قرآن
ﯔ
ﱐ
ﭚ ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ
ﭥ ٤١ ٤١ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ
ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ
ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ
ﮂ ٤٢ ٤٢ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ
ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ٤٣ ٤٣ ﮔ
ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ
ﮟ ﮠ ٤٤ ٤٤ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ
ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ
ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ٤٥ ٤٥ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ
ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ
ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ٤٦ ٤٦ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ
ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ
ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ ﰁ ﰂ ٤٧ ٤٧
ٱللَّهُ يَتَوَفَّى ٱلۡأَنفُسَ حِينَ مَوۡتِهَا
الله تعالىٰ نے خبر دى كہ وه روحوں كو قبض كر لیتاہے، یہاں خود اپنى جانب فعل كى نسبت اس بات كے منافى نہیں ہے كہ الله نے قبض روح كى ذمہ دارى ملك الموت اور ان كے اعوان وانصار كو دى ہے۔ كیونكہ الله تعالىٰ كچھ چیزوں كى نسبت اپنى طرف اس اعتبار سے كرتا ہے كیونكہ وہى ان اشیاء كا خالق و مدبر ہے، اور كبھى اسباب كى طرف ان كى نسبت كرتاہے ، اس اعتبار سے كہ یہ الله كى سنت رہی ہے كہ اس نے ہر كام كیلئے كچھ اسباب متعین كر ركھے ہیں۔ (السعدى: 725)
سوال: یہاں ہے کہ جانداروں كو الله وفات دیتاہے، كچھ مقامات پر ہے كہ ملك الموت وفات دیتےہیں ، آپ ان میں كیسے تطبیق دینگے؟
إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّقَوۡمٖ يَتَفَكَّرُونَ ٤٢
یعنى یہ الله كى كامل قدرت كى نشانیاں ہیں ، اس طور پر كہ كس روح كو چھوڑنا ہے ، كسے قبض كرلینا ہے اس میں كبھى چوك نہیں ہوتى ۔ مقاتل كہتےہیں: موت كے بعد دوباره اٹھائے جانے كے سلسلے میں غور وفكر كرنے والوں كیلئے اس میں نشانیاں ہیں، یعنى سوئى ہوئى نفس كو وفات دینا اور پھر جسے چاہنا اسكى روح واپس لوٹا دینا ، دوباره اٹھائے جانے پر واضح دلیل ہے۔ (البغوی 4؍19)
سوال: نیند میں روح روك لینا پھر اسے چھوڑ دینا دوباره اٹھائے جانےپر كس طرح دلالت كر تاہے؟
أَمِ ٱتَّخَذُواْ مِن دُونِ ٱللَّهِ شُفَعَآءَۚ قُلۡ أَوَلَوۡ كَانُواْ لَا يَمۡلِكُونَ شَيۡـٔٗا وَلَا يَعۡقِلُونَ ٤٣
شفاعت معنوى چیز ہے، اسكى ملكیت كا مطلب ہے اسكا جواب دینا۔اس كلام میں مشركین كا مذاق اڑایا گیا ہے کہ وه كیسے سفارش كرےگا جو سمجھتا تك نہیں ہے؟ غیر عاقل سے اس بات كا تصور ہى نہیں كیا جاسكتا كہ اس كو سفارش كا خیال آئے چہ جائے كہ وه کسی کی شفاعت طلبی پر طرف متوجہ ہو۔ لہٰذا ایسے كوسفارشى بنانا تو سراسر نادانى ہے۔(ابن عاشور: 24؍27)
سوال: بتوں كو سفارشى بنانے میں كس طرح سے مشركین كا استہزاء ہے؟
قُل لِّلَّهِ ٱلشَّفَٰعَةُ جَمِيعٗاۖ لَّهُۥ مُلۡكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۖ
یہاں یہ صراحت ہے کہ شفاعت صرف اور صرف الله كیلئے ہے، جیسا كہ دوسرى جگہ الله نے فرمایا:﴿مَن ذَا ٱلَّذِي يَشۡفَعُ عِندَهُۥٓ إِلَّا بِإِذۡنِهِۦ﴾ كون ہے جو الله كےپاس اسكى اجازت كے بغیر شفاعت كرے۔ (البقره: 255)۔ چنانچہ اللہ کی اجازت کے بغیر کوئی کسی کی سفارش نہیں کرسکتا۔ (القرطبی 18؍289)
سوال: كیا الله كے علاوه كوئى اور شفاعت كا مالك ہے؟
وَإِذَا ذُكِرَ ٱللَّهُ وَحۡدَهُ ٱشۡمَأَزَّتۡ قُلُوبُ ٱلَّذِينَ لَا يُؤۡمِنُونَ بِٱلۡأٓخِرَةِۖ
اس كا معنى یہ ہے کہ كفار الله كى توحید كو ناپسند كرتےہیں اور شرك سے لگاؤ ركھتےہیں، اور (اشمأوت) كا معنى ہے كہ شدید نفرت وكراہت كیوجہ سے انكے دل گھٹن محسوس كرتےہیں۔ (ابن جزى: 2؍271)
سوال: آپ اس آیت سے یہ استدلال كیسے كریں گے كہ توحید دل كےاعمال كو بھی شامل ہے؟
قُلِ ٱللَّهُمَّ فَاطِرَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ عَٰلِمَ ٱلۡغَيۡبِ وَٱلشَّهَٰدَةِ أَنتَ تَحۡكُمُ بَيۡنَ عِبَادِكَ فِي مَا كَانُواْ فِيهِ يَخۡتَلِفُونَ ٤٦
(فاطر السماوات والأرض) كى صفت الله كى صفتِ قدرت كا احساس دلاتى ہے، اور اسے علم كى صفت پر اسلئے مقدم كیا گیا ہے كیونكہ لوگوں كو الله كى قدرت كا احساس اسكے علم سےپہلے ہوتا ہے، اور اسلئے بھى كہ قدرت اور حكم میں گہرى مناسبت ہے،کیونکہ حکم میں قہر و غلبہ کا مفہوم ہے، اور قدرت اسی كا نتیجہ ہے۔ (ابن عاشور: 24؍31)
سوال: آیت كریمہ كى اپنے ماقبل سے كیا مناسبت ہے؟
وَبَدَا لَهُم مِّنَ ٱللَّهِ مَا لَمۡ يَكُونُواْ يَحۡتَسِبُونَ ٤٧
مجاہد كا قول ہے كہ وه لوگ كچھ ایسے كام كئے ہوں گے جنكے بارے میں ان كا خیال ہوگا كہ یہ بھلے ہیں پھر اچانك انہیں معلوم ہوگا كہ یہ سب تو برےكام تھے۔ اور یہ بھى ہوسكتا ہے کہ وه اس خوش گمانی میں رہےہوں كہ انہیں بغیر توبہ کے معاف كردیا جائے گا ۔ (وبدا لهم من الله ما لم يكونوا يحتسبون) اور الله كى طرف سے وه ظاہر ہوگا جس كا انہیں گمان نہیں تھا، یعنى كہ وه جہنم میں داخل ہوں گے۔
سفیان ثورى نے اس آیت كےبارے میں كہا: ریاكاروں كیلئے ہلاكت ہے، ان كےلئے تباہى ہے، یہ انہیں كى نشانى اور انہیں كى كہانى ہے۔
عكرمہ بن عمار نے كہا: محمد بن المنكدر اپنى موت كےوقت بہت زیادھ گھبراہٹ كےشكار تھے ، جب ان سے اس كى وجہ پوچھى گئى تو انہوں نے جواب دیا كہ مجھے قرآن كى ایك آیت سے ڈر لگ رہاہے: (وبدا لهم من الله ما لم يكونوا يحتسبون) بس مجھے ڈر ہے كہ كہیں مجھ پر وه چیز ظاہر نہ ہو جس كا میں نے گمان تك نہیں كیا تھا۔ (القرطبى: 18؍289)
سوال: كیا یہ ممكن ہےكہ جسے آپ بھلائی سمجھ رہے ہیں وه بروز قیامت برائى ٹھہرے؟