قرآن
ﯗ
ﱑ
ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ
٣٣ ٣٣ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ٣٤ ٣٤ ﭱ ﭲ
ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ٣٥ ٣٥ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ
ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ
ﮌ ٣٦ ٣٦ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ
ﮕ ﮖ ﮗ ٣٧ ٣٧ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ
ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ٣٨ ٣٨ ﮥ ﮦ ﮧ
ﮨ ﮩ ﮪ ٣٩ ٣٩ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ
ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ٤٠ ٤٠ ﯞ ﯟ
ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ٤١ ٤١ ﯨ ﯩ ﯪ
ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ
ﯵ ﯶ ﯷ ٤٢ ٤٢ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ
ﰀ ٤٣ ٤٣ ﰂ ﰃ ﰄ ﰅ ﰆ ﰇ ﰈ ﰉ ﰊ ﰋ ﰌ
ﰍ ﰎ ﰏ ﰐ ﰑ ﰒ ﰓ ﰔ ﰕ ﰖ ٤٤ ٤٤
وَمِنۡ ءَايَٰتِهِ ٱلۡجَوَارِ فِي ٱلۡبَحۡرِ كَٱلۡأَعۡلَٰمِ ٣٢ إِن يَشَأۡ يُسۡكِنِ ٱلرِّيحَ فَيَظۡلَلۡنَ رَوَاكِدَ عَلَىٰ ظَهۡرِهِۦٓۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّكُلِّ صَبَّارٖ شَكُورٍ ٣٣
کشتی کے سمندر میں چلنے یا اس کے ٹھہرنےکو ہر بکثرت صبر کرنے والے اور زیادہ سے زیادہ شکریہ ادا کرنے والے کےلئے نشانی بنائی گئی ہے، کیونکہ دونوں حالتوں میں خوف اور نجات پایا جاتا ہے، اور خوف صبر کا متقاضی ہے، جبکہ نجات شکر کا تقاضا کرتا ہے۔ (ابن عاشور 25؍106)
سوال:سمندر میں کشتیوں کا چلنا اور ٹھہرنا ہر صبرو شکر کرنے والے کے لئے نشانی کیوں ہے؟
وَإِذَا مَا غَضِبُواْ هُمۡ يَغۡفِرُونَ ٣٧ وَٱلَّذِينَ إِذَآ أَصَابَهُمُ ٱلۡبَغۡيُ هُمۡ يَنتَصِرُونَ ٣٩
یہ دونوں صفتیں -معاف کرنا اور بدلہ لینا- اپنی اپنی جگہوں پر درست اور پسندیدہ ہیں، چنانچہ ایسا آدمی جو عاجز وکمزور ہو، اور اپنی غلطی کا معترف ہو اسے معاف کردینا پسندیدہ عمل ہے، اور مغفرت کا لفظ اسی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ جبکہ جھگڑالو اور معاند ومصر شخص سے بدلہ لینا بہتر ہے، اور لفظ انتصار اس کی طرف اشارہ کرتا ہے۔اور اگر اس کا الٹا کیا جائے، اور دونوں کی جگہ الٹ دی جائے تو دونوں مذموم اور نا پسندیدہ ہوں گے۔ شاعر نے اپنے اس شعر میں اسی طرف اشارہ کیا ہے:
إِذَا أَنْتَ أَکْرَمْتَ الْکَرِيْمَ مَلَکْتَهٗ وَإِنْ أَنْتَ أَکْرَمْتَ اللَّئِيْمَ تَمَرَّدَا
فَوَضْعُ النَّدٰى فِيْ مَوْضَعِ السَّيْفِ بِالْعُلَا
مُضِرٌّ کَوَضْعِ السَّيْفِ فِيْ مَوضَعِ النَّدٰى
(اگر آپ کریم وشریف آدمی کی عزت کریں گے تو آپ اس کے مالک بن جائیں گے، اور وہ آپ کا مطیع وفرمانبردار ہوجائیگا، اور اگر آپ کمینے کی عزت
کریں گےتو وہ اور سرکش ہوجائیگا، چنانچہ جس طرح جود و سخا اور عفو و درگزر کی جگہ تلوار استعمال کرنا نقصان دہ ہے، اسی طرح تلوار کی جگہ سخاوت وفیاضی دکھانا اور عفو در گزر کرنا غلط ہے)۔ (الألوسی: 266)
سوال: اللہ تعالىٰ کے ان دونوں فرمان: (وإذا ما غضبوا هم يغفرون) ، (والذين إذا أصابهم البغي هم ينتصرون)کے درمیان جمع وتطبیق کی صورت کیسے بنے گی؟
وَٱلَّذِينَ ٱسۡتَجَابُواْ لِرَبِّهِمۡ وَأَقَامُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَأَمۡرُهُمۡ شُورَىٰ بَيۡنَهُمۡ وَمِمَّا رَزَقۡنَٰهُمۡ يُنفِقُونَ ٣٨
نماز کو اس کے وقت پر باجماعت پڑھنا، اور زکاۃ ادا کرنا ، یہ اللہ تعالىٰ کے حکم پر لبیک کہنے میں داخل ہے، اسی لئے ان دونوں کو اس پر عطف کیا، اسے عربی زبان میں عطف خاص على عام -یعنی: خاص کو عام پر عطف کرنا- کہا جاتا ہے جو کہ خاص کے شرف وفضیلت پر دلالت کرتا ہے۔ (السعدی: 760)
سوال: جب نماز کو اس کے وقت پر باجماعت پڑھنا، اور زکاۃ ادا کرنا، اللہ تعالىٰ کے حکم پر لبیک کہنے میں شامل ہے تو پھر اسے دوبارہ الگ سے کیوں ذکر کیا؟
وَأَمۡرُهُمۡ شُورَىٰ بَيۡنَهُمۡ
یعنی: ان میں سے کوئی شخص ایسے معاملات میں جو ان کے درمیان مشترک ہیں استبداد رائے کا مظاہرہ نہیں کرتا، اور تنہا اپنی رائے کو حرف آخر نہیں سمجھتا، بلکہ سب مل جل کر باہمی مشورے سے فیصلہ کرتے ہیں۔ اور یہ چیز ان کے اتحاد واتفاق، باہمی محبت، اور آپسی میل جول کا نتیجہ ہوتی ہے، نیز ان کے عقل کی پختگی پر دلالت کرتی ہے۔ چنانچہ ان کو جب کوئی ایسا معاملہ درپیش آتا ہے جو غور وفکر کرنے کا متقاضی ہے، تو وہ جمع ہو کر آپس میں مشورہ کرتے اور اس کا حل تلاش کرتے ہیں، اور جب حل تک پہنچ جاتے ہیں، اور مصلحت ان پر آشکار ہوجاتی ہے، تو وہ اس کو غنیمت جان کر فورا اس پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔ (السعدی: 760)
سوال:مسلمانوں کا آپس میں مشورہ کرنا ، ایک عظیم امر پر دلالت کرتا ہے، وہ کیا ہے؟
وَجَزَٰٓؤُاْ سَيِّئَةٖ سَيِّئَةٞ مِّثۡلُهَاۖ فَمَنۡ عَفَا وَأَصۡلَحَ فَأَجۡرُهُۥ عَلَى ٱللَّهِۚ
عفو و درگزر میں اللہ تعالىٰ نے یہ شرط لگائی ہے کہ اس سے اصلاح کی امید ہو، چنانچہ اگر مجرم اور گنہگار معافی کا مستحق نہ ہو، اور شرعی مصلحت اس کو سزا دینے کا تقاضہ کرتی ہو، تو ایسی صورت میں معاف کرنے کا حکم نہیں دیاجائیگا۔ (السعدی: 760)
سوال: عفو و درگزر کے بعد اصلاح کا ذکر کیوں کیا گیا ہے؟
وَجَزَٰٓؤُاْ سَيِّئَةٖ سَيِّئَةٞ مِّثۡلُهَاۖ فَمَنۡ عَفَا وَأَصۡلَحَ فَأَجۡرُهُۥ عَلَى ٱللَّهِۚ
معاف کرنے والے کا اجر اللہ تعالىٰ کے ذمہ کرنے میں منجملہ حکمتوں میں سے ایک حکمت عفو و درگزر پر ابھارنا ہے، لہذا بندہ مخلوق کے ساتھ ویسا ہی معاملہ اور سلوک کرے جیسا سلوک وہ اللہ تعالىٰ سے اپنے حق میں چاہتا ہے، چنانچہ جس طرح اسے یہ پسند ہے کہ اللہ تعالىٰ اس کے ساتھ عفو درگزر سے کام لے، اسے بھی چاہیئے کہ وہ مخلوق کے ساتھ عفو ودرگزر سے کام لے، اور جس طرح وہ چاہتا ہے کہ اللہ تعالىٰ اس کے ساتھ معافی وتلافی کا معاملہ کرے، اسے بھی چاہیئے کہ وہ مخلوق کے ساتھ ویسا ہی معاملہ کرے۔ (السعدی: 760)
سوال: معاف کرنے والے کا اجر اللہ تعالىٰ کے حوالے کرنے میں کیا فائدہ ہے؟
وَجَزَٰٓؤُاْ سَيِّئَةٖ سَيِّئَةٞ مِّثۡلُهَاۖ فَمَنۡ عَفَا وَأَصۡلَحَ فَأَجۡرُهُۥ عَلَى ٱللَّهِۚ إِنَّهُۥ لَا يُحِبُّ ٱلظَّٰلِمِينَ ٤٠ وَلَمَنِ ٱنتَصَرَ بَعۡدَ ظُلۡمِهِۦ فَأُوْلَٰٓئِكَ مَا عَلَيۡهِم مِّن سَبِيلٍ ٤١
(فمن عفا وأصلح فأجره على الله) اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ظالموں کو معاف کر دینا ان سے بدلہ لینے سے افضل ہے، کیونکہ عفو ودرگز کو اجر وثواب کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے، اور معافی اللہ تعالىٰ کے یہاں اجر کا ضامن ہے، جبکہ انتقام وبدلے کو اللہ تعالىٰ نے اپنے فرمان: (ولمن انتصر بعد ظلمه فأولئك ما عليهم من سبيل) میں اباحت اور جواز کی تعبیر میں ذکر کیا ہے۔ (ابن جزی: 2؍305)
سوال:عفو درگزر کرنا، انتقام وبدلہ سے کس طرح افضل ہے؟