قرآن
ﮨ
ﱌ
ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ
٧١ ٧١ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ
ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ
ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ٧٢ ٧٢ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ
ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ
ﮉ ٧٣ ٧٣ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ
ﮑ ﮒ ٧٤ ٧٤ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ
ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ
ﮢ ﮣ ﮤ ٧٥ ٧٥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ
ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ
ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ
ﯤ ﯥ ﯦ ٧٦ ٧٦ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ
ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ
ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ ﰁ ﰂ ﰃ ﰄ ﰅ ٧٧ ٧٧
قُلۡ أَرَءَيۡتُمۡ إِن جَعَلَ ٱللَّهُ عَلَيۡكُمُ ٱلَّيۡلَ سَرۡمَدًا إِلَىٰ يَوۡمِ ٱلۡقِيَٰمَةِ مَنۡ إِلَٰهٌ غَيۡرُ ٱللَّهِ يَأۡتِيكُم بِضِيَآءٍۚ أَفَلَا تَسۡمَعُونَ ٧١
اللہ کی وحدانیت پر استدلال کرنے کا بہت ہی انوکھا طریقہ اختیار کیا گیا ہے۔یہ عجیب کاریگری جو روزانہ دومرتبہ پیش آتی رہتی ہے جسے ہر باشعور آسانی سے سمجھ سکتاہے اورجو اس دنیا میں مظاہر فطرت کی تبدیلی کی سب سے واضح مظہر ہے۔ (ابن عاشور: ۲۰؍۱۶۸)
سوال:اللہ کی وحدانیت کے لئے شب وروزکی تبدیلی سے کیوں استدلال کیا گیا ہے؟
قُلۡ أَرَءَيۡتُمۡ إِن جَعَلَ ٱللَّهُ عَلَيۡكُمُ ٱلَّيۡلَ سَرۡمَدًا إِلَىٰ يَوۡمِ ٱلۡقِيَٰمَةِ مَنۡ إِلَٰهٌ غَيۡرُ ٱللَّهِ يَأۡتِيكُم بِضِيَآءٍۚ أَفَلَا تَسۡمَعُونَ ٧١
ان آیات کریمہ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ بندے کو چاہئے کہ وہ اللہ کی نعمتوں میں غوروفکر کرے، ان میں بصیرت حاصل کرے اور ان کے وجود اور ان کے عدم ِوجود کے درمیان موازنہ کرے کیونکہ جب وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے وجود اور ان کے عدم وجود کے مابین موازنہ کریگا تو اس کی عقل کو اللہ کے احسان اور عنایت پر آگاہی حاصل ہوگی۔اس کے برعکس اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ یہ ایسا معاملہ ہے جو ہمیشہ سے اسی طرح سے چلا آرہا ہے اور اسی طرح چلتا رہے گا اور اس کا دل اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر اس کی حمد وثناء سے خالی اور اس کی حقیقت کے دیدار سے بے بہرہ ہے کہ وہ ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا محتاج ہے تو وہ ایسا شخص ہے جس کے دل میں کبھی ذکر اور شکر کا خیال پیدا نہیں ہوتا۔ (السعدی؍۶۲۳)
سوال:مذکورہ آیتیں اللہ کی نعمتوں میں غوروفکر او ر تدبر کی ایک خاص حالت کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ وہ کیا ہے؟
وَمِن رَّحۡمَتِهِۦ جَعَلَ لَكُمُ ٱلَّيۡلَ وَٱلنَّهَارَ لِتَسۡكُنُواْ فِيهِ وَلِتَبۡتَغُواْ مِن فَضۡلِهِۦ وَلَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُونَ ٧٣
اللہ تعالیٰ نے شب وروز کو تقسیم کرکے ایک کو سکون حاصل کرنے اور دوسرے کو چل پھر کر روزی تلاش کرنے کا ذریعہ بنادیا اور شب وروز کے تعلق سے اکثریت کا یہی حال ہے چنانچہ اسی اغلبیت کو دیکھ کر نعمتوں کو بیان کیا گیا۔ گرچہ ایسے لوگ بھی ملیں گے جو دن میں سکون حاصل کرتے او رراتوں میں روزی تلاش کرتے ہیں لیکن ایسا شاذونادر ہے،جس کا شمار نہیں ہوتا۔ (ابن عطیہ: ۴؍ ۲۹۷)
سوال:اگر کوئی دن میں سوئے اور رات میں جاگے تو کیا وہ آیت کے مفہوم کے منافی ہے؟اس کی وضاحت کیجئے.
إِنَّ قَٰرُونَ كَانَ مِن قَوۡمِ مُوسَىٰ فَبَغَىٰ عَلَيۡهِمۡۖ
جب اللہ تعالیٰ نے یہ فرمادیا: (وما أوتيتم من شيء فمتاع الحياة الدنيا وزينتها) یعنی جو کچھ بھی تمہیں دیا گیا وہ محض دنیوی مال ومتاع اور اس کی زیب وزینت ہے۔پھر اس کے بعد یہ بھی وضاحت کردی کہ قارون کواسی دنیاوی مال ومتاع سے نوازاگیا لیکن اس نے غرورکیا پھر وہ فرعون کی طرح اللہ کے عذاب سے نہ بچ سکا۔اور اے مشرکو!تم قارون اور فرعون سے نفری تعداد اور مال ومتاع کے اعتبار سے کسی طور بڑھ کر نہیں ہو، اس کے باوجود فرعون کو اس کی فوج اور مال ودولت نے کوئی فائدہ نہ دیا اوراسی طرح قارون کو موسیٰ علیہ السلام کی قرابت اور اس کے خزانے کوئی فائدہ نہ پہنچاسکے۔ (القرطبی: ۱۶؍۳۱۲)
سوال:اس بات کی وضاحت کیجئے کہ اللہ تعالیٰ نے قارون کا قصہ یہاں کیوں بیان کیا،نیز اس سے کیا نصیحت ملتی ہے؟
إِذۡ قَالَ لَهُۥ قَوۡمُهُۥ لَا تَفۡرَحۡۖ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ ٱلۡفَرِحِينَ ٧٦
(لا تفرح)یہاں “فرح وسرور” سے مراد وہ خوشی ہے جو خودپسندی اور ظلم تک لے جائے۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: (إن الله لا يحب الفرحين)بےشک اللہ تعالیٰ اترانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔اور یہ بھی کہاگیا کہ اس سے مراد دنیا پر خوش ہونا ہے کیونکہ دنیا پر وہی خوش ہوسکتاہے جو آخرت سے غافل ہو اور اس پر اللہ کا یہ قول دلالت کرتاہے: ﴿وَلَا تَفۡرَحُواْ بِمَآ ءَاتَىٰكُمۡ﴾ (سورۂ حدید: ۲۳) یعنی اللہ تعالیٰ نے جن نعمتوں سے تمہیں نواز رکھا ہے اس پر بہت خوش مت رہو۔ (ابن جزی: ۲؍ ۱۵۱)
سوال:کس خوشی سے منع کیا گیا ہے؟
وَلَا تَنسَ نَصِيبَكَ مِنَ ٱلدُّنۡيَاۖ وَأَحۡسِن كَمَآ أَحۡسَنَ ٱللَّهُ إِلَيۡكَۖ
یعنی دنیا کے اپنے حصہ کو ضائع نہ کروبلکہ اس سے فائدہ اٹھاؤ اور ساتھ ہی آخرت کے لئے بھی عمل کرو۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ نیک اعمال کو چھوڑکر اپنی عمر ضائع نہ کرو کیونکہ دنیا میں انسان کا حصہ وہی اچھا عمل ہے جو وہ کرتا ہے۔ اس طورپر یہ کلام بطور وعظ اور نصیحت کے ہوگا۔ پہلے قول کے مطابق دنیا سے فائدہ اٹھانا جائزہوگا تاکہ آدمی نصیحت قبول کرنے سے منکر نہ ہو۔ (وأحسن كما أحسن الله إليك) جس طرح اللہ تعالیٰ نے تمہیں مالدار بناکر تم پر احسان کیا اسی طرح تم بھی اللہ کے بندوں پر احسان کرو۔(ابن جزی: ۲؍۱۵۱)
سوال:بندہ مال کے فتنہ سے کس طرح نجات پاسکتا ہے؟
وَلَا تَنسَ نَصِيبَكَ مِنَ ٱلدُّنۡيَاۖ
لفظ “نصیب” کو بندے کی ضمیر کی طرف اضافت کرنا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ “نصیب” اس کا حق ہے چنانچہ آدمی کا یہ حق ہے کہ وہ دنیا کے اندر اپنے مناسب حال کے مطابق اس سے فائدہ اٹھائے خاص طور سے ان چیزوں سے جو عبادات کا ذریعہ نہ ہو ں اور نہ وہ حرام ہوں۔ (ابن عاشور: ۲۰؍۱۷۹)
سوال:کسی مسلمان کے لئے مناسب نہیں ہے کہ وہ گنجائش کے باوجود کھانے پینے میں تنگی کرے۔اس کی وضاحت کیجئے.