قرآن
ﮖ
ﱃ
ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ
ﭩ ﭪ ﭫ ١٠٧ ١٠٧ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ
ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ
ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ١٠٨ ١٠٨ ﮇ ﮈ ﮉ
ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ١٠٩ ١٠٩
ﮗ
ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ٢ ٢ ﮫ ﮬ
ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ
ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ
ﯥ ٣ ٣ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ٤ ٤ ﯱ ﯲ
ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ
ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ ﰁ ﰂ ﰃ ﰄ ﰅ ٥ ٥
وَإِن يَمۡسَسۡكَ ٱللَّهُ بِضُرّٖ فَلَا كَاشِفَ لَهُۥٓ إِلَّا هُوَۖ وَإِن يُرِدۡكَ بِخَيۡرٖ فَلَا رَآدَّ لِفَضۡلِهِۦۚ يُصِيبُ بِهِۦ مَن يَشَآءُ مِنۡ عِبَادِهِۦۚ وَهُوَ ٱلۡغَفُورُ ٱلرَّحِيمُ ١٠٧
جب بندہ یقینی اور پکی دلیل کے ساتھ یہ بات جان لیگا کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا ہے جو نعمتیں دیتا ہے وہی تکلیفوں اور پریشانیوں کو دور کرتا ہے، ساری اچھائیاں اور بھلائیاں وہی عطاکرتاہے اورتمام برائیوں اور مصیبتوں کو وہی ٹالتاہے، ساری مخلوق میں ایسا کوئی نہیں ہے جس کے ہاتھ میں ان میں سے کوئی چیز ہو۔مگر اتنا ہی جتنا اللہ تعالیٰ کسی کے ہاتھ پر جاری کردے۔ (جیسے کسی پیغمبر کے ہاتھ پر معجزہ ظاہر فرمائے جو اللہ کی ہی مشیئت وقدرت سے ہوتا ہے)چنانچہ جب بندہ اس بات کو جان لے گا تو اسے پکا یقین ہوجائیگاکہ صرف اللہ تعالیٰ ہی حق ہے،اس کے علاوہ جن ہستیوں یا معبودوں کو لوگ پکارتے، پوجتے ہیں وہ سب باطل ہیں۔ (السعدی؍۳۷۵)
سوال: آیت کو سامنے رکھ کر بتائیے کہ آپ اس شخص کو کیسے نصیحت کریں گے جواپنے مسائل ومشکلات کو حل کرنے کے لئے کسی مخلوق سے لَو لگاتا اور خالق کو بھلادیتا ہے؟
وَٱتَّبِعۡ مَا يُوحَىٰٓ إِلَيۡكَ وَٱصۡبِرۡ حَتَّىٰ يَحۡكُمَ ٱللَّهُۚ وَهُوَ خَيۡرُ ٱلۡحَٰكِمِينَ ١٠٩
اللہ تعالیٰ نے نیک اعمال کو صبر کے حکم سے جوڑا ہے عمومی طور پر بھی اور خصوصی طور پر بھی۔
چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: (واتبع ما يوحى إليك واصبر حتى يحكم الله وهو خير الحاكمين). جو کچھ آپ پر وحی کی جاتی ہے آپ اس پر چلتے رہئے اور صبر کیجئے( یعنی اس پر جمے رہئے) یہاں تک کہ اللہ فیصلہ کردے او ر وہ فیصلہ کرنے والوں میں سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔
اور پورا کا پورا تقویٰ،ساری کی ساری پرہیزگاری اسی میں ہے کہ نبی ﷺ کی طرف جو کچھ وحی کی گئی ہے اس کی اتباع کی جائے۔ وہ اس طرح کہ اللہ تعالیٰ کی ہر خبر کو سچ مانیں اور اس کے ہر حکم پر عمل کریں ۔ (ابن تیمیہ:۳؍۵۰۱)
سوال: تقویٰ کو پکا اور سچا بنانے کا صحیح ذریعہ کیا ہے؟
الٓرۚ كِتَٰبٌ أُحۡكِمَتۡ ءَايَٰتُهُۥ ثُمَّ فُصِّلَتۡ مِن لَّدُنۡ حَكِيمٍ خَبِيرٍ ١
سورت ِھود میں پچھلی قوموں کا اور ان پر دنیا میں اللہ کی طرف سے آنے والے عذاب کابیان ہے اور یہ ایسا بیان ہے کہ جب یقین رکھنے والے بندے اس کی تلاوت کرتے ہیں تو ان کے دلوں پر اللہ کی بادشاہت وسلطنت، دشمنوں کو عذاب میں پکڑنے جکڑنے کا منظر ابھرجاتا ہے۔ایسے میں اگر وہ (تلاوت کرنے والے اہل ِیقین) دہشت سے مرجائیں تو وہ اس میں حق بجانب ہوں گے لیکن اللہ تبارک وتعالیٰ ان نازک اوقات ولمحات میں بندوں کے ساتھ لطف و نرمی کا برتاؤ کرتا ہے تاکہ وہ اس کے کلام ِہدایت کو پڑھ سکیں۔(القرطبی: ۱۱؍۶۴)
سوال:سورت ِھود کا کیا مضمون ہے؟اور ایمان والے نیک لوگوں پر اس سورت کی تلاوت کا کیا اثر ہوتا ہے؟
مِن لَّدُنۡ حَكِيمٍ خَبِيرٍ ١
جب اس کتاب کو مُحکم(مضبوط اور واضح)بنانا اور تفصیل کے ساتھ بیان کرنا اس اللہ کی طرف سے ہے جو کامل حکمت والا اور ہر چیز کی پوری خبر رکھنے والا ہے تو پھر اس کے بعدقرآن کی عظمت وبڑائی،اس کے حکمت سے پر ہونے اور وسیع رحمت پر مشتمل ہونے کے متعلق مت پوچھئے۔(السعدی:۳۷۶)
سوال:قرآن کریم کو اس ذات نے نازل کیا جو نہایت حکمت والا اور سب کچھ جاننے والا ہے اس سے کیا سمجھ میں آتا ہے؟
وَأَنِ ٱسۡتَغۡفِرُواْ رَبَّكُمۡ ثُمَّ تُوبُوٓاْ إِلَيۡهِ يُمَتِّعۡكُم مَّتَٰعًا حَسَنًا إِلَىٰٓ أَجَلٖ مُّسَمّٗى وَيُؤۡتِ كُلَّ ذِي فَضۡلٖ فَضۡلَهُۥۖ وَإِن تَوَلَّوۡاْ فَإِنِّيٓ أَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٖ كَبِيرٍ ٣
بعض بزرگوں کا کہنا ہے کہ:گناہ چھوڑے بغیرمعافی مانگنا جھوٹوں کی توبہ ہے۔آیت کے تحت ایک بات یہ کہی گئی ہے کہ اس میں استغفار کو توبہ سے پہلے ذکر کیا گیا ہے اس لئے کہ مغفرت وبخشش ہی بندے کا اصل مقصد ہے جبکہ توبہ اس کا ذریعہ ہے۔ (یعنی توبہ کے ذریعہ مغفرت ملتی ہے) اس طرح چاہت ومقصدہونے کے اعتبار سے مغفرت اول ہے اور سبب ہونے کے لحاظ سے وہ آخر ہے۔(یعنی توبہ پہلے ہوتی ہے اور مغفرت بعد میں ہوتی ہے۔)اور یہ معنی بھی ہوسکتا ہے کہ: چھوٹے گناہوں کی اللہ سے معافی اور مغفرت مانگو اور بڑے گناہوں سے اس کی جناب میں توبہ کرو،اس کی طرف پلٹو۔ (القرطبی: ۱۱؍۶۷)
سوال:آیت میں استغفار کو توبہ سے پہلے کیوں ذکر کیا گیاہے؟
وَأَنِ ٱسۡتَغۡفِرُواْ رَبَّكُمۡ ثُمَّ تُوبُوٓاْ إِلَيۡهِ يُمَتِّعۡكُم مَّتَٰعًا حَسَنًا إِلَىٰٓ أَجَلٖ مُّسَمّٗى وَيُؤۡتِ كُلَّ ذِي فَضۡلٖ فَضۡلَهُۥۖ وَإِن تَوَلَّوۡاْ فَإِنِّيٓ أَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٖ كَبِيرٍ ٣
وہ تمہیں (توبہ و استغفار کے سبب) آسودگی، خوشحالی، امن اور کشادگی کے ساتھ اچھی زندگی عطا کرے گا اور اچھے عمل کرنے والے کو اس کا بدلہ دنیا میں بھی دیگا اور آخرت میں بھی۔ (البغوی: ۲؍۳۸۵-۳۸۶)
سوال:اللہ سے مغفرت طلب کرنے کے کیا فائدے ہیں؟
أَلَآ إِنَّهُمۡ يَثۡنُونَ صُدُورَهُمۡ لِيَسۡتَخۡفُواْ مِنۡهُۚ أَلَا حِينَ يَسۡتَغۡشُونَ ثِيَابَهُمۡ يَعۡلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعۡلِنُونَۚ إِنَّهُۥ عَلِيمُۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ ٥
اس آیت کے معنی میں ایک بات یہ کہی گئی ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کافروں کے سامنے آتے تو یہ لوگ سخت عداوت اور بغض کی وجہ سے اپنی پیٹھوں کو آپ کی طرف کردیتے تھے تاکہ آپ کو نہ دیکھیں۔ (ابن جزی: ۱؍۳۹۰)
اس معنی کے لحاظ سے سینوں کو موڑنے والے لوگ اہل ِایمان معلوم نہیں ہوتے ہیں۔
سوال:کفار کا اپنے سینوں کو موڑنے سے کیا مقصد ہے، اور ایسا کیوں کرتے تھے؟