قرآن
ﮤ
ﱊ
ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ
ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ١١ ١١ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ
ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ١٢ ١٢ ﭿ
ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ
ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ١٣ ١٣ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ
ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ١٤ ١٤
ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ
ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ١٥ ١٥ ﮰ ﮱ ﯓ
ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ
١٦ ١٦ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ١٧ ١٧
ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ١٨ ١٨ ﯳ ﯴ
ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ
ﯿ ﰀ ﰁ ﰂ ﰃ ﰄ ﰅ ﰆ ﰇ ١٩ ١٩ ﰉ
ﰊ ﰋ ﰌ ﰍ ﰎ ﰏ ﰐ ﰑ ٢٠ ٢٠
إِنَّ ٱلَّذِينَ جَآءُو بِٱلۡإِفۡكِ عُصۡبَةٞ مِّنكُمۡۚ لَا تَحۡسَبُوهُ شَرّٗا لَّكُمۖ بَلۡ هُوَ خَيۡرٞ لَّكُمۡۚ لِكُلِّ ٱمۡرِيٕٖ مِّنۡهُم مَّا ٱكۡتَسَبَ مِنَ ٱلۡإِثۡمِۚ وَٱلَّذِي تَوَلَّىٰ كِبۡرَهُۥ مِنۡهُمۡ لَهُۥ عَذَابٌ عَظِيمٞ ١١
(بل هو خير لكم)یہ خطاب مسلمانوں کے لئے ہے اوراس میں ان کے لئے بھلائی پانچ وجوہات سے ہے: 1۔ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی براءت، 2۔ اللہ تعالیٰ کا اُن کی شان میں وحی نازل کرکے ان کی عزت واکرام کرنا،3۔ ان کے خلاف تہمت لگائے جانے پر انہیں بہت زیادہ اجروثواب کا ملنا،4۔ مومنوں کو نصیحت اور5۔ تہمت لگانے والوں سے بدلہ لینا۔ (ابن جزی: ۲؍۸۴)
سوال:واقعۂ اِفک کے اندر خیر کی بعض صورتوں کی وضاحت کیجئے.
لَّوۡلَآ إِذۡ سَمِعۡتُمُوهُ ظَنَّ ٱلۡمُؤۡمِنُونَ وَٱلۡمُؤۡمِنَٰتُ بِأَنفُسِهِمۡ خَيۡرٗا وَقَالُواْ هَٰذَآ إِفۡكٞ مُّبِينٞ ١٢
مطلب یہ ہے کہ مومن مردوں اور عورتوں کے لئے مناسب یہی تھا کہ اس سنگین مسئلہ کو اپنے اوپر ہی قیاس کرتے اگر یہ چیز ان کے لئے بعید تھی تو عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے لئے ان کی فضیلتوں کی بناپر بدرجہ اولیٰ بعید تھی۔اس طرح کی فکر ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی سے پوچھا: کیا اس طرح کی حرکت تم سے ہوسکتی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: نہیں اللہ کی قسم، تو ابوایوب نے کہا: تو عائشہ تو تم سے زیادہ افضل ہیں!ان کی اہلیہ نے کہا:ہاں!(ابن جُزی: ۲؍۸۵)
سوال:اس وقت ایک مسلمان کے لئے کیا واجب ہے جب وہ نیک لوگوں کے تعلق سے غیر مناسب بات سنے؟
إِذۡ تَلَقَّوۡنَهُۥ بِأَلۡسِنَتِكُمۡ وَتَقُولُونَ بِأَفۡوَاهِكُم مَّا لَيۡسَ لَكُم بِهِۦ عِلۡمٞ وَتَحۡسَبُونَهُۥ هَيِّنٗا وَهُوَ عِندَ ٱللَّهِ عَظِيمٞ ١٥ وَلَوۡلَآ إِذۡ سَمِعۡتُمُوهُ قُلۡتُم مَّا يَكُونُ لَنَآ أَن نَّتَكَلَّمَ بِهَٰذَا سُبۡحَٰنَكَ هَٰذَا بُهۡتَٰنٌ عَظِيمٞ ١٦
(تلَقَّونه) اس کا مفہوم یہ ہے کہ تم اس قبیح گفتگو کو ایک دوسرے میں پھیلا رہے تھے۔اس کلام کے اندر اور اس کے پہلے اور بعد میں ان لوگوں کے لئے عتاب اور سرزنش ہے جنہوں نے واقعۂ اِفک میں اپنے آپ کو ملوّث کیا گرچہ انہیں اس پر یقین نہیں تھا کیوں کہ ان کے لئے ضروری یہ تھا وہ اس کا بالکل ذکر نہ کرتے بلکہ پوری طرح چھوڑدیتے۔ یہی وجہ ہے کہ تین باتوں پر ان کی سرزنش کی گئی: 1۔ انہوں نے اسے زبانی حاصل کیا یعنی دوسرے سے پوچھا اور اس سے لیا۔2۔ اپنی زبان سے اسے بیان کیا۔3۔ انہوں نے اسے ہلکا سمجھا جبکہ یہ اللہ کے نزدیک بہت بڑی بات تھی۔ (بألسنتكم) اور (بأفواهكم) یعنی زبان اور منہ کا ذکر کرکے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ گفتگو صرف زبانی تھی کیوں کہ دل سے(یقینی طور پر) وہ اس کی حقیقت کو نہیں جانتے تھے۔ (ابن جزی: ۲؍۸۵)
سوال:آیت کی روشنی میں نیک لوگوں کے تعلق سے پھیلائی گئی افواہوں کے بارے میں صحیح موقف کیا ہونا چاہئے؟اس کی وضاحت کیجئے.
إِذۡ تَلَقَّوۡنَهُۥ بِأَلۡسِنَتِكُمۡ وَتَقُولُونَ بِأَفۡوَاهِكُم مَّا لَيۡسَ لَكُم بِهِۦ عِلۡمٞ وَتَحۡسَبُونَهُۥ هَيِّنٗا وَهُوَ عِندَ ٱللَّهِ عَظِيمٞ ١٥
اس سے ایک اخلاقی ادب کا پتہ چلتا ہے کہ آدمی کو اپنی زبان سے وہی بات کہنی چاہئے جس کا اسے علم و یقین ہو۔ (ابن عاشور: ۱۸؍۱۷۸)
سوال:آیت کریمہ کے اندر آداب گفتگو کے ایک ادب کی وضاحت کی گئی ہے۔وہ کیا ہے؟
وَتَحۡسَبُونَهُۥ هَيِّنٗا وَهُوَ عِندَ ٱللَّهِ عَظِيمٞ ١٥
اس آیت کریمہ میں بعض گناہوں کو معمولی اور حقیر سمجھ کر انہیں کرنے پر سخت ڈانٹ ڈپٹ اور پھٹکار ہے۔پس بندے کا گناہوں کو ہلکا شمار کرنا اسے کوئی فائدہ نہیں دیتااور نہ اس سے گناہ کی سزا میں کمی ہی کی جاتی ہے بلکہ اس طرح گناہ دگنا چوگنا ہوجاتا ہے اور گناہ میں دوبارہ مبتلا ہونا اس کے لئے آسان ہوجاتا ہے۔ (السعدی؍۵۶۴)
سوال:بعض گناہوں کو ہلکا سمجھنے سے کیا خطرہ ہوسکتا ہے؟
وَلَوۡلَآ إِذۡ سَمِعۡتُمُوهُ قُلۡتُم مَّا يَكُونُ لَنَآ أَن نَّتَكَلَّمَ بِهَٰذَا سُبۡحَٰنَكَ هَٰذَا بُهۡتَٰنٌ عَظِيمٞ ١٦
علماء کا کہنا ہے کہ ایک انسان ایمان کے جس مقام پر فائز ہوتا ہے،ایک مومن صلاح وتقویٰ کی جس خوبی کا مالک ہوتا ہے اور ایک مسلمان جس پاکیزگی کے لباس سے آراستہ ہوتا ہے اس کے مقام، تقویٰ اور پاکیزگی کو ایسی محتمل افواہوں کو پھیلاکر ختم نہیں کیا جاسکتا جو بے بنیاد اور بگاڑ پر مبنی ہوں۔ (القرطبی: ۱۵؍۱۷۲)
سوال:نیک لوگوں کے تعلق سے بے بنیاد وفاسد افواہوں اور پروپیگنڈوں کے بارے میں ہمارا کیا موقف ہونا چاہئے؟
إِنَّ ٱلَّذِينَ يُحِبُّونَ أَن تَشِيعَ ٱلۡفَٰحِشَةُ فِي ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَهُمۡ عَذَابٌ أَلِيمٞ فِي ٱلدُّنۡيَا وَٱلۡأٓخِرَةِۚ وَٱللَّهُ يَعۡلَمُ وَأَنتُمۡ لَا تَعۡلَمُونَ ١٩
اس سے ان منافقوں کی طرف اشارہ ہے جن کی خواہش تھی کہ واقعۂ اِفک لوگوں میں مشہور ہوجائے۔اِن کے علاوہ دوسرے اُن لوگوں پر بھی اس کا اطلاق ہوگا جو اُن منافقین کے نقش ِقدم پر چلیں گے۔ (ابن جزی: ۲؍۸۵)
سوال:اس آیت میں منافقوں کی کون سی صفت کا ذکر کیا گیا ہے؟