قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے

ﮜ

ﱆ

ﭑ ﭒ ﭓ ﭔ ﭕ ﭖ ﭗ ﭘ ﭙ ﭚ ﭛ
ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ٤٣ ٤٣
ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ
ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ٤٤ ٤٤

ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ
ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ٤٥ ٤٥
ﮁ ﮂ
ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ٤٦ ٤٦
ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ
ﮎ ﮏ ﮐ ٤٧ ٤٧
ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ
ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ
٤٨ ٤٨
ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ
ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ٤٩ ٤٩
ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ
ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ٥٠ ٥٠
ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ
ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ٥١ ٥١
ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ
ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ٥٢ ٥٢
ﯹ ﯺ ﯻ
ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ ﰁ ﰂ ﰃ ﰄ ﰅ ٥٣ ٥٣
ﰇ ﰈ
ﰉ ﰊ ﰋ ﰌ ﰍ ﰎ ﰏ ﰐ ٥٤ ٥٤
272
سورۃ النحل آیات 0 - 43

فَسۡـَٔلُوٓاْ أَهۡلَ ٱلذِّكۡرِ إِن كُنتُمۡ لَا تَعۡلَمُونَ ٤٣

اس آیت میں ضمناً اہل ِعلم کی تعدیل اور ان کا تزکیہ کیا گیا ہے ،وہ اس طرح کہ اللہ نے ان سے سوا ل پوچھنے کا حکم دیا ہے اور جاہل آدمی علماء سے سوال کرکے اپنی ذمہ داری سے بری ہوجاتاہے۔اس طرح سے ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے علماء ِحق کو اپنی وحی اور اپنے نازل کردہ دین واحکام کا امین بنایا۔ (السعدی؍۴۴۱)
سوال:آیت میں اہل ِعلم کی ایک بڑی فضیلت بتائی گئی ہے۔اسے بیان کیجئے.

سورۃ النحل آیات 43 - 44

فَسۡـَٔلُوٓاْ أَهۡلَ ٱلذِّكۡرِ إِن كُنتُمۡ لَا تَعۡلَمُونَ ٤٣ بِٱلۡبَيِّنَٰتِ وَٱلزُّبُرِۗ وَأَنزَلۡنَآ إِلَيۡكَ ٱلذِّكۡرَ

اہل ِذکر میں سب سے بہتر اور افضل قرآن عظیم کو جاننے،سمجھنے والے ہیں۔اس لئے کہ حقیقت میں اہل ِقرآن ہی اہل ِذکر ہیں اور دوسروں کے مقابلے میں وہی اس نام کے زیادہ حقدار اور لائق ہیں۔ اسی لئے تو اللہ تعالیٰ نے آگے فرمایا: (وأنزلنا إليك الذكر) اور ہم نے آپ کی طرف ذکر کو نازل کیا۔یعنی قرآن کو۔ (السعدی: ۴۴۱)
سوال:علماء میں سب سے زیادہ فضیلت والا وہ عالم ہے جو سب سے زیادہ قرآن سے قریب ہو۔ آیت کی روشنی میں یہ بات بیان کیجئے.

سورۃ النحل آیات 0 - 47

أَوۡ يَأۡخُذَهُمۡ عَلَىٰ تَخَوُّفٖ فَإِنَّ رَبَّكُمۡ لَرَءُوفٞ رَّحِيمٌ ٤٧

(أوْ يَأْخُذَهُمْ عَلى تَخَوُّفٍ)یا اللہ انہیں ڈرا دھمکاکر پکڑ لے گا۔ اس کا دو مفہوم ہوسکتا ہے۔1۔ پہلا مفہوم یہ ہے کہ اس آیت میں ڈرانے دھمکانے کا مطلب کمی کرنا ہے یعنی ان کے مال و جان میں رفتہ رفتہ کمی ہوتی جائے گی اور بالآخر وہ ہلاک ہوجائیں اوراللہ انہیں یکبارگی ہلاک نہیں کرے گا۔ اس معنی کی جانب اللہ کا یہ فرمان اشارہ کرتا ہے: (فَإِنَّ رَبَّكُمْ لَرَؤُفٌ رَحِيمٌ)یقیناً تمہارا رب اعلیٰ شفقت اور انتہائی رحم والا ہے۔ اس لئے کہ اس انداز میں پکڑنا دوسری صورتوں کے مقابل میں زہادہ ہلکا اور آسان ہے۔ اس آیت میں وارد (تخوف) کا مفہوم سمجھنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے لئے مشکل ہورہا تھایہاں تک کہ قبیلہ ہذیل کے ایک شخص نے ان سے کہا کہ ہماری زبان میں (تخوف)کا معنی کمی ہوناہے۔2۔ دوسرامفہوم یہ ہے کہ(تخوف) خوف کے معنی میں ہے یعنی ان سےپہلے ایک قوم کو اللہ تعالیٰ ہلاک کرے گا ، انہیں دیکھ کر یہ لوگ خوف میں پڑجائیں گے۔ پھر جب یہ لوگ ڈر جائیں گے اور عذاب کی توقع کریں گے تو اللہ انہیں پکڑ لے گا۔ (ابن جزی1؍465)
سوال:ڈرا دھمکاکر پکڑنے کا مفہوم کیا ہے؟

سورۃ النحل آیات 45 - 47

أَفَأَمِنَ ٱلَّذِينَ مَكَرُواْ ٱلسَّيِّـَٔاتِ أَن يَخۡسِفَ ٱللَّهُ بِهِمُ ٱلۡأَرۡضَ أَوۡ يَأۡتِيَهُمُ ٱلۡعَذَابُ مِنۡ حَيۡثُ لَا يَشۡعُرُونَ ٤٥ أَوۡ يَأۡخُذَهُمۡ فِي تَقَلُّبِهِمۡ فَمَا هُم بِمُعۡجِزِينَ ٤٦ أَوۡ يَأۡخُذَهُمۡ عَلَىٰ تَخَوُّفٖ فَإِنَّ رَبَّكُمۡ لَرَءُوفٞ رَّحِيمٌ ٤٧

اللہ تعالیٰ بڑا ہی شفقت والا،بڑا ہی رحم کرنے والا ہے،وہ نافرمانوں کو سزا دینے میں جلدی نہیں کرتابلکہ انہیں مہلت دیتا ہے ، انہیں عافیت میں رکھتا ہےاور انہیں روزی بھی دیتارہتا ہے جبکہ وہ نافرمانیاں کرکے اللہ کوتکلیف پہنچاتے رہتے ہیں اور اس کے نیک بندوں کو بھی ستاتے رہتے ہیں۔اتنا ہی نہیں بلکہ ان سب کے باوجود اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے لئے توبہ کے دروازے کھلے رکھتا ہے اور انہیں اس بات کی طرف بلاتا ہے کہ وہ ان گناہوں سے باز آجائیں جو خود ان کے لئے نقصان دہ ہیں۔پھر توبہ کرنے اور گناہو ں کو چھوڑنے پر انہیں بہترین بخشش ونوازش کااور ان کے گناہوں کو معاف کردینے کا وعدہ بھی کرتا ہے۔ (السعدی؍۴۴۱)
سوال:ڈرانے اور دھمکی دینے والی آیات کو اللہ کی رحمت پر دلالت کرنے والے ناموں کے ذریعہ کیوں ختم کیا گیا؟

سورۃ النحل آیات 0 - 50

يَخَافُونَ رَبَّهُم مِّن فَوۡقِهِمۡ وَيَفۡعَلُونَ مَا يُؤۡمَرُونَ۩ ٥٠

علماء کا اتفاق ہے کہ قرآن کی تلاوت کرنے والے کو اس آیت کے پڑھنے پر سجدہ کرنا چاہئے۔ آیت کے مطلب کو دیکھتے ہوئے یہاں سجدہ کرنے کی حکمت یہ معلوم ہوتی ہے کہ مومن بندہ سجدہ کرکے یہ اظہار کرے کہ وہ بھی اس گروہ میں شامل ہے جس کی تعریف کی جارہی ہے۔وہ اس طرح سے کہ اللہ تعالیٰ کے لئے سجدہ ریز ہونے اور جھکنے میں وہ بھی فرشتوں کے جیسا ہی ہے۔ (ابن عاشور: ۱۴؍۱۷۱)
سوال:اس آیت کریمہ پر سجدۂ تلاوت کرنے کی کیا حکمت ہے؟

سورۃ النحل آیات 0 - 51

وَقَالَ ٱللَّهُ لَا تَتَّخِذُوٓاْ إِلَٰهَيۡنِ ٱثۡنَيۡنِۖ إِنَّمَا هُوَ إِلَٰهٞ وَٰحِدٞ

یہاں صرف ڈرنے کے حکم پر اکتفا کیا گیا ہے اور ڈر کو صرف اللہ کی ذات پر محدود رکھنے سے مفہوم نکلتا ہےکہ ڈر کی طرح شوق اور رغبت بھی صرف اللہ کے ساتھ خاص اور محدود رکھنے کا حکم ہے۔اس لئے کہ ڈر کو صرف اللہ کے ساتھ خاص رکھنے سے یہ عقیدہ معلوم ہوتا ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہی ہے جس کے پاس ہر چیز کی پوری پوری قدرت وطاقت ہے ۔(ابن عاشور: ۱۴؍۱۷۴)
سوال:آیت میں صرف ڈرنے کے حکم پر اکتفا کرنے اور ڈر کو صرف اللہ کی ذا ت پر محدود رکھنے کے حکم سے کیا فائدہ معلوم ہوتاہے؟

سورۃ النحل آیات 0 - 53

وَمَا بِكُم مِّن نِّعۡمَةٖ فَمِنَ ٱللَّهِۖ ثُمَّ إِذَا مَسَّكُمُ ٱلضُّرُّ فَإِلَيۡهِ تَجۡـَٔرُونَ ٥٣

تم اللہ کے سوا دوسروں سے آخر کیسے ڈرتے ہو جبکہ تمہارے پاس جو بھی نعمتیں ہیں وہ سب تنہا اسی اللہ کی طرف سے ہیں(فإليه تجأرون) تو اسی سے تم نالہ وفریاد کرتے ہو، یعنی مصیبت میں پڑنے پر فریاد کرنے اور گڑگڑانے کے لئے اسی کے سامنے اپنی آوازیں بلند کرتے ہو۔ (ابن جُزَی: ۱؍۴۶۶)
سوال:بیشک توحید ہر انسان کی فطرت میں موجود ہے۔اس آیت سے آپ یہ بات کس طرح ثابت کریں گے؟