قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے



٤٥ ٤٥
Surah Header

ﭦﭛﭣﭤ
١ ١ ٢ ٢ ٣ ٣
٤ ٤
٥ ٥
ﭿ ٦ ٦

٧ ٧

٨ ٨

٩ ٩

١٠ ١٠


١١ ١١

١٢ ١٢
440
سورۃ فاطر آیات 0 - 45

وَلَوۡ يُؤَاخِذُ ٱللَّهُ ٱلنَّاسَ بِمَا كَسَبُواْ مَا تَرَكَ عَلَىٰ ظَهۡرِهَا مِن دَآبَّةٖ

ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے كہا: قریب ہے گبریلا اپنے بل ہى میں عذاب پاجائے كسى انسان كے گناه كےسبب۔ اور یحیىٰ بن أبی كثیر رحمہ اللہ نے كہا: ایك شخص نے كسى كو بھلائى كا حكم دیا اور برائى سے روكا تو اس سے ایك شخص نے كہا: تم اپنى فكر كرو؛ كیونكہ ظالم اپنا ہى نقصان كرےگا، تو ابو ہریره رضی اللہ عنہ نے كہا: تم نے جھوٹ كہا، الله كى قسم جس کے سوا كوئى معبود برحق نہیں، پھر كہا: اس ذات كى قسم جس كےہاتھ میں میرى جان ہے! ایك گوریا چڑیا اپنے گھونسلےمیں كمزور ہوكر مرجاتى ہے ظالم كے ظلم كى وجہ سے۔(القرطبى: 17؍401- 402)
سوال: كیا بندوں كےگناہوں كا اثر جانوروں اور چوپایوں تك پہونچ جاتاہے؟

سورۃ فاطر آیات 0 - 45

وَلَوۡ يُؤَاخِذُ ٱللَّهُ ٱلنَّاسَ بِمَا كَسَبُواْ مَا تَرَكَ عَلَىٰ ظَهۡرِهَا مِن دَآبَّةٖ وَلَٰكِن يُؤَخِّرُهُمۡ إِلَىٰٓ أَجَلٖ مُّسَمّٗىۖ فَإِذَا جَآءَ أَجَلُهُمۡ فَإِنَّ ٱللَّهَ كَانَ بِعِبَادِهِۦ بَصِيرَۢا ٤٥

یہ انہیں نصیحت ہے كہ پكڑ میں تاخیر سے وه دھوكہ نہ كھائیں، اور اسے عاجزى سمجھ بیٹھیں، یا ان كے كرتوتوں پر الله كى رضامندى سمجھ بیٹھیں، كیونكہ انہیں لوگوں نے كہا ہے: ﴿وَإِذۡ قَالُواْ ٱللَّهُمَّ إِن كَانَ هَٰذَا هُوَ ٱلۡحَقَّ مِنۡ عِندِكَ فَأَمۡطِرۡ عَلَيۡنَا حِجَارَةٗ مِّنَ ٱلسَّمَآءِ أَوِ ٱئۡتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٖ﴾ [الانفال: 32] یعنى جب انہوں نے كہا: اے الله! اگر یہى تیرے نزدیك حق پر ہیں تو ہم پر آسمان سے پتھر كى بارش كردے یا ہم پر دردناك عذاب نازل كردے) ۔
چنانچہ انہیں یہ بتلا رہا ہے كہ بتقاضائےحکمت الٰہی الله كے عذاب كا ایك وقت ہوتا ہے ، اس میں دوسرى امتوں كى مصلحتوں كى رعایت بھى ہوتى ہے، یا دوسرے آنے والى نسل كا بقا بھى ہوتاہے۔ (ابن عاشور: 22؍339)
سوال: مشرك كے سزا كى تاخیر میں اسكى حالت كے صحیح ہونے كى دلیل نہیں ہے، آیت كریمہ نے اسے كیسے واضح كیا ہے؟

سورۃ يس آیات 2 - 3

وَٱلۡقُرۡءَانِ ٱلۡحَكِيمِ ٢ إِنَّكَ لَمِنَ ٱلۡمُرۡسَلِينَ ٣

قرآن عظیم آپﷺ كى رسالت پر ہمیشہ رہنے والى قوى ترین دلیل ہے۔ قرآن حكیم كى حقانیت كے تمام دلائل درا صل رسول اللهﷺ كى رسالت كے دلائل ہیں۔(السعدى: 692)
سوال: نبى كریمﷺكى رسالت كیلئے سب سے قوى ترین دلیل كیا ہے؟

سورۃ يس آیات 0 - 5

تَنزِيلَ ٱلۡعَزِيزِ ٱلرَّحِيمِ ٥

الله تعالىٰ نے اس قرآن كو اپنى قدرت كاملہ سے تغیر وتبدل سے محفوظ فرمایا، اسكے ذریعے سے اپنے بندوں كو اپنى بےپایاں رحمت كے سائے میں لے لیا جو انہیں اس كے دار رحمت میں پہنچاتى ہے۔ بنابریں الله تعالىٰ نے اس آیت كریمہ كو اپنے دو كریم ناموں (العزيز) اور (الرحمي) پر ختم فرمایا۔(السعدى: 692)
سوال: آیت كریمہ كو ان دو كریم ناموں (العزيز) اور (الرحيم) پر ختم كیوں كیا گیا؟

سورۃ يس آیات 0 - 11

إِنَّمَا تُنذِرُ مَنِ ٱتَّبَعَ ٱلذِّكۡرَ وَخَشِيَ ٱلرَّحۡمَٰنَ بِٱلۡغَيۡبِۖ فَبَشِّرۡهُ بِمَغۡفِرَةٖ وَأَجۡرٖ كَرِيمٍ ١١

اسم جلالہ (اللّٰه) نہ لاكر یہاں صفت (الرحمن) لایا گیا ہے اسكى دو وجہیں ہیں: (1): كیونكہ مشركین اسم رحمٰن كا انكار كرتےتھے جیسا كہ ارشاد بارى ہے: ﴿قَالُواْ وَمَا ٱلرَّحۡمَٰنُ﴾ [الفرقان: 60]مشرکین کہتے ہیں یہ رحمٰن کون ہے؟۔ (2): اس بات كى طرف اشاره كہ اسكى رحمت عدم خشیت كا تقاضہ نہیں كرتى ہے، چنانچہ ایك مومن الله سے ڈرتا ہے جبكہ وه جانتا ہے كہ اسكى رحمت اسكے ساتھ ہے، پھر وه اسكى رحمت كى امید كرتاہے۔(ابن عاشور: 22؍354)
سوال: آیت كریمہ كےاندر لفظ جلالہ (اللّٰه) كو چھوڑ كر (الرحمن) كى صفت كو كیوں لایا گیا؟

سورۃ يس آیات 0 - 12

إِنَّا نَحۡنُ نُحۡيِ ٱلۡمَوۡتَىٰ وَنَكۡتُبُ مَا قَدَّمُواْ وَءَاثَٰرَهُمۡۚ وَكُلَّ شَيۡءٍ أَحۡصَيۡنَٰهُ فِيٓ إِمَامٖ مُّبِينٖ ١٢

آدمى كے آثار جو باقى ره جاتے ہیں اسكے مرنے كےبعد انہیں یاد كیا جاتا ہےاس پر اسےبدلہ دیاجائے گا۔ وه برائى اور بھلائى سب ہوسكتےہیں، یعنى اچھا اثر بھى ہوسكتا ہے جیسے كوئى علم جسے لوگوں كو سكھلایا ہو یا كتاب جسے لكھا ہو، اور برا اثربھی ہوسکتا ہے جیسے كوئى منصب جس پر كسى ظالم مسلمان كو بیٹھا دیا ہو، یا ایسى كوئى چیز ایجاد کی ہوجو الله كے ذكر سے غافل كرنے والى ہو جیسے میوزك گانا اور لہوولعب كى چیزیں ایجاد كردے، اسى طرح ہر اچھا اور برا طریقہ جسے بعد میں لوگ اپنا لیں۔ (القرطبى: 17؍420)
سوال: وفات كے بعد اچھا اثر چھوڑ كر جانے كى كیا اہمیت ہے؟ اور اسى طرح برا اثر چھوڑ كر جانے كا كیا انجام ہے؟

سورۃ يس آیات 0 - 12

إِنَّا نَحۡنُ نُحۡيِ ٱلۡمَوۡتَىٰ وَنَكۡتُبُ مَا قَدَّمُواْ وَءَاثَٰرَهُمۡۚ

اس سے مراد وه آثار خیر اور آثار شر ہیں جنہیں وه اپنى زندگى میں اور مرنے كے بعد وجود میں لانے كا سبب بنے اس مقام پر الله تعالىٰ كى طرف دعوت دینے اور ہر طریقے اور ذریعے سے اسكى طرف جانے والے راستے كى نشاندہى كرنے كى عظمت واضح ہوجاتى ہے۔ برائى كى طرف دعوت دینے اور اسكو رائج كرنے والا سب سے گھٹیا مخلوق ، سب سے بڑا مجرم اور سب سے زیاده گناہوں كا بوجھ اٹھانے والا ہے۔ (السعدى: 693)
سوال: اس آیت كى روشنى میں دعوت الى الله كا مقام ومرتبہ واضح كریں.