قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے


٨ ٨

٩ ٩

١٠ ١٠

ﭿ ١١ ١١



١٢ ١٢


١٣ ١٣

١٤ ١٤


١٥ ١٥

١٦ ١٦
ﯿ
١٧ ١٧
283
سورۃ الإسراء آیات 0 - 8

عَسَىٰ رَبُّكُمۡ أَن يَرۡحَمَكُمۡۚ وَإِنۡ عُدتُّمۡ عُدۡنَاۚ وَجَعَلۡنَا جَهَنَّمَ لِلۡكَٰفِرِينَ حَصِيرًا ٨

ان آیات کریمہ میں اس امت کے لئے دھمکی اور ڈراوہ ہے کہ وہ گناہوں سے بچیں۔ایسا نہ ہو کہ ان کو بھی وہی سزادی جائے جو بنی اسرائیل کو دی گئی تھی۔سنت الٰہی ایک ہی ہے۔اس میں کوئی تغیر وتبدیلی نہیں ہے۔جوکوئی اس بارے میں غوروفکرکرے کہ کس طرح کفار مسلمانوں پر مسلط ہوگئے ہیں تو اسے معلوم ہوجائے گا کہ یہ ان کے گناہوں کی سزاہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ جب مسلمان قرآن وسنت کو نافذکریں گے تو وہ انہیں زمین کا اقتدار عطافرمائیگا اور دشمنوں کے خلاف ان کی مدد کریگا۔ (السعدی: ۴۵۴(
سوال:قرآن پڑھتے وقت اگر کوئی ایسی آیت آئے جو کسی دوسری امت کے بارے میں بیان کررہی ہو تو ان جیسی آیات سے آپ دعوت کے میدان میں کیا فائدہ اٹھاسکتے ہیں؟

سورۃ الإسراء آیات 0 - 9

إِنَّ هَٰذَا ٱلۡقُرۡءَانَ يَهۡدِي لِلَّتِي هِيَ أَقۡوَمُ وَيُبَشِّرُ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ ٱلَّذِينَ يَعۡمَلُونَ ٱلصَّٰلِحَٰتِ أَنَّ لَهُمۡ أَجۡرٗا كَبِيرٗا ٩

مفہوم یہ ہے کہ یہ قرآن یقینا اس سے کہیں بہتر رہنمائی کرتا ہے جو بنی اسرائیل کی کتاب میں موجود ہے جیسا کہ ارشاد باری ہے: (وجعلناه هدى لبني إسرائيل)(سورۂ بنی اسرائیل: ۲) توراۃ کو ہم نے بنی اسرائیل کے لئے ہدایت کا ذریعہ بنایا۔ پس اس کے اندر اشارہ ہے کہ قرآن کے ماننے والے صحیح راستہ سے جب جب بھٹکیں گے قرآن انہیں سیدھے راستہ پر لے آئیگا۔ (ابن عاشور: ۱۵؍۴۰)
سوال:قرآن کریم ہلاکت سے بچاؤ کا ذریعہ ہے۔آیت کریمہ اس بات پر کیسے دلالت کرتی ہے؟

سورۃ الإسراء آیات 0 - 11

وَيَدۡعُ ٱلۡإِنسَٰنُ بِٱلشَّرِّ دُعَآءَهُۥ بِٱلۡخَيۡرِۖ وَكَانَ ٱلۡإِنسَٰنُ عَجُولٗا ١١

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ نے فرمایا: اس سے وہ بددعا مراد ہے جو انسان غصہ میں اپنے اوپر اور اپنی اولاد پر کرتا ہے حالانکہ وہ چاہتا ہے کہ اسے قبول نہ کیا جائے۔(القرطبی: ۱۳؍۳۴)
سوال:انسان کی عجلت پسندی کی کوئی ایک صورت بیان کیجئے.

سورۃ الإسراء آیات 0 - 11

وَيَدۡعُ ٱلۡإِنسَٰنُ بِٱلشَّرِّ دُعَآءَهُۥ بِٱلۡخَيۡرِۖ وَكَانَ ٱلۡإِنسَٰنُ عَجُولٗا ١١

اس آیت میں ان لوگوں کی مذمت وملامت کی گئی ہے جو اپنے اوپر،اپنے مال ودولت پر اور اپنی آل واولاد پر غصہ کے وقت ویسے ہی بددعا کرتے ہیں جیسے سکون کی حالت میں خیر کی دعا کرتے ہیں۔ (ابن جزی: ۱؍۴۸۳)
سوال:کچھ لوگ اپنے لئے خود برائی کا سبب بن جاتے ہیں۔ آیت کی روشنی میں اس کی وضاحت کیجئے.

سورۃ الإسراء آیات 0 - 12

وَجَعَلۡنَا ٱلَّيۡلَ وَٱلنَّهَارَ ءَايَتَيۡنِۖ فَمَحَوۡنَآ ءَايَةَ ٱلَّيۡلِ وَجَعَلۡنَآ ءَايَةَ ٱلنَّهَارِ مُبۡصِرَةٗ لِّتَبۡتَغُواْ فَضۡلٗا مِّن رَّبِّكُمۡ وَلِتَعۡلَمُواْ عَدَدَ ٱلسِّنِينَ وَٱلۡحِسَابَۚ وَكُلَّ شَيۡءٖ فَصَّلۡنَٰهُ تَفۡصِيلٗا ١٢

یعنی ہماری وحدانیت،وجود اور ہمارے علم وقدرت کے کمال پر یہ دونوں علامتیں او ر نشانیاں ہیں۔دونوں کا ایک دوسرے سے آگے پیچھے ہونا جس کا کسی کوعلم نہیں۔اسی طرح ان میں سے ہر ایک کا ایک دوسرے کے مفاد میں کم وزیادہ ہونا بھی ایک نشانی ہے۔ اور اسی طرح دن کی روشنی اور رات کی تاریکی بھی نشانی ہے۔ (القرطبی: ۱۳؍۳۷)
سوال:دن ورات اللہ کی نشانیاں کس طرح ہیں؟

سورۃ الإسراء آیات 0 - 14

ٱقۡرَأۡ كِتَٰبَكَ كَفَىٰ بِنَفۡسِكَ ٱلۡيَوۡمَ عَلَيۡكَ حَسِيبٗا ١٤

یہ عدل وانصاف کی انتہا ہے کہ بندے سے کہا جائے: اپنے آپ کا محاسبہ کرو تاکہ وہ حقیقت میں اس چیز کا اعتراف کرلے جس کی وجہ سے عذاب کا مستحق ہورہا ہے۔(السعدی؍۴۵۵)
سوال:اس آیت کی روشنی میں اللہ تعالیٰ کا کمال ِعدل وانصاف بیان کیجئے.

سورۃ الإسراء آیات 0 - 17

وَكَمۡ أَهۡلَكۡنَا مِنَ ٱلۡقُرُونِ مِنۢ بَعۡدِ نُوحٖۗ

مطلب یہ ہے کہ اے جھٹلانے والو! تم ان کے مقابلہ میں اللہ کے نزدیک زیادہ عزت والے نہیں ہو کیونکہ تم لوگوں نے افضل البشر اور اشرف المرسلینﷺ کو جھٹلایا ہے چنانچہ تم ان کے مقابلہ میں زیادہ سزا کے مستحق ہو۔(ابن کثیر: ۳؍۳۳)
سوال:یہ خبر دینے کا کیا مقصد ہے کہ اللہ نے قوم ِنوح کے بعد بہت سی قوموں کو ہلاک کردیا؟