قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے





ﭿ ٨ ٨


٩ ٩



١٠ ١٠



١١ ١١


١٢ ١٢
561
سورۃ التحريم آیات 0 - 8

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ تُوبُوٓاْ إِلَى ٱللَّهِ تَوۡبَةٗ نَّصُوحًا

قرظی کا قول ہے کہ خالص توبہ میں چار چیزیں پائی جاتی ہیں: زبان سے استغفار کرنا۔ اس عمل کو چھوڑدینا ۔ دل سے دوربارہ اس فعل کے نہ کرنے کا عزم کرنا۔ اور برے ساتھیوں کی صحبت کو ترک کردینا۔(البغوی: 4؍430–431)
سوال: خالص توبہ کیا ہے؟

سورۃ التحريم آیات 0 - 9

يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِيُّ جَٰهِدِ ٱلۡكُفَّارَ وَٱلۡمُنَٰفِقِينَ وَٱغۡلُظۡ عَلَيۡهِمۡۚ

اور یہ معلوم ہے کہ منافق کافرہوتاہے ۔ لیکن کافروں کے خلاف آپ نے تلوارسے جہادکیا۔ اور منافقوں کے خلاف قرآن سے ۔ جیسا کہ انہیں قتل نہ کرنے کے بارے میں آپ ﷺ نے فرمایا: (لِئَلَّا يَتَحَدَّثُ النَّاسُ أَنَّ مُحَمَّدًا يَقْتُلُ أَصْحَابَهُ) تا کہ لوگ یہ نہ کہیں کہ محمد اپنے ساتھیوں کو قتل کرتاہے۔ لیکن قرآن سے ان کے خلاف جہاد شدت میں تلوار سے کم ترنہیں تھا۔ کیونکہ وہ بحالت خوف وڈر میں رہتے تھے ، وہ ہر اونچی آواز کو اپنے خلاف تصور کرتے تھے اور ان کے دل خالی وویران تھے۔ گویاکہ وہ دیوار کے سہارے لگائی ہوئی لکڑیاں ہیں۔ اور یہ ان کے اوپر تلوار کی جنگ سے زیادہ شدید وسخت ہے، اور اس کا علم اللہ تعالىٰ کے پاس ہے ۔ (الشنقیطی:8؍223)
سوال: کافروں و منافقوں کے خلاف جہاد کے درمیان فرق واضح کیجیے؟

سورۃ التحريم آیات 0 - 10

ضَرَبَ ٱللَّهُ مَثَلٗا لِّلَّذِينَ كَفَرُواْ ٱمۡرَأَتَ نُوحٖ وَٱمۡرَأَتَ لُوطٖۖ كَانَتَا تَحۡتَ عَبۡدَيۡنِ مِنۡ عِبَادِنَا صَٰلِحَيۡنِ فَخَانَتَاهُمَا فَلَمۡ يُغۡنِيَا عَنۡهُمَا مِنَ ٱللَّهِ شَيۡـٔٗا وَقِيلَ ٱدۡخُلَا ٱلنَّارَ مَعَ ٱلدَّٰخِلِينَ ١٠

اللہ نے یہ مثال بطور تنبیہ بیان کی ہے کہ آخرت میں کوئی اپنے کسی رشتہ دار یا قرابتدار کے کام نہیں آئے گااگر ان دونوں کا دین الگ الگ ہے۔ (القرطبی21:؍102)
سوال: اس مثال کو بیان کرنے کا کیا مقصد ہے؟

سورۃ التحريم آیات 0 - 11

وَضَرَبَ ٱللَّهُ مَثَلٗا لِّلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱمۡرَأَتَ فِرۡعَوۡنَ إِذۡ قَالَتۡ رَبِّ ٱبۡنِ لِي عِندَكَ بَيۡتٗا فِي ٱلۡجَنَّةِ

علماء کا کہنا ہے کہ اس نے گھر سے پہلے پڑوسی کا انتخاب کیا ۔ (ابن کثیر :4؍394)
سوال: کیوں فرعون کی بیوی نے (عِنْدَكَ) یعنی پڑوسی کو (بَيْتًا) یعنی گھر پر مقدم کیا ؟

سورۃ التحريم آیات 0 - 11

وَنَجِّنِي مِن فِرۡعَوۡنَ وَعَمَلِهِۦ وَنَجِّنِي مِنَ ٱلۡقَوۡمِ ٱلظَّٰلِمِينَ ١١

اس آیت میں دلیل ہے کہ پناہ اللہ (کے ذریعہ) سے طلب کی جائے گی اور اسی سے مدد مانگی جائے گی اور اسی کی طرف پناہ لیا جائے گا۔ مصائب اور پریشانیوں کے وقت اللہ تعالیٰ سے نجات کی دعا کرنا انبیاء کی سنت اور نیکوں کی عادت ہوتی ہے،اور اس طرح کا ذکر قرآن مجید میں بہت زیادہ آیا ہے۔(الألوسی:14؍358)
سوال: نیک لوگوں کی وہ کون سی صفت ہےجس کا تذکرہ اس آیت میں کیا گیا ہے؟