قرآن
ﮎ
ﰻ
ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ
ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ
ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ٢٨٣ ٢٨٣ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ
ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ
ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ
ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ٢٨٤ ٢٨٤ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ
ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ
ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ
ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ٢٨٥ ٢٨٥ ﯗ ﯘ
ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ
ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ
ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ
ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ ﰁ ﰂ ﰃ ﰄ ﰅ
ﰆ ﰇ ﰈ ﰉ ﰊ ﰋ ﰌ ﰍ ٢٨٦ ٢٨٦
فَلۡيُؤَدِّ ٱلَّذِي ٱؤۡتُمِنَ أَمَٰنَتَهُۥ وَلۡيَتَّقِ ٱللَّهَ رَبَّهُۥۗ
اللہ سبحانہ نے قرض کی ادائیگی کے وقت تقویٰ اختیارکرنے کا حکم دیا ہے ۔ جس طرح قول وقراریعنی قرض کا عہد وپیمان کرتے وقت اس کا حکم دیا تاکہ حقوق العباد کی اہمیت وعظمت بتائی جائے اور بگاڑ کے اسباب سے خبردار کیا جائے ۔ (الألوسی:۳؍۶۳)
سوال:اللہ تعالیٰ نے قرض کی ادائیگی کے وقت اور پھر دوبارہ اقرار نامے کے وقت تقویٰ کا حکم کیوں دیا ہے؟
وَمَن يَكۡتُمۡهَا فَإِنَّهُۥٓ ءَاثِمٞ قَلۡبُهُۥۗ وَٱللَّهُ بِمَا تَعۡمَلُونَ عَلِيمٞ ٢٨٣
اللہ نے گناہ کے ساتھ خاص طور سے دل کا ذکر کیا ہے اس لئے کہ گواہی چھپانا، دل کا عمل ہے اور اس لئے بھی کہ یہی وہ گوشت کا لوتھڑا ہے جس کے درست رہنے سے پوراجسم درست رہتا ہے۔ (القرطبی:۴؍۴۷۸)
سوال:اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں دل کا ذکر بطور خاص کیوں کیا ہے؟
وَإِن كُنتُمۡ عَلَىٰ سَفَرٖ وَلَمۡ تَجِدُواْ كَاتِبٗا فَرِهَٰنٞ مَّقۡبُوضَةٞۖ فَإِنۡ أَمِنَ بَعۡضُكُم بَعۡضٗا فَلۡيُؤَدِّ ٱلَّذِي ٱؤۡتُمِنَ أَمَٰنَتَهُۥ وَلۡيَتَّقِ ٱللَّهَ رَبَّهُۥۗ وَلَا تَكۡتُمُواْ ٱلشَّهَٰدَةَۚ وَمَن يَكۡتُمۡهَا فَإِنَّهُۥٓ ءَاثِمٞ قَلۡبُهُۥۗ وَٱللَّهُ بِمَا تَعۡمَلُونَ عَلِيمٞ ٢٨٣
اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی جن بہترین احکام ومسائل کی طرف رہنمائی فرمائی ہے ،وہ بڑی بڑی حکمتوں اور عمومی مصلحتوں پر مشتمل ہیں۔ان سے پتہ چلتا ہے کہ اگر لوگ اللہ کی ہدایت ورہنمائی اپنا لیں تو ان کا دین بھی سنور جائیگا اور ساتھ ہی دنیا بھی سدھر جائیگی۔اس لئے کہ اللہ کے دئیے ہوئے یہ احکام، عدل و انصاف،مصلحت وفائدہ،حقوق کے تحفظ،جھگڑوں اور تنازعات کے خاتمہ اور معاشی معاملے کو منظم اور درست بنانے کی ضمانت ہیں۔ (السعدی: ۱۱۹۔۱۲۰)
سوال:کون سی چیز لوگوں کے دین اور دنیا دونوں کو سنوارتی ہے؟
وَقَالُواْ سَمِعۡنَا وَأَطَعۡنَاۖ غُفۡرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيۡكَ ٱلۡمَصِيرُ ٢٨٥
اطاعت وفرمانبرداری کو مغفرت طلب کرنے سے پہلے ذکر کیا گیا کیونکہ مطلوب یعنی مانگی گئی مرادسے پہلے اس کے ذریعہ اوروسیلہ کو پیش کرنا ، دعا کی اجابت اور قبولیت کو زیادہ قریب کردیتا ہے۔ (الألوسی:۳؍۶۹)
سوال:مغفرت مانگنے سے پہلے اطاعت وفرمانبرداری کا ذکر کیوں کیا گیا؟
لَا يُكَلِّفُ ٱللَّهُ نَفۡسًا إِلَّا وُسۡعَهَاۚ
اللہ نے جن چیزوں کا حکم دیا اور جن چیزوں سے روک دیا،یہ سارے احکامات ان چیزوں میں سے نہیں جو لوگوں کے لئے دشوارہوں بلکہ یہ تو روحوں کی غذا ، جسموں کی دوااور نقصان سے بچنے کا ہتھیار ہیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے بندوں کو جو بھی حکم دیا ہے وہ دراصل ان کے ساتھ رحمت ومہربانی اور احسان کے طور پر دیا ہے۔ (السعدی:۱۲۰)
سوال:شریعت کی تمام پابندیاں رحمت اور احسان ہیں ۔آیت کی روشنی میں اسے مدلل طریقہ سے بتائیے.
لَا يُكَلِّفُ ٱللَّهُ نَفۡسًا إِلَّا وُسۡعَهَاۚ لَهَا مَا كَسَبَتۡ وَعَلَيۡهَا مَا ٱكۡتَسَبَتۡۗ
نیکیوں کے بارے میں عبارت (لَهَا) کا استعمال کیا گیا جس میں ‘‘لام’’ ملکیت کے لئے ہے ۔یہ اس اعتبار سے ہے کہ نیکیاں وہ چیز ہیں جن کے کمانے سے آدمی کو خوشی اور مسرت ملتی ہے ،لہٰذا انہیں اس کی ملکیت کے کھاتے میں ڈال دیا گیا۔اور برائیوں کے لئے عبارت (عَلَيْهَا) کا استعمال کیا گیا(جس میں (عَلٰى) استعلاء اور فوقیت کے لئے ہے) ۔یہ اس لحاظ سے ہے کہ برائیاں دراصل بھاری بوجھ اورسخت وزنی گٹھریاں ہیں۔یہ ایسے ہے جیسے آپ کہتے ہیں : (لِیْ مَالٌ) میرے پاس مال ہے۔اور (عَلَیّ دَیْنٌ) مجھ پر قرض ہے ۔ (القرطبی:۴؍۵۰۰)
سوال:نیکیوں کا ذکر (لَهَا)کے ساتھ اور برائیوں کا ذکر (عَلَيْهَا)کے ساتھ کرنے میں قرآنی تعبیر کا کیا رازہے؟
وَٱعۡفُ عَنَّا وَٱغۡفِرۡ لَنَا وَٱرۡحَمۡنَآۚ
اور اس (بندے)کا یہ کہنا (وَٱعۡفُ عَنَّا) ہمیں معاف کردے۔کا مطلب ہے:اے اللہ! ہمارے اور تیرے بیچ ہم سے سرزد ہونے والی جو بھی کوتاہیاں اور غلطیاں تیرے علم میں ہیں،انہیں معاف کردے۔
(وَٱغۡفِرۡ لَنَا) اور ہمیں بخش دے۔یعنی جو غلطیاں ہمارے اور دوسرے بندوں کے بیچ ہوئی ہیں ۔لہذا تو انہیں ہماری برائیوں اور قبیح اعمال سے باخبر نہ کر۔
(وَٱرۡحَمۡنَآ) یعنی مستقبل میں ہم پر مہربانی فرما۔کہ اپنی توفیق سے ہمیں دوسرے گناہ میں پڑ جانے سے بچائے رکھنا۔اسی لئے علماء کا کہنا ہے کہ گناہ گار تین چیزوں کا محتاج ہوتا ہے: ایک:اللہ تعالیٰ بندے کی جانب سے اپنے حق میں ہونے والے گناہ کو معاف کردے۔
دوسرے:اس کے گناہ کی پردہ پوشی کرکے بندوں سے چھپالے اور اس کی وجہ سے اسے لوگوں کے درمیان رسوا نہ کرے۔
تیسرے:یہ کہ اسے بچالے اور اس جیسے کسی اور گناہ میں ملوث نہ ہونے دے۔(السعدی:۱۲۱)
سوال:وہ تین چیزیں کون سی ہیں گناہ گار آدمی جن کا محتاج ہوتا ہے؟