قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے

٤٠ ٤٠
٤١ ٤١

٤٢ ٤٢

٤٣ ٤٣

٤٤ ٤٤
ﭿ
٤٥ ٤٥
٤٦ ٤٦ ٤٧ ٤٧
٤٨ ٤٨


٤٩ ٤٩

٥٠ ٥٠

٥١ ٥١

٥٢ ٥٢
٥٣ ٥٣
٥٤ ٥٤
٥٥ ٥٥
٥٦ ٥٦
٥٧ ٥٧ ٥٨ ٥٨
٥٩ ٥٩
٦٠ ٦٠
369
سورۃ الشعراء آیات 0 - 43

قَالَ لَهُم مُّوسَىٰٓ أَلۡقُواْ مَآ أَنتُم مُّلۡقُونَ ٤٣

موسیٰ علیہ السلام نے میدان میں اپنی لاٹھی ڈالنے میں پہل نہیں کی کیونکہ یہاں علم کا مسئلہ تھا جنگ کا نہیں۔معرکہ میں نقصان دہ امورکو ختم کرکے جنگ میں پہل کی جاتی ہے لیکن علم کے میدان میں مد مقابل کی طرف سے پہل کرنا بہتر ہوتا ہے کیونکہ جب وہ اپنی تمام حجتوں کو سامنے لے آئیگاتو اس کی تمام حجتوں کو شواہد اور دلائل کی روشنی میں باطل کرنا آسان ہوجائیگااور حق ظاہر ہوکر باطل پر غالب ہوجائیگااور موسیٰ علیہ السلام نے یہ اسلوب بحکم الہی اختیار کیا تھا۔ (جزائری: ۳؍ ۶۴۹)
سوال:موسیٰ علیہ السلام نے جادوگروں سے پہلے اپنی لاٹھی کیوں نہیں ڈالی؟

سورۃ الشعراء آیات 0 - 44

فَأَلۡقَوۡاْ حِبَالَهُمۡ وَعِصِيَّهُمۡ وَقَالُواْ بِعِزَّةِ فِرۡعَوۡنَ إِنَّا لَنَحۡنُ ٱلۡغَٰلِبُونَ ٤٤

(وقالوا بعزة فرعون) یعنی انہوں نے فرعون کی عزت وجلال کی قسم کھاکر کہا۔تو جو بھی غیر اللہ کی قسم کھائے گا جیسے کہ کہے:فلاں کی زندگی کی قسم، فلاں کے سر کی قسم!اور اس قسم کی دوسری قسمیں۔تو گویا وہ اسی طرز جاہلیت کی پیروی میں ہے۔ (البقاعی: ۱۴؍ ۳۲-۳۳)
سوال:غیر اللہ کی قسم کھانا اللہ کے ساتھ تعظیم میں اس ذات کو برابراور شریک ٹھہرانا ہے جس کی قسم کھائی جارہی ہے۔اس کی وضاحت کریں.

سورۃ الشعراء آیات 0 - 44

فَأَلۡقَوۡاْ حِبَالَهُمۡ وَعِصِيَّهُمۡ وَقَالُواْ بِعِزَّةِ فِرۡعَوۡنَ إِنَّا لَنَحۡنُ ٱلۡغَٰلِبُونَ ٤٤

ان لوگوں کا ارادہ تھا کہ اس سے موسیٰ علیہ السلام کے دل میں خوف پیدا ہوجائیگا تاکہ اپنی باری میں آپ بیزار نفسی سے لاٹھی ڈالیں۔کیونکہ انہیں یہ بات اچھی طرح معلوم تھی کہ پختہ ارادہ دراصل جادو کی کامیابی میں اور ناظرین پر اس کا اثر ڈالنے میں سب سے بڑا سبب ہے۔ (ابن عاشور: ۱۹؍۱۲۷)
سوال:جادوگروں نے یہ کیوں کہا: (إنا لنحن الغالبون)“بے شک ہم ہی غالب رہیں گے”؟

سورۃ الشعراء آیات 0 - 49

إِنَّهُۥ لَكَبِيرُكُمُ ٱلَّذِي عَلَّمَكُمُ ٱلسِّحۡرَ

یہ ہٹ دھرمی ہے،اس کا باطل ہونا ہر ایک کو معلوم ہے کیونکہ اس سے پہلے یہ لوگ موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ کبھی اکٹھا نہیں ہوئے تھے۔ پھر آپ ان جادوگروں کے بڑے استاد کیسے ہوسکتے تھے اور انہیں جادو کیسے سکھاسکتے تھے!اس طرح کی بات کوئی عقلمند نہیں کہہ سکتا۔ (ابن کثیر: ۳؍۳۲۴)
سوال:آیت کریمہ فرعون کی بہت بڑی ہٹ دھرمی پر دلالت کرتی ہے۔اس کی وضاحت کریں.

سورۃ الشعراء آیات 0 - 50

قَالُواْ لَا ضَيۡرَۖ

جادوگروں نے جس وقت ایمان کی مٹھاس حاصل کرلی اور اس کی لذت چکھ لی تو کہا کہ ہمیں کوئی پرواہ نہیں ہے کہ تم ہمیں کیا دھمکی دے رہے ہو۔ (السعدی؍۵۹۲)
سوال:فرعون کی دھمکی سے جادوگر متاثر کیوں نہیں ہوئے؟

سورۃ الشعراء آیات 0 - 51

إِنَّا نَطۡمَعُ أَن يَغۡفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطَٰيَٰنَآ أَن كُنَّآ أَوَّلَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ ٥١

انہوں نے حرص ولالچ سے تعبیر کیا جس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ سعادت مندی کے تمام اسباب اللہ کی طرف سے ہوتے ہیں گویا ا ن کی طرف اصلاً کوئی سبب نہیں ہے۔ (البقاعی: ۱۴؍۳۶)
سوال:مغفرت میں حرص ولالچ کی تعبیر کا کیافائدہ ہے؟

سورۃ الشعراء آیات 0 - 56

وَإِنَّا لَجَمِيعٌ حَٰذِرُونَ ٥٦

مطلب یہ ہے کہ خوف وحذر آپ کی عادت ہے لہذا امت کو بھی چاہئے کہ اس صفت میں آپ کے ساتھ رہے۔یعنی ہماری عادت ہے کہ حوادث کے وقت ہم چوکنا ہوجاتے ہیں اور جو اس کے نتیجہ میں برے انجام پیش آسکتے ہیں اس بات سے بھی۔اور یہ سیاست کا بہت اہم اصول ہے جسے فساد کے اسباب کو روکنا کہتے ہیں،گرچہ اس کا فسادتک پہنچنا کمزور ترین ہی کیوں نہ ہو۔ (ابن عاشور: ۱۹؍۱۳۱)
سوال:آیت کریمہ سیاست کے ایک بہت بڑے اصول پر دلالت کرتی ہے۔اس کی وضاحت کریں.