٣٤
(اللہ تعالیٰ نے) اس کا یہ وصف بیان کیا ہے کہ وہ مسکین کو کھانا کھلانے پر ابھارتا نہیں تھا۔یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ بدرجہ اولیٰ مسکین کو کھلاتا نہیں تھا، یہ آیت صدقہ کی عظمت وفضیلت پر دلالت کرتی ہے اس لئے کہ مسکین کو نہ کھلانے کو اللہ کے کفر کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔ (ابن جزی: 2؍494 )
سوال: کس طرح یہ آیت صدقہ کی عظمت پر دلالت کرتی ہے؟
إِنَّهُۥ كَانَ لَا يُؤۡمِنُ بِٱللَّهِ ٱلۡعَظِيمِ ٣٣ وَلَا يَحُضُّ عَلَىٰ طَعَامِ ٱلۡمِسۡكِينِ ٣٤
سعادت کا گوہر ومداردو چیزیں ہیں: اللہ کے لئے اخلاص جس کی اصل اللہ پر ایمان لانا،اور مختلف طریقے سے مخلوق کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا ہے،جن میں سب سے عظیم احسان محتاجوں کوکھانا کھلا کر ان کی ضرورت پوری کرنا ہے۔ ان کے پاس نہ اخلاص تھا اور نہ اچھا برتاؤ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے ساتھ وہ سلوک کیا گیا جس کے وہ مستحق تھے۔ (السعدی: 884)
سوال: کیوں بد نصیبوں کی یہ صفت بیان کی گئی کہ وہ اللہ عظیم پر ایمان نہیں رکھتے تھے اور نہ مسکینوں کو کھلانے کی ترغیب دیتے تھے؟