قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے



٥٩ ٥٩


ﭿ ٦٠ ٦٠


٦١ ٦١


٦٢ ٦٢

٦٣ ٦٣



٦٤ ٦٤

٦٥ ٦٥

٦٦ ٦٦
288
سورۃ الإسراء آیات 0 - 59

وَءَاتَيۡنَا ثَمُودَ ٱلنَّاقَةَ مُبۡصِرَةٗ فَظَلَمُواْ بِهَاۚ وَمَا نُرۡسِلُ بِٱلۡأٓيَٰتِ إِلَّا تَخۡوِيفٗا ٥٩

اللہ نے یہاں قوم ِثمود اور ان کی نشانیو ں کا خصوصی ذکر اس لئے کیا کیونکہ ان کا معاملہ عربوں میں بہت مشہور تھا اور چونکہ ان کی ہلاکت کے آثار بلاد عرب میں جہاں پائے جاتے ہیں وہاں سے اہل ِمکہ بہت قریب ہیں اور مکہ اور شام کے درمیان اپنے تجارتی سفروں میں آتے جاتے وقت ان کا مشاہدہ بھی کرتے رہتے ہیں۔ (ابن عاشور: ۱۵؍۱۴۴)
سوال:آیت کریمہ میں قوم ِثمود کا ذکر خاص طور سے کیوں کیا گیا ہے؟

سورۃ الإسراء آیات 0 - 60

وَمَا جَعَلۡنَا ٱلرُّءۡيَا ٱلَّتِيٓ أَرَيۡنَٰكَ إِلَّا فِتۡنَةٗ لِّلنَّاسِ وَٱلشَّجَرَةَ ٱلۡمَلۡعُونَةَ فِي ٱلۡقُرۡءَانِۚ وَنُخَوِّفُهُمۡ فَمَا يَزِيدُهُمۡ إِلَّا طُغۡيَٰنٗا كَبِيرٗا ٦٠

آپ ﷺ نے کفار مکہ کو اسراء اور شجرۂ زقوم کے بارے میں خبر دی تو ان میں سے ایک گروہ نے اس کا انکار کردیا اور یہ گمان کر بیٹھے کہ یہ عقل انسانی کے خلاف ہے تو اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: (وما جعلنا الرؤيا التي أريناك إلا فتنة للناس والشجرة الملعونة في القرآن)...یعنی ایسا ہم نے لوگوں کو آزمانے کے لئے کیا ہے تاکہ مومن اور کافر کی تمییز ہوجائے۔ اسی طرح آپ ﷺ نے انہیں یہ خبر دی کہ آپ ﷺ نے جنت و جہنم کا بھی مشاہدہ کیا ہے اور یہ انہیں خوف دلانے کے لئے تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے آخر میں فرمایا: (وَنُخَوِّفُهُم فَمَا يَزِيدُهُم إِلاَّ طُغيَانًا كَبِيرًا). (ابن تیمیہ: 4؍235)
سوال:لوگوں کی آزمائش کی خاطر نبیﷺ نے جوکچھ دیکھا اور اس کی خبر دی وہ کیسا تھا؟ آیت کی روشنی میں اس کی وضاحت کریں.

سورۃ الإسراء آیات 0 - 60

وَنُخَوِّفُهُمۡ فَمَا يَزِيدُهُمۡ إِلَّا طُغۡيَٰنٗا كَبِيرٗا ٦٠

(نخوفهم)اور(يزيدهم) میں ،فعل ِمضارع‘ لایا گیا ہے تاکہ خوف وڈر کے باربار آنے کا تقاضہ کرے او ر جب جب نئے طور پر انہیں ڈرایا گیا ایک نئے انداز میں ان کی سرکشی مزید بڑھ کر سامنے آئی۔(ابن عاشور: ۱۵؍۱۴۹)
سوال:آیت کریمہ میں (نخوفهم)اور(يزيدهم) کو فعل مضارع سے کیوں ذکر کیا گیا ہے؟

سورۃ الإسراء آیات 0 - 62

قَالَ أَرَءَيۡتَكَ هَٰذَا ٱلَّذِي كَرَّمۡتَ عَلَيَّ لَئِنۡ أَخَّرۡتَنِ إِلَىٰ يَوۡمِ ٱلۡقِيَٰمَةِ لَأَحۡتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهُۥٓ إِلَّا قَلِيلٗا ٦٢

(لأحتنكن ذريته)مطلب یہ ہے کہ ان پر مسلط ہوکر انہیں اپنا تابع بناؤں گا اور یہ لفظ “تَحْنِيْكُ الدَّابَّة”سے ماخوذ ہے جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ جانور کے جبڑے میں رسی ڈال کر اسے اپنے قابو میں کرنا۔ (ابن جزی: ۱؍۴۹۱)
سوال:شیطان کا انسانوں پر قابو پانے کا کیا مطلب ہے اور اس کی کیا علامت ہے؟

سورۃ الإسراء آیات 0 - 64

وَٱسۡتَفۡزِزۡ مَنِ ٱسۡتَطَعۡتَ مِنۡهُم بِصَوۡتِكَ

شیطان کی آواز ہر وہ داعی ہے جو اللہ کی معصیت کی طرف لوگوں کو بلائے۔عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور امام مجاہد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ:اس سے مراد گانا،بانسری اور لہوولعب ہیں۔ (القرطبی: ۱۳؍۱۱۸)
سوال:شیطان اپنی آواز سے کیسے قابو میں کرتاہے؟

سورۃ الإسراء آیات 0 - 64

وَٱسۡتَفۡزِزۡ مَنِ ٱسۡتَطَعۡتَ مِنۡهُم بِصَوۡتِكَ وَأَجۡلِبۡ عَلَيۡهِم بِخَيۡلِكَ وَرَجِلِكَ

ہر وہ گفتگو جس میں اللہ کی اطاعت نہ ہو اور ہر وہ آواز جو بانسری یا حرام دف اور ڈھول کی ہوتو وہ شیطان کی آواز ہوگی۔ اور اللہ تعالیٰ کی معصیت میں قدم اٹھانے والا ہر شخص شیطان کا پیادہ ہے۔ اور اللہ کی معصیت میں سواری کرنے والا ہر شخص شیطان کا سوار ہوگا۔ (ابن قیم: 2؍142–143)
سوال:شیطان کی آواز ، اس کے سوار اور پیادے سے کیا مراد ہے؟

سورۃ الإسراء آیات 0 - 64

وَشَارِكۡهُمۡ فِي ٱلۡأَمۡوَٰلِ وَٱلۡأَوۡلَٰدِ وَعِدۡهُمۡۚ وَمَا يَعِدُهُمُ ٱلشَّيۡطَٰنُ إِلَّا غُرُورًا ٦٤

مال میں شیطان کے شریک ہونے کا مطلب سود کے ذریعہ اس کا کمانا ہے۔اور گناہوں کی جگہوں میں اسے خرچ کرنا ہے۔اور اولاد میں شرکت کرنے کا مطلب یہ ہے کہ انہیں زنا میں ملوث کرے اور اولاد کا نام عبدالشمس،عبدالحارث وغیرہ مشرکانہ نام رکھنے پرمجبور کرے۔(ابن جزی: ۱؍۳۹۲)
سوال:شیطان بنی آدم کے مال واولاد میں شریک ہوتاہے۔اس کی کچھ شکلیں بتائیے.