قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے


١١ ١١
١٢ ١٢

١٣ ١٣
١٤ ١٤
١٥ ١٥
ﭿ
١٦ ١٦

١٧ ١٧


١٨ ١٨

١٩ ١٩

٢٠ ٢٠
٢١ ٢١

٢٢ ٢٢
٢٣ ٢٣
ﯿ
٢٤ ٢٤
323
سورۃ الأنبياء آیات 0 - 18

بَلۡ نَقۡذِفُ بِٱلۡحَقِّ عَلَى ٱلۡبَٰطِلِ فَيَدۡمَغُهُۥ فَإِذَا هُوَ زَاهِقٞۚ

تمام دینی مسائل میں یہی اصول عام ہے کہ جب بھی کوئی باطل پرست باطل کو حق ثابت کرنے یا حق کو رد کرنے کے لئے کوئی عقلی یا نقلی شبہ پیش کرتا ہے تواس کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ کے عقلی اور نقلی دلائل میں اتنا زور ہوتا ہے کہ وہ باطل کو اکھاڑکر پھینک دیتاہے اوراسے اس طریقہ سے ختم کردیتا ہے کہ اس کا باطل ہونا ہر شخص پر ظاہر ہوجاتا ہے۔ (السعدی؍۵۲۰)
سوال:مشرکین اور منحرف عقل پرستوں کے شبہات کا توڑ کرنے کے لئے سب سے بہتر طریقہ کیا ہے؟

سورۃ الأنبياء آیات 0 - 18

وَلَكُمُ ٱلۡوَيۡلُ مِمَّا تَصِفُونَ ١٨

آیت کا مفہوم یہ ہے کہ:اے کافروں کی جماعت! تمہارے لئے تباہی اور بربادی مقدر ہے کیونکہ تم لوگ اللہ تعالیٰ کو ایسے اوصاف سے متصف کرتے ہو جو اس کی ذات کے لئے لائق وزیبا نہیں ہیں جیسے کہ بیوی اور بچے۔ (البغوی: ۳؍۱۵۴)
سوال:آج ہم دیکھتےہیں کہ کچھ لوگ اللہ تعالیٰ، نبی ﷺ اور دین کے خلاف خراب باتیں کرتے ہیں۔مذکورہ آیات کی روشنی میں ان کی کیا سزا ہے؟

سورۃ الأنبياء آیات 0 - 19

وَمَنۡ عِندَهُۥ لَا يَسۡتَكۡبِرُونَ عَنۡ عِبَادَتِهِۦ وَلَا يَسۡتَحۡسِرُونَ ١٩

(ومن عنده)اور جو اس کے پاس ہیں یعنی فرشتے(لا يستكبرون عن عبادته ولا يستحسرون) وہ اس کی عبادت سے انکار کرتے ہیں نہ وہ تھکتے ہیں۔یعنی سخت خواہش،کامل محبت اور اپنے بدن کی طاقت کی وجہ سے اس کی عبادت سے تھکتے ہیں نہ اکتاتے ہیں۔ (السعدی:۵۲۰-۵۲۱)
سوال:بندہ اپنے رب سے زیادہ قریب کب ہوتاہے؟

سورۃ الأنبياء آیات 0 - 21

أَمِ ٱتَّخَذُوٓاْ ءَالِهَةٗ مِّنَ ٱلۡأَرۡضِ هُمۡ يُنشِرُونَ ٢١

باطل معبودوں کے بارے میں کہا گیا کہ وہ زمین سے تعلق رکھتے ہیں۔یہ بات مشرکین کا مذاق اڑانے، اللہ کی طرف سے ان پر غصہ کا اظہار کرنے اور ان کی عقل کی کمزوری واضح کرنے کے لئے کہی گئی ہے کہ ان لوگوں نے اپنے لئے ایسے معبود بنالئے جو عالم ِارضی سے تعلق رکھتے ہیں یا ایسے معبود جو زمین کے اجزاء سے بنائے گئے ہیں جیسے پتھر اور لکڑی وغیرہ۔ یہاں اس جانب اشارہ بھی مقصود ہے کہ جس کی حالت ایسی ہو وہ معبود ہونے کے لائق ہرگز نہیں ہوسکتا۔ (ابن عاشور: ۱۷؍۳۷)
سوال:آیت کریمہ کے ذریعہ مشرکین پر مذاق اور غصہ کے اظہار کا پتہ کیسے چلتا ہے؟

سورۃ الأنبياء آیات 0 - 22

لَوۡ كَانَ فِيهِمَآ ءَالِهَةٌ إِلَّا ٱللَّهُ لَفَسَدَتَاۚ فَسُبۡحَٰنَ ٱللَّهِ رَبِّ ٱلۡعَرۡشِ عَمَّا يَصِفُونَ ٢٢

یہ آیت کریمہ دوچیزوں کا تقاضہ کرتی ہے: پہلی چیز یہ کہ ایک سے زیادہ معبود ہونے کی نفی ہوتی ہے اور ایک معبود کا ہونا واجب ہوتاہے۔ دوسری یہ کہ وہ اکیلا معبود (کسی دوسرے کو چھوڑکر)اللہ عزوجل کے سوا کوئی اور نہیں ہے۔(ابن جزی: ۲؍۳۴)
سوال:اللہ وحدہ لا شریک کی الوہیت کے اثبات میں یہ آیت کریمہ دوچیزوں پر دلالت کرتی ہے۔ان کی وضاحت کیجئے.

سورۃ الأنبياء آیات 0 - 23

لَا يُسۡـَٔلُ عَمَّا يَفۡعَلُ وَهُمۡ يُسۡـَٔلُونَ ٢٣

اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے بارے میں جو بھی فیصلہ کرتا ہے اس سلسلہ میں اس سے کوئی مخلوق سوال نہیں کرسکتی۔جبکہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کے متعلق سوال کریگا کیونکہ وہ سب اس کے بندے ہیں۔ (القرطبی: ۱۴؍۱۸۹)
سوال:آیت کریمہ شریعت کی ہر بات ماننے کی دلیل پیش کرتی ہے۔ اس کی وضاحت کیجئے.

سورۃ الأنبياء آیات 0 - 24

بَلۡ أَكۡثَرُهُمۡ لَا يَعۡلَمُونَ ٱلۡحَقَّۖ فَهُم مُّعۡرِضُونَ ٢٤

علم ِحق سے ان کی محرومی کا باعث یہ نہیں ہے کہ حق مخفی اور پوشیدہ ہے بلکہ اس سے محرومی کا سبب ان کی حق سے روگردانی ہے۔ورنہ اگر انہوں نے حق کی طرف معمولی سی توجہ کی ہوتی تو حق ان پر روز ِروشن کی طرح واضح ہوجاتا۔ (السعدی؍۵۲۱)
سوال:اکثر لوگوں کی گمراہی کا سبب کیا ہے؟