قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے


٢٣ ٢٣


٢٤ ٢٤

ﭿ
٢٥ ٢٥


٢٦ ٢٦


٢٧ ٢٧



٢٨ ٢٨

ﯿ
٢٩ ٢٩
53
سورۃ آل عمران آیات 0 - 23

أَلَمۡ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ أُوتُواْ نَصِيبٗا مِّنَ ٱلۡكِتَٰبِ يُدۡعَوۡنَ إِلَىٰ كِتَٰبِ ٱللَّهِ لِيَحۡكُمَ بَيۡنَهُمۡ ثُمَّ يَتَوَلَّىٰ فَرِيقٞ مِّنۡهُمۡ وَهُم مُّعۡرِضُونَ ٢٣

کوئی بھی منکِر جان بوجھ کر کسی حق کا انکار کرتا ہے تو یقینی طور پر اللہ تعالیٰ اس کا علم چھین لیتا ہے۔یہاں تک کہ انکارِ حق ، اس کی صفت اور پہچان بن جاتی ہے اور وه ایسے شخص کی طرح ہو جاتا ہے جسے کبھی علم تھا ہی نہیں۔ (الألوسی:۳؍۵۰)
سوال:اہلِ کتاب کو اعراض کرنے اور منہ موڑنے والا بتایا گیاہے اس سے کیا معلوم ہوتا ہے؟

سورۃ آل عمران آیات 0 - 24

ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمۡ قَالُواْ لَن تَمَسَّنَا ٱلنَّارُ إِلَّآ أَيَّامٗا مَّعۡدُودَٰتٖۖ وَغَرَّهُمۡ فِي دِينِهِم مَّا كَانُواْ يَفۡتَرُونَ ٢٤

وہ حق کی پیروی کرنے سے بے پرواہ ہوگئے تھے کیونکہ انہوں نے اپنا عقیدہ بنالیا تھا کہ وہ ہر حال میں اللہ کے عذاب سے نجات پاجائیں گے۔ اسی( غلط) عقیدے نے انہیں اس اندازمیں حق سے منہ موڑنے پر جری اور دلیر بنادیا تھا۔ (ابنِ عاشور:۳؍۲۱۱)
سوال:تکبر کرنے والوں کا یہ کہنا کہ :جہنم کی آگ ہمیں بس چند دنوں کے لئے چھوئے گی۔اس کا کیا نتیجہ برآمد ہوتا ہے؟

سورۃ آل عمران آیات 0 - 27

وَتُخۡرِجُ ٱلۡحَيَّ مِنَ ٱلۡمَيِّتِ وَتُخۡرِجُ ٱلۡمَيِّتَ مِنَ ٱلۡحَيِّۖ

یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ پر بڑی دلیل ہے کہ تمام اشیاء اس کے تابع ہیں ۔ساری چیزیں اسی کے ماتحت ہیں۔ان چیزوں کو تدبیریعنی انتظام عالم میں کچھ بھی اختیار حاصل نہیں ہے ۔چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ایک دوسرے کی ضِدیعنی مخالف چیزوں کو پید اکرنا اور پھر ضد سے ضد کو(جیسے زندہ سے اس کی ضد مردے کو اور مردے سے اس کی ضد زندےکو)پیدا کرنا،بتاتا ہے کہ ساری چیزیں بے بس ہیں۔ (السعدی : ۱۲۷)
سوال:آیت کریمہ کس طرح اللہ کی قدرتِ کاملہ اور مخلوقات کی لاچاری وکمزوری پر دلالت کرتی ہے؟

سورۃ آل عمران آیات 0 - 28

لَّا يَتَّخِذِ ٱلۡمُؤۡمِنُونَ ٱلۡكَٰفِرِينَ أَوۡلِيَآءَ مِن دُونِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَۖ وَمَن يَفۡعَلۡ ذَٰلِكَ فَلَيۡسَ مِنَ ٱللَّهِ فِي شَيۡءٍ إِلَّآ أَن تَتَّقُواْ مِنۡهُمۡ تُقَىٰةٗۗ

صحیح بات یہ ہے کہ عرفِ عام اور چلن کے مطابق جوچیز تعظیم اور بڑائی شمار کی جاتی ہے اور مسلمان جسے دوستی سمجھتے ہیں وہ سب ممنوع ہیں خواہ یہ دوستی ذِمّیوں (مسلم ممالک میں جزیہ دے کر رہنے والے کفار)کے ساتھ ہی کیوں نہ ہو۔اور خاص طور سے یہ دوستی اس وقت زیادہ بری اور ممنوع ہو جاتی ہے) جب کمزور ایمان والوں کے دلوں میں کچھ خرابی پیدا کرنے کا سبب بنے۔ (الألوسی:۳؍۱۲۰)
سوال:غیر مسلموں سے کون سی دوستی ممنوع ہے؟

سورۃ آل عمران آیات 0 - 29

قُلۡ إِن تُخۡفُواْ مَا فِي صُدُورِكُمۡ أَوۡ تُبۡدُوهُ يَعۡلَمۡهُ ٱللَّهُۗ وَيَعۡلَمُ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِۗ وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٞ ٢٩

یہ دھمکی ہے۔اس لئے کہ صرف دوچیزیں ایسی ہیں جو دھمکی کے نفاذ میں رکاوٹ بن سکتی ہیں:
مجرم کے جرم سے لاعلمی۔
اس کی طاقت نہ رکھنا اور عاجز ہونا۔
اب جب اللہ تعالیٰ انہیں یہ بتارہا ہے کہ اس کا علم عام ہے اور اس کی قدرت بھی عام ہے یعنی اس کے علم اور قدرت سے کوئی چیز باہر نہیں۔تو انہیں یہ بات معلوم ہوگئی کہ اللہ تعالیٰ انہیں چھوڑیگا نہیں اور سزا دے کر رہے گا۔ (ابن عاشور:۳؍۲۲۲)
سوال:اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اپنے علم اور اپنی قدرت کو اکٹھا کیوں بیان کیا ہے؟

سورۃ آل عمران آیات 0 - 29

قُلۡ إِن تُخۡفُواْ مَا فِي صُدُورِكُمۡ أَوۡ تُبۡدُوهُ يَعۡلَمۡهُ ٱللَّهُۗ وَيَعۡلَمُ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِۗ وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٞ ٢٩

یہ اللہ کی جانب سے اپنے بندوں کے لئے تنبیہ ہے ۔تاکہ وہ ان چیزوں کا ارتکاب نہ کریں جن سے اللہ نے منع فرمایا ہے اور نہ ہی ان چیزوں کا جن کی بناپر اللہ ان سے ناراض ہوتاہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کے تمام معاملات کو اچھی طرح جانتا ہے اور انہیں فوری عذاب دینے پر قدرت رکھتا ہے ۔اگر ان میں سے کسی کو ڈھیل دیتا بھی ہے تو درحقیقت وہ پہلے مہلت دیتا ہے پھر غالب زبردست طاقتور کی طرح دبوچ لیتا ہے۔ (ابن کثیر:۱؍۳۳۸)
سوال:اللہ تعالیٰ کے عمومی علم اور کامل قدرت کی معرفت سے مسلمان کا کیا فائدہ ہے؟

سورۃ آل عمران آیات 0 - 29

قُلۡ إِن تُخۡفُواْ مَا فِي صُدُورِكُمۡ أَوۡ تُبۡدُوهُ يَعۡلَمۡهُ ٱللَّهُۗ وَيَعۡلَمُ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِۗ وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٞ ٢٩

اس میں ہدایت ہے کہ دلوں کوپاک صاف رکھا جائے اور ہر وقت اللہ کا علم ذہن میں تازہ رکھا جائے ۔اس کا اثر یہ ہوگا کہ بندہ اس بات سے شرمائے گا کہ اس کا رب، اس کے دل کو ہر بیکار وبیہودہ خیال کا ٹھکانہ بناہوا دیکھے۔بلکہ وہ اپنی فکر وسوچ کو اللہ سے قریب کردینے والی چیزوں میں لگائے رکھے گا جیسے قرآن کی آیت پر ،یا احادیثِ رسول ﷺ میں سے کسی سنت پر غور وفکر کرنا،یا فائدہ پہنچانے والے کسی علم کو ذہن نشین کرنا،یا اس کی چھان بین کرنا،یا اللہ کی مخلوقات اور اس کی نعمتوں میں غور کرنا،یا اللہ کے بندوں کی خیر خواہی میں لگے رہنا۔ (السعدی:ص؍۱۲۸)
سوال: جب آپ کے لئے یہ واضح ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ آپ کے دل کے بھیدوں کو جانتا ہے تو پھر آپ کے لئے کس حالت میں رہنا ضروری ہوجاتا ہے؟