قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے


٧٦ ٧٦

٧٧ ٧٧


٧٨ ٧٨
ﭿ
٧٩ ٧٩


٨٠ ٨٠

٨١ ٨١

٨٢ ٨٢


٨٣ ٨٣

٨٤ ٨٤

٨٥ ٨٥

ﯿ ٨٦ ٨٦
290
سورۃ الإسراء آیات 0 - 76

وَإِن كَادُواْ لَيَسۡتَفِزُّونَكَ مِنَ ٱلۡأَرۡضِ لِيُخۡرِجُوكَ مِنۡهَاۖ وَإِذٗا لَّا يَلۡبَثُونَ خِلَٰفَكَ إِلَّا قَلِيلٗا ٧٦

یعنی اگر انہوں نے آپ کو مکہ سے نکال دیا تو وہ مکہ میں زیادہ دن نہیں ٹھہر سکیں گے چنانچہ جب نبی ﷺ او ر صحابہ کرام قریش کی ایذارسانی کی وجہ سے مکہ سے مدینہ ہجرت کرگئے تو وہ بھی زیادہ دن مکہ میں نہ رہ سکے اور جنگ بدر میں قتل کردئیے گئے۔(ابن جزی: ۱؍۴۹۴)
سوال:واضح کیجئے کہ جو لوگ دعاۃ اور مصلحین کو تکلیفیں دیتے ہیں،ان کے بارے میں اللہ کی کیا سنت رہی ہے؟

سورۃ الإسراء آیات 0 - 79

وَمِنَ ٱلَّيۡلِ فَتَهَجَّدۡ بِهِۦ نَافِلَةٗ لَّكَ عَسَىٰٓ أَن يَبۡعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامٗا مَّحۡمُودٗا ٧٩

صحیح بخاری کے اندر عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ قیامت کے دن لوگ جماعت کی شکل میں ہوں گے۔ہر امت اپنے نبی کے تابع ہوگی اور کہیں گے کہ:ہماری سفارش کردیجئے۔ یہاں تک کہ یہ سفارش نبی ﷺ تک پہنچ جائیگی۔پس یہی وہ دن ہوگا جب اللہ آپ کو مقام ِ محمود تک پہنچائیگا۔ (ابن عاشور: ۱۵؍۱۸۵)
سوال:مقام محمود سے کیا مراد ہے؟

سورۃ الإسراء آیات 0 - 79

وَمِنَ ٱلَّيۡلِ فَتَهَجَّدۡ بِهِۦ نَافِلَةٗ لَّكَ عَسَىٰٓ أَن يَبۡعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامٗا مَّحۡمُودٗا ٧٩

قیام اللیل میں لوگوں سے دور رہ کر تنہائی میں اللہ تعالیٰ سے مناجات ہوتی ہے۔ (القرطبی: ۱۳؍۱۵۱)
سوال:دوسری عبادتوں کے مقابلہ میں قیام اللیل کی کیا خصوصیت ہے؟

سورۃ الإسراء آیات 0 - 81

وَقُلۡ جَآءَ ٱلۡحَقُّ وَزَهَقَ ٱلۡبَٰطِلُۚ إِنَّ ٱلۡبَٰطِلَ كَانَ زَهُوقٗا ٨١

(إن الباطل كان زهوقًا) یعنی یہی باطل کی صفت ہے۔مگر کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ اگر باطل کے مقابلہ میں حق موجود نہ ہو تو باطل عروج پاکر رائج ہوجاتا ہے۔تاہم جب حق آتا ہے تو باطل کمزور ہوجاتا ہے اور اس میں کوئی حرکت باقی نہیں رہتی۔اسی لئے باطل صرف انہی زمانوں اور انہی علاقو ں میں رواج پاتا ہے جو اللہ تبارک وتعالیٰ کی آیات اور اس کے دلائل کے علم سے خالی ہوں۔ (السعدی؍۴۶۵)
سوال:باطل کو طاقت اور مقام ومرتبہ کب ملتا ہے؟

سورۃ الإسراء آیات 0 - 81

وَقُلۡ جَآءَ ٱلۡحَقُّ وَزَهَقَ ٱلۡبَٰطِلُۚ إِنَّ ٱلۡبَٰطِلَ كَانَ زَهُوقٗا ٨١

(كان) فعل اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ مٹ جانا ہی باطل کی پہچان ہے اور اس کی ہمیشہ یہی حالت رہی ہے کہ وہ وقتی طور پر ظاہر ہوتا ہے مگر بالآخر مٹ ہی جاتا ہے۔(ابن عاشور: ۱۵؍۱۸۸)
سوال:آیت کریمہ میں ’کان‘ فعل کس بات کا فائدہ دیتا ہے؟

سورۃ الإسراء آیات 0 - 82

وَنُنَزِّلُ مِنَ ٱلۡقُرۡءَانِ مَا هُوَ شِفَآءٞ وَرَحۡمَةٞ لِّلۡمُؤۡمِنِينَ

وہ شفا جس کو قرآن شامل ہے وہ دلوں کے لئے شفاء عام ہے اور دلوں سے شبہات،جہالت،مذموم انحراف اور گھٹیا مقاصد جیسے امراض کو دور کرتی ہے کیونکہ قرآن علم یقینی پر مشتمل ہے جو ہر قسم کی جہالت اور تما م شبہات کو زائل کردیتا ہے۔اسی طرح وعظ ونصیحت پر مشتمل ہے جو ہر اس شہوت کو ختم کردیتا ہے جس میں اللہ تعالیٰ کے حکم کی مخالفت ہو۔ساتھ ہی قرآن جسموں کے امراض اور تکلیفوں سے شفا کو بھی شامل ہے۔(السعدی؍۴۶۵)
سوال:قرآن دلوں کے لئے شفا ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے؟

سورۃ الإسراء آیات 0 - 85

وَيَسۡـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلرُّوحِۖ قُلِ ٱلرُّوحُ مِنۡ أَمۡرِ رَبِّي وَمَآ أُوتِيتُم مِّنَ ٱلۡعِلۡمِ إِلَّا قَلِيلٗا ٨٥

اس آیت میں اس بات کی دلیل ہے کہ جب کسی سے کسی بات کا سوال کیا جائے تو اس کے لئے بہتر ہے کہ وہ لایعنی سوال کا جواب دینے سے گریز کرے اور اس امر میں اس پوچھنے والے کی رہنمائی کرے جس کی اسے زیادہ ضروت ہو اور جو اس کے لئے فائدہ مند ہو۔ (السعدی؍۴۶۶)
سوال:بہت سے لوگ ایسی چیزوں کے بارے میں سوال کرتے ہیں جو نہ ان کے دین کے لئے فائدہ مند ہوتی ہیں اور نہ ان کی دنیا کے لئے۔تو ایسے سوالات کے وقت ایک داعی اور طالب علم کو کیا طریقہ اختیار کرنا چاہئے؟