قرآن
ﮦ
ﱋ
ﭞ ﭟ ١١٣ ١١٣ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ١١٤ ١١٤ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ
١١٥ ١١٥ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ١١٦ ١١٦ ﭵ
ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ١١٧ ١١٧ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ
ﮁ ﮂ ﮃ ١١٨ ١١٨ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ
١١٩ ١١٩ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ١٢٠ ١٢٠ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ
ﮘ ﮙ ١٢١ ١٢١ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ١٢٢ ١٢٢ ﮡ
ﮢ ﮣ ١٢٣ ١٢٣ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ١٢٤ ١٢٤ ﮭ ﮮ
ﮯ ﮰ ١٢٥ ١٢٥ ﯓ ﯔ ﯕ ١٢٦ ١٢٦ ﯗ ﯘ ﯙ
ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ١٢٧ ١٢٧ ﯤ ﯥ ﯦ
ﯧ ﯨ ١٢٨ ١٢٨ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ١٢٩ ١٢٩
ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ١٣٠ ١٣٠ ﯴ ﯵ ﯶ ١٣١ ١٣١
ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ١٣٢ ١٣٢ ﯾ ﯿ ﰀ
١٣٣ ١٣٣ ﰂ ﰃ ١٣٤ ١٣٤ ﰅ ﰆ ﰇ ﰈ ﰉ ﰊ
١٣٥ ١٣٥ ﰌ ﰍ ﰎ ﰏ ﰐ ﰑ ﰒ ﰓ ﰔ ١٣٦ ١٣٦
قَالَ وَمَا عِلۡمِي بِمَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ ١١٢
نوح علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا:مجھے کیا معلوم میرے پیروکار کیا کرتے ہیں،میں تو ان کا ظاہر جانتا ہوں نہ کہ باطن اور باطن کے علم کا مکلف بھی نہیں ہوں،میں تو صرف ظاہر کا مکلف ہوں،چنانچہ جس نے ظاہر میں اچھا کیا اسے میں اچھا سمجھوں گا اور جس نے ظاہر میں براکیااسے میں برا سمجھوں گا۔ گویا آپ کہہ رہے ہیں:بیشک ان کے باطنی معاملات کا حساب جن کا علم مجھے نہیں ہے وہ میرے رب کے ذمہ ہے،کاش!یہ بات تم سمجھ سکتے۔کیونکہ میرا رب تو ان کا باطن اور ظاہر سب جانتا ہے۔ (طبری۱۹؍۳۷۰)
سوال:ایک داعی لوگوں کے ظاہری حالات کا ذمہ دار ہے نہ کہ باطنی معاملات کا۔آیت کی روشنی میں اس کی وضاحت کریں.
وَمَآ أَنَا۠ بِطَارِدِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ ١١٤ إِنۡ أَنَا۠ إِلَّا نَذِيرٞ مُّبِينٞ ١١٥
لگتا ہے کہ قریش کی طرح انہو ں نے بھی کمزوروں کو بھگانے کا مطالبہ کیا تھا (إن أنا إلا نذير مبين) یعنی اللہ نے مجھے فقراء کو چھوڑکر صرف مالداروں کے پاس نہیں بھیجا ہے۔ بیشک میں ایک رسول ہوں اور تبلیغ میری ذمہ داری ہے جو میری بات مانے گا وہ عنداللہ کامیاب اور نیک بخت ہوگاچاہے وہ فقیر ہی کیوں نہ ہو۔ (القرطبی: ۱۶؍۵۳)
سوال:کیا دعوت مالداروں کے ساتھ خاص ہے؟آیت کی روشنی میں اس کی وضاحت کیجئے.
أَتَبۡنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ ءَايَةٗ تَعۡبَثُونَ ١٢٨
وعظ ونصیحت کا مقام منکَر کام کے مٹانے سے کہیں زیادہ بڑھ کر ہے۔چنانچہ ہود علیہ السلام کی نصیحت سیدھا ان کی روحانی بیماریوں کی طرف متوجہ ہے۔ انہوں نے جو نشانیاں اور صنعتیں بنائیں انہیں بدلنے سے متعلق ان کی نصیحت بالکل نہیں ہے۔ (ابن عاشور: ۹۱؍۶۶۱)
سوال:کیا ہود علیہ السلام نے عمارتیں بنانے پر اپنی قوم کی نکیر کی؟
أَتَبۡنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ ءَايَةٗ تَعۡبَثُونَ ١٢٨ وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمۡ تَخۡلُدُونَ ١٢٩ وَإِذَا بَطَشۡتُم بَطَشۡتُمۡ جَبَّارِينَ ١٣٠
ہود علیہ السلام کا اپنی قوم کو اس انداز میں ڈانٹنا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ان کے دلوں میں کس قدر دنیا کی محبت اور تکبر وگھمنڈ بیٹھ چکے تھے۔یہاں تک کہ اسی دنیا پرستی اور غرور نے انہیں اللہ کی بندگی سے بے نیاز کردیاتھا۔ (الوسی: ۱۰؍۱۰۸)
سوال:دنیا کی محبت میں حد سے تجاوز کرنے کا کیا اثر ہوتا ہے؟
أَمَدَّكُم بِأَنۡعَٰمٖ وَبَنِينَ ١٣٣
نعمتوں کے شمار کرانے میں ہود علیہ السلام نے سب سے پہلے چوپایوں کا ذکر کیاہے اس لئے کہ ان لوگوں کے لئے یہی سب سے بڑی نعمت تھی کیونکہ انہی سے وہ اپنا رزق اورلباس حاصل کرتے تھے اور انہی پر سفر کرتے تھے۔ (ابن عاشور: ۱۹؍۱۷۰)
سوال:آیت کریمہ میں چوپایوں کو سب سے پہلے کیوں ذکر کیا گیا؟
قَالُواْ سَوَآءٌ عَلَيۡنَآ أَوَعَظۡتَ أَمۡ لَمۡ تَكُن مِّنَ ٱلۡوَٰعِظِينَ ١٣٦
قوم عاد طاقت وقوت اور سلطنت میں اس قدر بڑھی ہوئی تھی کہ جس کی بنیاد پر انہوں نے یہ بات کہہ ڈالی: ﴿مَنۡ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً﴾ (سورۂ فصلت: ۱۵)یعنی طاقت میں ہم سے بڑھ کر کون ہے؟ ایک لمبی مدت تک انہوں نے ایسی ہی زندگی گذاری جس میں انہوں نے اپنی خواہشات ِنفس کو پورا کرنے میں خوب فنکاری سے کام لیا،لذت وآسائش میں خوب مگن ہوئے اور اپنے آپ پر خوب گھمنڈ کیا یہاں تک کہ دین اور تزکیۂ نفس جیسے اہم انسانی پہلوؤں کو گنوا بیٹھے،اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے حقوق میں کوتاہی کی او ر نصیحت کرنے والوں کو بے وقوف سمجھا۔ (ابن عاشور: ۱۹؍۱۶۵)
سوال: اللہ کے ذکر سے غافل سماج پرنعمتوں کی کثرت کی خطرناکی واضح کیجئے.
قَالُواْ سَوَآءٌ عَلَيۡنَآ أَوَعَظۡتَ أَمۡ لَمۡ تَكُن مِّنَ ٱلۡوَٰعِظِينَ ١٣٦
(قالوا سواء علينا أوعظت أم لم تكن من الواعظين) یعنی ہمارے لئے سب برابرہے۔ہم کسی طور تم سے کوئی بات سننے والے نہیں ہیں اور جو کچھ تم ہم سے کہہ رہے ہو اس کی طرف بھی ہم کچھ دھیان دینے والے نہیں ہیں۔ (القرطبی: ۱۶؍۵۹)
سوال:سخت دل والوں کو جب نصیحت کی جاتی ہے اور اللہ یاد دلایاجاتا ہے تو ان کا کیا حال ہوتا ہے؟