قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے


٣٦ ٣٦


٣٧ ٣٧

ﭿ

٣٨ ٣٨


٣٩ ٣٩

٤٠ ٤٠


٤١ ٤١

٤٢ ٤٢


٤٣ ٤٣
390
سورۃ القصص آیات 0 - 36

فَلَمَّا جَآءَهُم مُّوسَىٰ بِـَٔايَٰتِنَا بَيِّنَٰتٖ قَالُواْ مَا هَٰذَآ إِلَّا سِحۡرٞ مُّفۡتَرٗى وَمَا سَمِعۡنَا بِهَٰذَا فِيٓ ءَابَآئِنَا ٱلۡأَوَّلِينَ ٣٦

(وما سمعنا بهذا) اس کے بارے میں تو ہم نے سنا ہی نہیں۔ یعنی وہ رسالت جس کا تم اللہ کی طرف سے لانے کا دعویٰ کررہے ہو (في آبائنا)اپنے باپ دادا کی زندگیوں میں۔ انہوں نے دراصل یہ کہہ کر اس بدعت کی طرف اشارہ کیا ہے جس نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کرکے رکھ دیا اور وہ بدعت ہے “تقلیدی رسم ورواج کو دلیل بنانا” خاص کر اس کے زیادہ قدیم ہونے کی وجہ سے۔ (البقاعی: ۱۴؍۲۹۲)
سوال:بدعتی اپنی بدعت کو ثابت کرنے کے لئے اکثر کون سی دلیل دہراتے رہتے ہیں؟

سورۃ القصص آیات 0 - 38

وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ يَٰٓأَيُّهَا ٱلۡمَلَأُ مَا عَلِمۡتُ لَكُم مِّنۡ إِلَٰهٍ غَيۡرِي فَأَوۡقِدۡ لِي يَٰهَٰمَٰنُ عَلَى ٱلطِّينِ فَٱجۡعَل لِّي صَرۡحٗا لَّعَلِّيٓ أَطَّلِعُ إِلَىٰٓ إِلَٰهِ مُوسَىٰ وَإِنِّي لَأَظُنُّهُۥ مِنَ ٱلۡكَٰذِبِينَ ٣٨

تعجب ہے قوم کے ان سربراہوں پر جنہیں اپنے بڑے پن کا بڑا گمان تھا کہ کیسے یہ شخص ان کی عقلوں سے کھیلتا اور انہیں بے وقوف بناتا تھا!؟ یہ دراصل ان کے فسق وفجور کی وجہ سے تھا جس کی گہرائی میں وہ ڈوبے ہوئے تھے جس سے پہلے ان کا دین فاسد ہوا پھر ان کی عقلیں بربادہوکر رہ گئیں۔ (السعدی؍ ۶۱۶)
سوال:قوم فرعون کی عقلیں کیسے خراب ہوگئیں؟

سورۃ القصص آیات 0 - 40

فَٱنظُرۡ كَيۡفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلظَّٰلِمِينَ ٤٠

اے محمد ﷺ!آپ دل کی نگاہوں سے ان پر غور فرمائیے کہ ان ظالموں کا معاملہ کس قدر سنگین تھا کہ پہلے انہوں نے اپنے رب کا انکا رکیا،پھر اس کے رسول کی نصیحت کو ٹھکرادیا۔تو کیا ہم انہیں ہلاک کرکے ان کے گھر باراور مال ودولت کا مالک اپنے نیک بندوں کو نہ بنادیں! (الطبری: ۱۹؍۵۸۲)
سوال:اللہ تعالیٰ نے نبیﷺ کو فرعون اور اس کے لشکر کے انجام ِہلاکت پر غوروفکر کرنے کا حکم دیا ہے حالانکہ آپ ﷺ کو ان ظالموں کے زمانہ میں رہ کر ان کی صحبت نہیں ملی تھی۔ اسے واضح کیجئے.

سورۃ القصص آیات 0 - 41

وَجَعَلۡنَٰهُمۡ أَئِمَّةٗ يَدۡعُونَ إِلَى ٱلنَّارِۖ وَيَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ لَا يُنصَرُونَ ٤١

(أئمة يدعون إلى النار) یعنی وہ لوگوں کو کفر کی طرف دعوت دیتے ہیں جو جہنم کا موجب ہے۔ (ابن جزی: ۲؍ ۱۴۳)
سوال:ایک انسان جہنم کا داعی کیسے بن جاتاہے؟

سورۃ القصص آیات 0 - 41

وَجَعَلۡنَٰهُمۡ أَئِمَّةٗ يَدۡعُونَ إِلَى ٱلنَّارِۖ وَيَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ لَا يُنصَرُونَ ٤١

یعنی ہم نے انہیں ایسا سربراہ بنادیا ہے جن کی اتباع کفر میں کی جاتی ہے۔اسی لئے ان پر ان کے پیروکاروں کا بھی گناہ ہوگا۔یہاں تک کہ ان کی سزا زیادہ ہوجائیگی۔ یہ بھی کہاگیا ہے کہ فرعون کی قوم کے بڑے لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے نچلے طبقوں کا سردار بنادیا تھا،وہی انہیں جہنم کی طرف بلاتے تھے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ ایسے پیشوا ہیں جن کی اقتدا برے انجام سے دوچار ہونے والے کرتے ہیں اور عقلمندی وبصیرت والے ان سے نصیحت پکڑتے ہیں۔ (القرطبی: ۱۶؍۳۳۰)
سوال:واضح کیجئے کہ وہ کیسے کفر کے سربراہ تھے؟

سورۃ القصص آیات 0 - 43

وَلَقَدۡ ءَاتَيۡنَا مُوسَى ٱلۡكِتَٰبَ مِنۢ بَعۡدِ مَآ أَهۡلَكۡنَا ٱلۡقُرُونَ ٱلۡأُولَىٰ بَصَآئِرَ لِلنَّاسِ وَهُدٗى وَرَحۡمَةٗ لَّعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّرُونَ ٤٣

یقیناً یہ اللہ تعالیٰ کی سنت رہی ہے کہ نزول تورات سے پہلے جب کسی نبی کو جھٹلایا جاتا تھا تو اللہ تعالیٰ ان جھٹلانے والوں کو اپنے عذاب سے دوچار کردیتا تھا جس طرح کہ قوم ِنوح کو پانی میں ڈبو کر،قوم ہود کو تیز آندھی کے ذریعہ،قوم صالح کو سخت چیخ کے ذریعہ،قوم شعیب کو سائے والی بدلی کے ذریعہ،قوم لوط کو پتھروں کی بارش کے ذریعہ اور قوم ِ فرعون کو سمندر میں ڈبوکر ہلاک کردیا۔(ابن تیمیہ: ۵؍۸۰)
سوال:گناہ گار قوموں کو اللہ تعالیٰ نے مختلف قسم کے عذاب سے ہلاک کیا۔ ان میں سے پانچ طرح کے عذاب کا ذکر کریں.

سورۃ القصص آیات 0 - 43

وَلَقَدۡ ءَاتَيۡنَا مُوسَى ٱلۡكِتَٰبَ مِنۢ بَعۡدِ مَآ أَهۡلَكۡنَا ٱلۡقُرُونَ ٱلۡأُولَىٰ

یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ نزول تورات کے بعد عام عذاب کے ذریعہ ہلاکت کا سلسلہ ختم ہوگیا اور کافروں سے تلوار کے ذریعہ جہاد کرنا مشروع ہوگیا۔
(السعدی؍۶۱۷)
سوال:فرعون اور اس کی قوم کی ہلاکت کے بعد کیا کسی اور قو م کو عام عذاب کے ذریعہ ہلاک کیا گیا ہے؟