قرآن
ﯣ
ﱓ
ﭚ ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ٨ ٨ ﭤ ﭥ
ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ٩ ٩ ﭯ
ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ١٠ ١٠ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ
١١ ١١ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ١٢ ١٢
ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ١٣ ١٣ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ
ﮐ ١٤ ١٤ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ١٥ ١٥ ﮙ ﮚ
ﮛ ﮜ ١٦ ١٦ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ١٧ ١٧
ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ١٨ ١٨ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ
ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ١٩ ١٩ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ
ﯝ ٢٠ ٢٠ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ٢١ ٢١ ﯤ ﯥ ﯦ
ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ٢٢ ٢٢ ﯬ ﯭ ﯮ ٢٣ ٢٣ ﯰ ﯱ
ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ٢٤ ٢٤ ﯻ ﯼ ﯽ
ﯾ ﯿ ﰀ ﰁ ﰂ ﰃ ٢٥ ٢٥ ﰅ ﰆ ﰇ ﰈ ﰉ
٢٦ ٢٦ ﰋ ﰌ ﰍ ﰎ ﰏ ﰐ ﰑ ٢٧ ٢٧
خُشَّعًا أَبۡصَٰرُهُمۡ يَخۡرُجُونَ مِنَ ٱلۡأَجۡدَاثِ كَأَنَّهُمۡ جَرَادٞ مُّنتَشِرٞ ٧
نگاہ میں خشوع کا مطلب ہے نگاہ عاجزی کے ساتھ جھکی ہوتی ہے۔ خشوع کا نگاہ کےساتھ جو تعلق جوڑاگیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان کے دیکھنے کے انداز میں عزت و ذلت کا اثر نظر آتا ہے۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿أَبۡصَٰرُهَا خَٰشِعَةٞ﴾ [النازعات: 9]، اور دوسری جگہ فرمایا: ﴿خَٰشِعِينَ مِنَ ٱلذُّلِّ يَنظُرُونَ مِن طَرۡفٍ خَفِيّٖ﴾ (الشوریٰ :۴۵) ذلت کے سبب ان کی نظریں جھکی ہوئی ہوں گی اور وہ کنکھیوں سے دیکھ رہے ہوں گے ۔(القرطبی:۲۰؍۷۸)
سوال: خشوع کو ابصار کےساتھ کیوں جوڑا گیا؟
يَقُولُ ٱلۡكَٰفِرُونَ هَٰذَا يَوۡمٌ عَسِرٞ ٨
مفہوم اس کا یہ ہے کہ وہ دن مومنوں کے لئے آسان ہوگا۔(السعدی: 825)
سوال: ‘‘وہ دن کافروں پرسخت ہوگا’’ یہ بتانے سے ہم کیا نتیجہ نکال سکتے ہیں؟
فَدَعَا رَبَّهُۥٓ أَنِّي مَغۡلُوبٞ فَٱنتَصِرۡ ١٠
یعنی میں ان کامقابلہ کرنے میں کمزور ہوں سو تو اپنے دین کی خاطر مددفرما۔(ابن کثیر:۴؍265)
سوال: دعوت الی اللہ میں اس آیت کے اندر دعا کی اہمیت کی جانب اشارہ موجود ہے اس کی وضاحت کیجئے؟
وَلَقَدۡ يَسَّرۡنَا ٱلۡقُرۡءَانَ لِلذِّكۡرِ فَهَلۡ مِن مُّدَّكِرٖ ١٧
قشیری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کچھ لوگوں کی زبان پر قرآن کی قرأت آسان ہے کچھ لوگوں کے دلوں کو اس کاعلم سہل ہے ، کچھ لوگوں کی عقل کےلئے اس کافہم آسان ہے، اور کچھ لوگوں کے ذہن میں اس کا حفظ آسان ہے اور سبھی قرآن والے ہیں اورسب اہل اللہ اور اللہ کے خاص بندے ہیں۔(البقاعی:۱۹؍۱۰۸)
سوال: قرآن پاک میں آسانی کی صورتیں واضح کیجئے.
وَلَقَدۡ يَسَّرۡنَا ٱلۡقُرۡءَانَ لِلذِّكۡرِ فَهَلۡ مِن مُّدَّكِرٖ ١٧
یعنی ہم نے قرآن کا حفظ آسان کردیا ہے اور یہ بات مشاہدے سے معلوم ہے۔ چنانچہ چھوٹے چھوٹے بچے اور ان کے علاوہ دوسرے لوگ بڑے پختہ انداز میں اسے یاد کرلیتے ہیں ۔ جبکہ قرآن کے علاوہ دیگر کتابوں کا معاملہ ایسا نہیں ہے۔ روایت ہے کہ اللہ کی کتابوں میں قرآن کے سوا کسی بھی کتاب کا زبانی حفظ ممکن نہ ہوا۔یوں بھی کہا گیا ہے کہ : آیت کا معنی دراصل یہ ہے کہ ہم نے قرآن کو سمجھنے اور نصیحت حاصل کرنے کے لئے آسان کردیا ہے کیونکہ قرآن میں دلائل اور بلیغ حکمتیں ہیں۔(ابن جزی:۲؍۳۸۹)
سوال: ؟ اللہ نے قرآن کو ذکر کے لئے کس طرح آسان فرمایا ہے.
فَكَيۡفَ كَانَ عَذَابِي وَنُذُرِ ١٦
اس بلیغ آیت اور اللہ کے اس فرمان (فذوقوا عذابي ونذر) کی تکرار کا مقصد یہ ہے کہ سامع ہر قصہ کے وقت متنبہ ہوجائے اور اس سے نصیحت حاصل کرے کیونکہ ہر قصے میں کوئی نہ کوئی عبرت اور نصیحت موجودرہتی ہے سو ہر قصے کا خاتمہ کچھ اس طرح ہوتا ہے جس سے سامع وعید کے حوالے سے چوکنا ہوجائے ۔(ابن جزی:۲؍۳۸۹)
سوال: اللہ نے ہر قصہ کے بعد (فكيف كان عذابي ونذر) کی تکرار کیوں فرمائی ہے؟
وَلَقَدۡ يَسَّرۡنَا ٱلۡقُرۡءَانَ لِلذِّكۡرِ فَهَلۡ مِن مُّدَّكِرٖ ١٧
اللہ کے فضل سے دلوں کے لئے جس چیز کا حصول اور حفظ وفہم سب سے آسان ہے وہ اللہ کی کتاب ہے جسے اللہ نے برائے ذکر آسان فرمادیا ہے …اور جو چیز بے حد مشکل اور مشقت والی ہے وہ ہے لوگوں کی ذہنی صلاحیت ،مشکل سوالات ۔ اور اصول و فروع کی پیچیدہ صورتیں ہیں جن کے حق میں اللہ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی ہے ۔ ( ابن القیم :۳؍۸۷)
سوال: علم و عمل کے لئے سب سے آسان مصدر کون سا ہے ؟