قرآن
ﮗ
ﱄ
ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ
ﭦ ﭧ ٦٣ ٦٣ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ
ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ
ﭺ ﭻ ٦٤ ٦٤ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ
ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ٦٥ ٦٥ ﮊ ﮋ ﮌ
ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ
ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ٦٦ ٦٦ ﮞ ﮟ
ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ٦٧ ٦٧
ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ
ﯔ ﯕ ٦٨ ٦٨ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ
ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ٦٩ ٦٩ ﯩ ﯪ
ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ
ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ٧٠ ٧٠ ﯽ ﯾ
ﯿ ﰀ ﰁ ﰂ ﰃ ﰄ ﰅ ٧١ ٧١
وَيَٰقَوۡمِ هَٰذِهِۦ نَاقَةُ ٱللَّهِ لَكُمۡ ءَايَةٗۖ
اونٹنی کی نسبت اللہ کی طرف کی گئی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ:یہ اونٹنی عام معمول کے برخلاف اللہ کی قدرت سے پیدا کی گئی تھی (ابن عاشور: ۱۲؍۱۱۳)
سوال:اونٹنی کو“اللہ” کی طرف منسوب کیو ں کیا گیا؟
فَعَقَرُوهَا فَقَالَ تَمَتَّعُواْ فِي دَارِكُمۡ ثَلَٰثَةَ أَيَّامٖۖ ذَٰلِكَ وَعۡدٌ غَيۡرُ مَكۡذُوبٖ ٦٥
اونٹنی کی کوچیں قوم کے بعض افراد نے کاٹی تھیں مگر اللہ نے فرمایا:ان سب نے اس کی کوچیں کاٹ کر اسے مارڈالا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اس گناہ میں سب کی رضامندی شامل تھی۔ (القرطبی: ۱۱؍۱۵۴)
سوال: ہم کچھ لوگوں کو دیکھتے ہیں کہ وہ خودتو برائی نہیں کرتے لیکن اس پر راضی رہتے ہیں اوراس کی اصلاح نہیں کرتے۔ایسے آدمی کا کیا حکم ہوگا؟
وَأَخَذَ ٱلَّذِينَ ظَلَمُواْ ٱلصَّيۡحَةُ فَأَصۡبَحُواْ فِي دِيَٰرِهِمۡ جَٰثِمِينَ ٦٧
ثمود کو( الّذين ظلموا) جن لوگو ں نے ظلم کیا۔کہہ کر ذکر کیا ہے تاکہ موصول (الَّذِيْنَ)کے ذریعہ اس بات کی طرف اشارہ کیا جائے کہ ان پر عذاب کی وجہ کیاتھی۔معنی یہ ہوا کہ اللہ کا یہ فیصلہ قوم ثمود کے ظلم کی وجہ سے تھا اور وہ ظلم شرک کا ظلم تھا۔اس میں مکہ کے مشرکین کے لئے تنبیہ اور دھمکی ہے کہ جس طرح قوم ِثمود عذاب سے دوچار ہوئی اسی طرح انہیں بھی اللہ کا عذاب اپنی لپیٹ میں لے سکتاہے کیونکہ وہ بھی ظلم کرنے والے ہیں۔ (ابن عاشور: ۱۲؍۱۱۴)
سوال: قوم ِثمود کو (الذين ظلموا)جنہوں نے ظلم کیا۔کے الفاظ سے کیو ں بیان کیا گیا ہے؟
وَلَقَدۡ جَآءَتۡ رُسُلُنَآ إِبۡرَٰهِيمَ بِٱلۡبُشۡرَىٰ قَالُواْ سَلَٰمٗاۖ
آیت کریمہ میں رہنمائی ہے کہ سلام کلام سے پہلے ہوتا ہے۔(السعدی: ۳۸۵)
سوال:فرشتوں نے ابراہیم علیہ السلام سے بات چیت شروع کرنے سے پہلے سلام کیا۔اس سے ہمیں کیا فائدہ معلوم ہوتا ہے؟
فَمَا لَبِثَ أَن جَآءَ بِعِجۡلٍ حَنِيذٖ ٦٩
اس آیت میں مہمان نوازی کے آداب میں سے یہ ادب بتایا گیا ہے کہ میزبانی اور مہمان نوازی میں جلدی کی جائے۔ چنانچہ مہمان کے آتے ہی فوری طور پر جو کچھ میسر وموجود ہو، اسے پیش کردیا جائے۔پھر اس کے بعد میزبان کی حیثیت اور قدرت ہو تو دوسری چیزوں کا اہتمام کرے اور ایسا تکلف نہ کرے جس سے نقصان اٹھانا پڑے۔ (القرطبی: ۱۱؍۱۵۹)
سوال: آیت کی روشنی میں مہمان نوازی کے کچھ آداب بیان کیجئے.
فَلَمَّا رَءَآ أَيۡدِيَهُمۡ لَا تَصِلُ إِلَيۡهِ نَكِرَهُمۡ وَأَوۡجَسَ مِنۡهُمۡ خِيفَةٗۚ قَالُواْ لَا تَخَفۡ إِنَّآ أُرۡسِلۡنَآ إِلَىٰ قَوۡمِ لُوطٖ ٧٠
قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کے یہاں یہ دستور اور چلن تھا کہ جب کوئی مہمان آتا اور وہ پیش کیا ہوا کھانا نہیں کھاتا تو اس سے یہ مطلب سمجھتے تھے کہ آنے والااچھے ارادے سے نہیں بلکہ برائی کی نیت سے آیا ہے۔ (البغوی: ۲؍۴۱۲)
سوال:فرشتوں نے جب کھانا نہیں کھایا تو ابراہیم علیہ السلام کو ان سے ڈر کیوں محسوس ہوا؟
إِنَّآ أُرۡسِلۡنَآ إِلَىٰ قَوۡمِ لُوطٖ ٧٠ وَٱمۡرَأَتُهُۥ قَآئِمَةٞ فَضَحِكَتۡ
فرشتوں نے کہا:ہم لوط علیہ السلام کی قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں تاکہ ہم انہیں ہلاک وبرباد کردیں۔ سارہ رضی اللہ عنہا ان کی ہلاکت کی بات سے خوش ہوکر ہنسنے لگیں۔اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ لوگ بڑے فسادی تھے،کفر میں بڑ ے سخت اور حق سے دشمنی میں بڑے کٹرتھے۔ (ابن کثیر: ۲؍۴۳۳)
سوال: فرشتوں کی خبر سے سارہ خوش ہوئیں اورہنسنے لگیں۔کیوں؟