قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے


٦ ٦




ﭿ ٧ ٧



٨ ٨

٩ ٩


١٠ ١٠

١١ ١١


ﯿ ١٢ ١٢
222
سورۃ هود آیات 0 - 6

وَمَا مِن دَآبَّةٖ فِي ٱلۡأَرۡضِ إِلَّا عَلَى ٱللَّهِ رِزۡقُهَا وَيَعۡلَمُ مُسۡتَقَرَّهَا وَمُسۡتَوۡدَعَهَاۚ كُلّٞ فِي كِتَٰبٖ مُّبِينٖ ٦

یہ ایک سچا وعدہ اور سچی ضمانت(گارنٹی) ہے۔ اب اگر یہ سوال ہو کہ (على الله)یعنی اللہ پر واجب ولازم ہے۔کا لفظ کیوں بولا گیا جبکہ یہ تو اللہ کا فضل اور اس کی مہربانی ہے۔کیونکہ اللہ پر کوئی چیز واجب نہیں ہوتی؟تو اس کا جواب یہ ہے کہ:اللہ تعالیٰ نے ایسا کہہ کر اپنی ضمانت کی تاکید کی ہے۔ کیونکہ جب اللہ نے اس بات کا وعدہ فرمایا ہے تو یہ چیز ایسی ہوگئی جسے یقینی طورپر ہونا ہی ہے کیونکہ اللہ وعدہ خلافی نہیں کرتا۔ (ابن جزی: ۱؍۳۹۱)
سوال:اللہ تعالیٰ نے ایک چیز کو کیسے اپنے اوپر واجب فرمالیا جبکہ وہ چیز اس کی طرف سے فضل ومہربانی تھی؟

سورۃ هود آیات 0 - 7

لِيَبۡلُوَكُمۡ أَيُّكُمۡ أَحۡسَنُ عَمَلٗاۗ

اللہ تعالیٰ نے ( اَکْثَرُعَمَلًا) نہیں کہا کہ کون زیادہ عمل کرتا ہے بلکہ(أحسن عملًا)کہا کہ کون زیادہ اچھے اعمال کرتا ہے۔ اور کوئی بھی عمل اس وقت تک اچھا نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ اللہ عزوجل کے لئے خالص نہ ہو اور رسول اللہ ﷺ کی شریعت وسنت کے مطابق نہ ہو۔اب اگر کسی عمل میں ان دوشرطوں میں سے ایک بھی شرط موجود نہیں ہوگی تو وہ عمل بے کار اور باطل ہوجائیگا۔ (ابن کثیر: ۲؍۴۱۹)
سوال: “ اَکْثَرُعَمَلًا” (زیادہ عمل والا)اور (أحسن عملًا) (اچھے عمل والا)میں کیا فرق ہے؟اور آیت میں دوسرا لفظ کیوں لیا گیا ہے؟

سورۃ هود آیات 0 - 7

لِيَبۡلُوَكُمۡ أَيُّكُمۡ أَحۡسَنُ عَمَلٗاۗ

عمل میں تقویٰ دوچیزوں کے ذریعہ ہوتا ہے۔اول: اس عمل کو اللہ کے لئے خالص کرنا۔ اور اخلاص یہ ہے کہ بندہ اپنے عمل سے صرف اللہ کی رضا اور خوشنودی چاہے،اپنے رب کی عبادت میں کسی کو حصہ دار نہ بنائے۔
دوم: وہ عمل ان کاموں میں سے ہو جن کے کرنے کا اللہ نے حکم دیا ہے اور جنہیں اللہ پسند کرتا ہے۔چنانچہ وہ شریعت کے مطابق ہو نہ کہ کسی ایسے دین کے مطابق ہو جسے اللہ کی اجازت کے بغیر شریعت بنا (گڑھ) لیا گیا ہے۔
یہ بات ویسی ہی ہے جسے فضیل بن عیاض رحمہ اللہ نے اللہ کے فرمان: (ليبلوكم أيكم أحسن عملًا)کے معنی میں بیان کیا ہے۔ کہ اس کا مطلب: “أَخْلَصُهُ وَأَصْوَبُهُ” ہے یعنی جو بالکل خالص اوربالکل صحیح ہو۔ (ابن تیمیہ: ۳؍۵۰۷)
سوال: عمل میں احسان یعنی اچھائی کیسے ہوتی ہے؟

سورۃ هود آیات 9 - 10

وَلَئِنۡ أَذَقۡنَا ٱلۡإِنسَٰنَ مِنَّا رَحۡمَةٗ ثُمَّ نَزَعۡنَٰهَا مِنۡهُ إِنَّهُۥ لَيَـُٔوسٞ كَفُورٞ ٩ وَلَئِنۡ أَذَقۡنَٰهُ نَعۡمَآءَ بَعۡدَ ضَرَّآءَ مَسَّتۡهُ لَيَقُولَنَّ ذَهَبَ ٱلسَّيِّـَٔاتُ عَنِّيٓۚ إِنَّهُۥ لَفَرِحٞ فَخُورٌ ١٠

حقیقت یہ ہے کہ انسان کی حالت ویسی ہی ہوتی ہے جیسی اللہ نے بیان فرمائی ہے کہ:جب وہ خوشحالی اور نعمت سے نکل کر بدحالی اور مصیبت میں پڑجاتا ہے، تو ناامیدہو جاتا ہے کہ اب آئندہ کبھی خوشحالی کا منہ نہیں دیکھ پاؤں گا اور اس حالت سے پہلے اللہ نے اسے جن نعمتوں سے نوازا تھا ان کی ناشکری کرتا ہے۔اسی طرح جب اسے تکلیف اور مصیبت کے بعد نعمت اور راحت ملتی ہے تو وہ اپنے آپے میں نہیں رہتا اور اس بات سے بے فکر ہوجاتا ہے کہ آئندہ کبھی بھی بدحالی اور مصیبت پلٹ کر آئیگی۔اب وہ اپنی بری حالت کو بھول کر کہتا ہے: (ذهب السيئات عني إنه لفرح فخور)یعنی اب برائیاں مجھ سے دور ہوگئیں۔ پھر وہ اترانے والا اور ڈینگیں مارنے والا ہوجاتا ہے۔ (ابن تیمیہ: ۳؍۵۰۸)
سوال:خوشحالی کی آزمائش میں پڑنے کے وقت اور بدحالی کی مصیبت میں مبتلا ہونے کے وقت انسان کی کیا حالت ہوتی ہے؟بیان کیجئے.

سورۃ هود آیات 0 - 11

إِلَّا ٱلَّذِينَ صَبَرُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ أُوْلَٰٓئِكَ لَهُم مَّغۡفِرَةٞ وَأَجۡرٞ كَبِيرٞ ١١

صبر کے معانی میں سے ایک معنی ہے:کشادگی کا انتظار کرنا۔اور اسی لئے یہاں۔آیت میں۔ (آمنوا)(جو ایمان لائے)کے بجائے(صبروا)(جنہوں نے صبرکیا)کہا گیا۔اس لئے کہ اللہ نے کافروں کی حالت بتاتے ہوئے فرمایا: (إنه ليؤس كفور)وہ بڑا ناامید،بہت ناشکرا ہوجاتا ہے۔ تو یہاں کافروں کی اس حالت سے مومنوں کی حالت کا موازنہ کرنا مقصد ہے ۔(ابن عاشور: ۲۱؍۱۵)
سوال:آیت کریمہ میں (صبروا)(جنہوں نے صبر کیا)فعل کو (آمنوا) (جو ایمان لائے)فعل پر ترجیح کیوں دی گئی ہے؟

سورۃ هود آیات 0 - 12

فَلَعَلَّكَ تَارِكُۢ بَعۡضَ مَا يُوحَىٰٓ إِلَيۡكَ وَضَآئِقُۢ بِهِۦ صَدۡرُكَ أَن يَقُولُواْ لَوۡلَآ أُنزِلَ عَلَيۡهِ كَنزٌ أَوۡ جَآءَ مَعَهُۥ مَلَكٌۚ

ان آیتوں میں اس بات کی طرف رہنمائی ہے کہ اللہ کی طرف دعوت دینے والے کے لئے مناسب نہیں ہے کہ اعتراض کرنے والوں کے اعتراضات اور عیب لگانے والو ں کی نکتہ چینی اور طعنہ زنی اسے دعوت کے کام سے روک دے۔خاص طور سے ایسی صورت میں جب ان کی تنقید اور برائی بے بنیادہو اور اس کی دعوت میں کوئی خامی نہ ہو۔ (السعدی: ۳۷۸)
سوال:آیت میں دعوت کا کام کرنے والوں کے لئے ایک فائدہ ہے۔ اسے بیان کیجئے.

سورۃ هود آیات 0 - 12

فَلَعَلَّكَ تَارِكُۢ بَعۡضَ مَا يُوحَىٰٓ إِلَيۡكَ وَضَآئِقُۢ بِهِۦ صَدۡرُكَ أَن يَقُولُواْ لَوۡلَآ أُنزِلَ عَلَيۡهِ كَنزٌ أَوۡ جَآءَ مَعَهُۥ مَلَكٌۚ

اللہ تعالیٰ نے یہاں (ضائق) (تنگ ہونے والا) کہا ہے “ضيق” (یعنی جس کی صفت ہی تنگی ہو)نہیں کہاتاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ نبی ﷺ کشادہ سینہ اور بڑے دل والے تھے۔ (ابن جزَی: ۱؍۳۹۲)
سوال:اللہ تعالیٰ نے آیت میں (ضائق)کہا ہے “ضيق” نہیں کہا۔کیوں؟