قرآن
ﮜ
ﱆ
ﭙ ﭚ ﭛ ﭜ ﭝ ٨٨ ٨٨ ﭟ ﭠ ﭡ
ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ
ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ
ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ٨٩ ٨٩ ﭺ ﭻ ﭼ
ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ
ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ
٩٠ ٩٠ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ
ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ
ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ٩١ ٩١ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ
ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ
ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ
ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ
٩٢ ٩٢ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ
ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ٩٣ ٩٣
ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ وَصَدُّواْ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ زِدۡنَٰهُمۡ عَذَابٗا فَوۡقَ ٱلۡعَذَابِ بِمَا كَانُواْ يُفۡسِدُونَ ٨٨
ایک عذاب تو ان کے کفر کی وجہ سے ہوگا اور دوسرا عذاب لوگوں کو حق کی اتباع سے روکنے کی بناپر ہوگا۔اس آیت میں اس بات کی دلیل ہے کہ کافروں کے عذاب الگ الگ درجوں اور طبقوں کے ہوں گے بالکل اسی طرح جس طرح جنت میں مومنوں کے درجات اور مراتب الگ الگ ہوں گے۔ (ابن کثیر: ۲؍۵۶۲)
سوال:آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جہنم میں کافروں کے الگ الگ طبقات ہوں گے۔اس بات کو بیان کیجئے.
وَيَوۡمَ نَبۡعَثُ فِي كُلِّ أُمَّةٖ شَهِيدًا عَلَيۡهِم مِّنۡ أَنفُسِهِمۡۖ وَجِئۡنَا بِكَ شَهِيدًا عَلَىٰ هَٰٓؤُلَآءِۚ
یہ اللہ تعالیٰ کا کمال ِعدل ہے کہ ہررسول اپنی اپنی امت پر گواہی دیں گے اس لئے کہ امت کے اعمال کے بارے میں رسول کی اطلاع دوسروں سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔اتنا ہی نہیں بلکہ رسول اپنی امت کے حق میں سب سے بڑھ کر انصاف کرنے والے اور سب سے زیادہ مہربان ہوتے ہیں لہذا وہ ان کے بارے میں اسی بات کی گواہی دیں گے جس کے وہ حقدار ہیں۔ (السعدی: ۴۴۷)
سوال:آیت میں اللہ تعالیٰ کے کمال ِعدل اور کمال ِرحمت کی دلیل ہے۔وضاحت کیجئے.
وَيَوۡمَ نَبۡعَثُ فِي كُلِّ أُمَّةٖ شَهِيدًا عَلَيۡهِم مِّنۡ أَنفُسِهِمۡۖ وَجِئۡنَا بِكَ شَهِيدًا عَلَىٰ هَٰٓؤُلَآءِۚ
اس جملے میں یہ بات بڑھادی گئی کہ گواہ خود ان کے اندر سے ہوگا۔یہ دراصل نصیحت اور یاددہانی میں زیادتی کے لئے بڑھایا گیا ہے کہ امتوں کے بارے میں ان کے رسولوں کی جوگواہی ہوگی اس میں قوم کے لئے کسی قسم کی طعنہ زنی اور اعتراض کی گنجائش نہیں ہوگی اس لئے کہ وہ خود اپنی قوم کے گواہ ہوں گے۔ اس لئے ان کی گواہی جن لوگوں کے خلاف ہوگی ان کے لئے گواہی میں کسی اعتراض اور عیب کی گنجائش نہیں ہوگی۔ (ابن عاشور: ۱۴؍۲۵۰)
سوال:گواہ انہی میں سے ہوگا۔ اس بات سے کیا معلوم ہوتاہے؟
وَنَزَّلۡنَا عَلَيۡكَ ٱلۡكِتَٰبَ تِبۡيَٰنٗا لِّكُلِّ شَيۡءٖ وَهُدٗى وَرَحۡمَةٗ وَبُشۡرَىٰ لِلۡمُسۡلِمِينَ ٨٩
(لكل شيء) ہر چیز کو۔یہ لفظ عموم کا فائدہ دے رہا ہے اور یہ عموم عرفی ہے (یعنی اس کا تعلق عرف ِعام سے ہے۔)یعنی ادیان او ر شریعتیں جس قسم کی تعلیمات پیش کرتی ہیں اس دائرے میں آنے والی تمام چیزیں۔ اور وہ چیزیں ہیں: نفوس کی اصلاح کرنا، اخلاق وکردار کو کامل درجہ تک پہنچانا،معاشرے کو درست کرنا، حقوق کی وضاحت کرنا او ر جن چیزوں پر دعوت کا مدار ہے یعنی اللہ کی وحدانیت اور رسول اللہ ﷺ کی حقانیت پر دلیل دینا۔ (ابن عاشور: ۱۴؍۲۵۳)
سوال:انسانوں کو جن عقائد کی، شرعی احکام واصولوں کی اور اخلاق وآداب کی ضرورت ہے،قرآن نے ان تمام چیزوں کو صاف صاف بیان کیا ہے؟ وضاحت کیجئے.
إِنَّ ٱللَّهَ يَأۡمُرُ بِٱلۡعَدۡلِ وَٱلۡإِحۡسَٰنِ وَإِيتَآيِٕ ذِي ٱلۡقُرۡبَى
اس حکم میں تمام رشتہ دار داخل ہیں وہ قریبی ہوں یا دور کے،لیکن جو رشتہ دار جتنا زیادہ قریبی ہوگا وہ حسن ِسلوک اور صلہ رحمی کا اتنا زیادہ حقدار ہوگا۔ (السعدی: ۴۴۷)
سوال:آیت میں رشتہ داروں سے کون لوگ مراد ہیں؟او ر ان میں حسن ِسلوک کا زیادہ حقدار کون ہے؟
إِنَّ ٱللَّهَ يَأۡمُرُ بِٱلۡعَدۡلِ وَٱلۡإِحۡسَٰنِ وَإِيتَآيِٕ ذِي ٱلۡقُرۡبَىٰ
اللہ تعالیٰ نے انصاف اور احسان کی قسموں میں سے ایک اہم قسم کو خاص طور پر ذکر فرمایا ہے جس سے لوگ اکثر غفلت ولاپرواہی برتتے ہیں اور اس کے حق یا اس کی اہمیت وفضیلت کو کمتر اور حقیر سمجھتے ہیں،وہ ہے قرابت داروں کو امداد دینا۔ عام طور سے لوگوں کے دلوں میں یہ بات بس گئی ہے کہ دور کے لوگوں کو جوڑیں،قریب لائیں اور ان کے شر سے بچیں جیسا کہ ان کے دل اور مزاج میں قریبی لوگوں اور رشتہ داروں کے بارے میں غفلت ولاپرواہی بیٹھ گئی ہے۔ قریبی لوگوں کی طرف سے مطمئن ہوتے ہیں اور ان کے حقوق ادا کرنے میں سستی اور کوتاہی کے عادی بن گئے ہیں۔(ابن عاشور: ۱۴؍۲۵۶)
سوال:عدل واحسان کے اندر قرابت داروں کو امداد دینا بھی داخل ہے۔پھر عدل واحسان کا حکم دینے کے بعد خصوصیت سے قرابت داروں کو دینے کا حکم کیوں دیا گیا؟
إِنَّ ٱللَّهَ يَأۡمُرُ بِٱلۡعَدۡلِ وَٱلۡإِحۡسَٰنِ وَإِيتَآيِٕ ذِي ٱلۡقُرۡبَىٰ وَيَنۡهَىٰ عَنِ ٱلۡفَحۡشَآءِ وَٱلۡمُنكَرِ وَٱلۡبَغۡيِۚ يَعِظُكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تَذَكَّرُونَ ٩٠
عدل سے مراد ہے فرائض وواجبات ادا کرنا اور احسان سے مراد ہے مستحب ومسنون چیزوں کو ادا کرنا۔یہ چیز اللہ تعالیٰ کے حقو ق کے بارے میں ہےاورانسانوں کے حقوق سے متعلق بھی ہے عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: یہ قرآن کی سب سے زیادہ جامع آیت ہے۔ (ابن جزی: ۱؍۴۷۲)
سوال:حقوق کی ادائیگی کے مسئلہ میں یہ آیت قرآن کی سب سے زیادہ جامع کس طرح ہے؟