قرآن
ﮡ
ﱉ
ﭚ ١٠٢ ١٠٢ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ
ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ١٠٣ ١٠٣
ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ
ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ١٠٤ ١٠٤ ﭼ
ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ
ﮆ ﮇ ١٠٥ ١٠٥ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ
ﮎ ١٠٦ ١٠٦ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ
١٠٧ ١٠٧ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ
ﮠ ﮡ ١٠٨ ١٠٨ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ
ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ١٠٩ ١٠٩ ﯓ ﯔ
ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ١١٠ ١١٠ ﯜ ﯝ
ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ١١١ ١١١ ﯥ ﯦ ﯧ
ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ١١٢ ١١٢
ﮢ
لَا يَحۡزُنُهُمُ ٱلۡفَزَعُ ٱلۡأَكۡبَرُ
“ الْفَزَعُ الْاَكْبَرُ” یعنی بڑی گھبراہٹ سے قیامت اور حشر کے دن کی ہولناکی اور اس کی گھبراہٹ مراد ہے۔حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ وہ وقت ہوگا جب لوگوں کو جہنم کی طرف لے جانے کا حکم دیا جائیگا۔اور ابن جُرَیج،سعید بن جُبیر اور ضحّاک رحمہم اللہ نے فرمایا:یہ وہ وقت ہوگا جب آگ کو ان کے اوپر بند کردیا جائیگا اور موت کو جنت و جہنم کے درمیان ذبح کردیا جائیگا۔ (القرطبی: ۱۴؍۲۹۵)
سوال: آخرت میں مومنوں کو بڑی گھبراہٹ کا غم کیوں نہیں ہوگا؟
يَوۡمَ نَطۡوِي ٱلسَّمَآءَ كَطَيِّ ٱلسِّجِلِّ لِلۡكُتُبِۚ كَمَا بَدَأۡنَآ أَوَّلَ خَلۡقٖ نُّعِيدُهُۥۚ وَعۡدًا عَلَيۡنَآۚ إِنَّا كُنَّا فَٰعِلِينَ ١٠٤
صحیح مسلم میں ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اللہ کے رسولﷺ ہمارے درمیان نصیحت کرنے کے لئے کھڑے ہوئے اور فرمایا: اے
لوگو! بیشک قیامت کے دن تمہارا حشر اس حال میں ہوگا کہ تم ننگے پاؤں،ننگے بدن اور بغیر ختنے کے ہوگے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: (كما بدأنا أول خلق نعيده وعدًا علينا إنا كنا فاعلين)جیسے ہم نے پہلی پیدائش کے وقت پیداکیا تھا اسی طرح ہم اسے لوٹائیں گے۔اس وعدہ کا پورا کرنا ہم پر لازم ہے،یقیناً ہم ایسا کرنے والے ہیں۔ (ابن عاشور: ۱۷؍۱۶۱)
سوال:آیت کریمہ کی روشنی میں یہ واضح کیجئے کہ اللہ کے رسول ﷺ قرآن کریم کے ذریعہ لوگوں کو کس طرح نصیحت کرتے تھے؟
وَلَقَدۡ كَتَبۡنَا فِي ٱلزَّبُورِ مِنۢ بَعۡدِ ٱلذِّكۡرِ أَنَّ ٱلۡأَرۡضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ ٱلصَّٰلِحُونَ ١٠٥
یہاں ( الأرض) سے مراد مطلق طور پر مشرق سے مغرب تک پوری روئے زمین ہے۔ بعض نے کہا: ارض مقدس مراد ہے۔اور بعض نے کہا:سرزمین جنت مراد ہے۔ البتہ پہلی بات زیادہ واضح ہے۔ اور نیک بندوں سے مراد محمد ﷺ کی امت ہے۔اس طرح آیت میں ان کی تعریف ہے۔نیز اس کے اندر آپ کی پیشگوئی پوری ہونے کی خبر بھی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس امت کو مشرق سے لے کر مغرب تک پوری روئے زمین پر فتح نصیب فرمائی ہے۔ (ابن جزی: ۲؍۴۶)
سوال:ان لوگوں کی کیاصفت ہے جن سے اللہ تعالیٰ نے زمین کی وراثت کا وعدہ کیا ہے؟
وَلَقَدۡ كَتَبۡنَا فِي ٱلزَّبُورِ مِنۢ بَعۡدِ ٱلذِّكۡرِ أَنَّ ٱلۡأَرۡضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ ٱلصَّٰلِحُونَ ١٠٥
ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: یہاں یہ مراد ہے کہ مسلمان‘کافروں کی زمین فتح کریں گے۔اور اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے دین غالب کرنے اور مسلمانوں کو عزت دینے کا حکم ہے۔ (البغوی:۳؍۱۹۶)
سوال:آیت میں نیک بندوں کے لئے کون سی خوشخبری ہے؟
وَمَآ أَرۡسَلۡنَٰكَ إِلَّا رَحۡمَةٗ لِّلۡعَٰلَمِينَ ١٠٧
ہر پہلو سے آیت کا مفہوم یہ ہوگا کہ بیشک اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو مبعوث فرماکر ساری دنیا پر رحم فرمایاکیونکہ آپﷺ ان کے لئے عظیم سعادت اور بڑی بدبختی سے نجات لے کر آئے،آپ ﷺ کے ذریعہ انہیں دنیا اور آخرت ہر جگہ بڑی بھلائیاں نصیب ہوئیں او ر آپ ﷺ نے انہیں جہالت کے بعد علم سکھایا اور گمراہی کے بعد ہدایت کا راستہ بتایا۔(ابن جزی: ۲؍۴۶)
سوال:نبی ﷺ لوگوں کے لئے کیسے ہدایت اور رحمت کا ذریعہ بنے؟
وَمَآ أَرۡسَلۡنَٰكَ إِلَّا رَحۡمَةٗ لِّلۡعَٰلَمِينَ ١٠٧
اگر یہ کہا جائے کہ یہاں رحمت تو ساری دنیا کے لئے عام ہے حالانکہ یہ رحمت کافروں کے لئے نہیں ہے؟تو اس کے جواب کی دوصورتیں ہیں: پہلی صورت: اگر یہ لوگ ایمان لے آتے تو یقینا ًرحمت کے مستحق ہوجاتے چنانچہ رحمت کے مستحق ہونے کے بعد بھی انہوں نے اسے چھوڑدیا۔
دوسری صورت: رسول اللہﷺ ان کے لئے رحمت ثابت ہوئے کیونکہ جس طرح پچھلی کافر امتوں کو طوفان،تیز آواز اور اس طرح کے دیگر عذاب میں گرفتار کیا گیالیکن محض آپ ﷺ کی وجہ سے انہیں اس طرح کسی عذاب میں گرفتار نہیں کیا گیا؟ (ابن جزی: 2؍46)
سوال:اگر کوئی کہے کہ (رحمة للعالمين) عام ہے جب کہ رسول اللہ ﷺ کافروں کے لئے رحمت نہیں تھے تو اس کا کیا جواب ہوگا؟
وَمَآ أَرۡسَلۡنَٰكَ إِلَّا رَحۡمَةٗ لِّلۡعَٰلَمِينَ ١٠٧
اللہ تعالیٰ کے قول: (وما أرسلناك إلا رحمة للعالمين) کےاس تعلق سے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا:جو رسول اللہ ﷺ پر ایمان لائے،ان کے لئے آپ دنیا وآخرت ہر جگہ رحمت ہیں اور جو ایمان نہیں لائے وہ بھی اس عذاب سے محفوظ رہے جس میں پچھلی امتیں گرفتارہوئیں۔ (الطبری: ۱۸؍۵۵2)
سوال:ہمارے نبی ﷺ مومن اور کافر ہر ایک کے لئے رحمت کیسے ہوئے؟