قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے


١١٤ ١١٤

١١٥ ١١٥

١١٦ ١١٦

ﭿ
١١٧ ١١٧

١١٨ ١١٨
١١٩ ١١٩

١٢٠ ١٢٠


١٢١ ١٢١
١٢٢ ١٢٢

١٢٣ ١٢٣


١٢٤ ١٢٤
١٢٥ ١٢٥
320
سورۃ طه آیات 0 - 114

فَتَعَٰلَى ٱللَّهُ ٱلۡمَلِكُ ٱلۡحَقُّۗ

اللہ تعالیٰ نے اپنی بادشاہت کو حق سے متصف کرکے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ دوسرے دنیاوی بادشاہوں کی بادشاہت کمی،کوتاہی سے خالی نہیں ہوتی۔ (ابن عاشور: ۱۶؍۳۱۵)
سوال:بڑے ہی اختصار سے اللہ تعالیٰ کی بادشاہت اور دنیاوی بادشاہوں کی بادشاہت کے درمیان تین فرق واضح کیجئے.

سورۃ طه آیات 0 - 114

وَلَا تَعۡجَلۡ بِٱلۡقُرۡءَانِ مِن قَبۡلِ أَن يُقۡضَىٰٓ إِلَيۡكَ وَحۡيُهُۥۖ وَقُل رَّبِّ زِدۡنِي عِلۡمٗا ١١٤

اس آیت کریمہ سے حصول علم کا ادب اخذ کیاجاتا ہے: وہ یہ کہ علم کی سماعت کرنے والے کو چاہئے کہ وہ صبر اور اطمینان سے کام لے یہاں تک کہ معلم اپنے سلسلہ وار کلا م سے فارغ ہوجائے، پھر جب معلم اپنی بات سے فارغ ہوجائے تو اگر ذہن میں کوئی سوال ہے تو اسے کرے۔اثناء کلام معلم کی بات کو نہ کاٹے اور نہ ہی سوال کرنے میں جلد بازی سے کام لے کیونکہ یہ محرومی کا سبب ہوسکتا ہے۔ (السعدی؍۵۱۴)
سوال:ایک طالب ِعلم اس آیت کریمہ سے کون سا ادب سیکھتا ہے؟

سورۃ طه آیات 0 - 114

وَلَا تَعۡجَلۡ بِٱلۡقُرۡءَانِ مِن قَبۡلِ أَن يُقۡضَىٰٓ إِلَيۡكَ وَحۡيُهُۥۖ وَقُل رَّبِّ زِدۡنِي عِلۡمٗا ١١٤

چونکہ وحی کو اخذ کرنے میں آپﷺ کی عجلت اور اس کی طرف سبقت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ آپ علم کے ساتھ بڑی محبت رکھتے ہیں اور اس کے حصول کے بے حد حریص ہیں اسی لئے اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ اپنے لئے علم میں اضافہ کی دعا کریں۔ (السعدی؍۵۱۴)
سوال:نفع بخش علم کے حصول کے لئے وہ کون سا اہم وسیلہ ہے جس کا اس آیت میں ذکر ہے؟

سورۃ طه آیات 0 - 114

وَقُل رَّبِّ زِدۡنِي عِلۡمٗا ١١٤

ابن مسعود رضی اللہ عنہ جب اس آیت کو پڑھتے تو یہ دعا کرتے: "اللهم زدني علمًا وإيمانًا ويقينًا"میرے رب!میرے علم اور ایمان ویقین میں
اضافہ کردے۔ (البغوی: ۳؍۱۴۲)
سوال:اس آیت کریمہ پر غوروفکر کرکے ہم کیسے عمل کریں گے؟

سورۃ طه آیات 118 - 119

إِنَّ لَكَ أَلَّا تَجُوعَ فِيهَا وَلَا تَعۡرَىٰ ١١٨ وَأَنَّكَ لَا تَظۡمَؤُاْ فِيهَا وَلَا تَضۡحَىٰ ١١٩

اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: (إن لك ألا تجوع فيها ولا تعرى)میں بھوک اور ننگا پن کی نفی کو ایک ساتھ ذکر کیا گیا جبکہ اللہ کے اِس فرمان: (وأنك لا تظمأ فيها ولا تضحى) میں پیاس اور بدن کی ظاہری تکلیف کی نفی کو ایک ساتھ ملا کر ذکر کیا گیا۔کیونکہ بھوک اور ننگے پن کے درمیان ایک خاص مناسبت پائی جاتی ہے وہ اس طرح کہ بھوک اندرون جسم کے اس خالی پن کو کہتے ہیں جس سے تکلیف ہوتی ہے اور یہ تکلیف کھانے سے دور ہوجاتی ہے۔اور ننگا پن ظاہر جسم کے اس خالی پن کو کہتے ہیں جس کی وجہ سے گرمی کی تپش اور سردی کی شدت تکلیف پہنچاتی ہے اور یہ تکلیف لباس سے دور ہوجاتی ہے۔
اسی طرح پیاس اور سورج کی گرمی کے درمیان ایک خاص مناسبت پائی جاتی ہے وہ اس طرح کہ پیاس اندرون ِجسم پائی جانے والی گرمی کی تکلیف کا نام ہے جبکہ سورج کی گرمی ظاہر بدن پر گرمی کی تکلیف کانام ہے۔ (ابن عاشور: ۱۶؍۳۲۲)
سوال:مذکورہ آیات میں بھوک کو ننگے پن کے ساتھ اور پیاس کو گرمی کی تپش کے ساتھ ملا کر کیوں ذکر کیا گیا؟

سورۃ طه آیات 0 - 123

فَمَنِ ٱتَّبَعَ هُدَايَ فَلَا يَضِلُّ وَلَا يَشۡقَىٰ ١٢٣

ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جو قرآ ن کریم کو پڑھ کر اس پر عمل کریگا اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ ضمانت لی ہے کہ وہ دنیا میں گمراہ نہیں ہوگا اور آخرت میں نامراد نہیں ہوگا۔پھر انہوں نے یہ آیت کریمہ تلاوت کی۔(القرطبی: ۱۴؍۱۵۶)
سوال:کیا قرآن کریم کو صرف یاد کرلینا دنیا میں ہدایت اور آخرت میں نجات کے لئے کافی ہے؟

سورۃ طه آیات 0 - 124

وَمَنۡ أَعۡرَضَ عَن ذِكۡرِي فَإِنَّ لَهُۥ مَعِيشَةٗ ضَنكٗا

(اللہ کے ذکر سے اعراض کرنے والے کو )قلبی اطمینان اور شرح صدر نہیں ہوگا بلکہ ان کا سینہ گمراہی کے سبب نہایت تنگ ہوگا گرچہ وہ بظاہر نازو نعمت کی زندگی بسر کررہا ہو، کھانے،پینے،پہننے، اوڑھنے اور رہنے سہنے کی فراخی حاصل ہو لیکن دل میں یقین وہدایت نہ ہونے کے سبب ہمیشہ بے چینی حیرانگی اور شک وشبہ میں رہے گا اور یہی زندگی کی تنگی ہے۔ (ابن کثیر:۳؍۱۶۴)
سوال:کیا ظاہری نعمتیں باطنی سعادت پر دلالت کرتی ہیں؟آیت کی روشنی میں اس کی وضاحت کیجئے.