قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے




٧١ ٧١

ﭿ ٧٢ ٧٢



٧٣ ٧٣


٧٤ ٧٤

٧٥ ٧٥

٧٦ ٧٦


٧٧ ٧٧
ﯿ
٧٨ ٧٨
217
سورۃ يونس آیات 0 - 71

ثُمَّ لَا يَكُنۡ أَمۡرُكُمۡ عَلَيۡكُمۡ غُمَّةٗ ثُمَّ ٱقۡضُوٓاْ إِلَيَّ وَلَا تُنظِرُونِ ٧١

(ثم اقضوا إليَّ) یعنی:تم میرے خلاف جو چاہتے ہو اسے کرڈالو۔ آیت کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ:نوح علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا: اگر میرا اللہ کی طرف تم کو بلانا بہت برا لگتا ہے، تو ٹھیک ہے تم اپنے ارادوں اور منصوبوں کو پورا کرتے ہوئے میرا جو بگاڑ سکتے ہو بگاڑ لو ۔ حقیقت میں مجھے تم لوگوں کی کوئی پرواہ نہیں ہے کیونکہ میرا بھروسہ اور اعتماد اللہ سبحانہ وتعالیٰ پر ہے۔(ابن جزی: ۱؍۳۸۵)
سوال: مشکل حالات میں انسان کے اندر طاقت اور حوصلہ ایسے ہی بغیر کسی بنیاد کے نہیں آجاتے بلکہ اس کا دارومدار دل کے ایک عمل پر ہے۔وہ عمل کیاہے؟

سورۃ يونس آیات 0 - 72

فَإِن تَوَلَّيۡتُمۡ فَمَا سَأَلۡتُكُم مِّنۡ أَجۡرٍۖ إِنۡ أَجۡرِيَ إِلَّا عَلَى ٱللَّهِۖ

(فما سألتكم) میں نے تم سے نہیں مانگا۔اللہ کا پیغام اور دعوت پہنچانے کے بدلے (مِنْ اَجْرٍ)کوئی اجرت اور کوئی بھی معاوضہ۔ (إن أجري)میرا اجر اور بدلہ نہیں ہے۔(إلا على الله)مگر اللہ کے ذمہ۔ (البغوی: ۲؍۳۷۲)
سوال: آیت نے سچے داعی کی علامتوں میں سے ایک علامت بیان کی ہے جس کے ذریعہ سنت کے علماء اور بدعت کے حامی علماء کے بیچ فرق واضح ہوجاتا ہے۔وہ علامت کیا ہے؟

سورۃ يونس آیات 0 - 73

فَكَذَّبُوهُ فَنَجَّيۡنَٰهُ وَمَن مَّعَهُۥ فِي ٱلۡفُلۡكِ وَجَعَلۡنَٰهُمۡ خَلَٰٓئِفَ وَأَغۡرَقۡنَا ٱلَّذِينَ كَذَّبُواْ بَِٔايَٰتِنَاۖ فَٱنظُرۡ كَيۡفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلۡمُنذَرِينَ ٧٣

آیت میں نوح علیہ السلام کو غرق سے بچانے کاذکر پہلے آیا ہے اور غرق جس سے نوح علیہ السلام کو بچایا گیا ہے اس کا ذکر بعد میں، مقصد اس بات کی طرف اشارہ کرنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا نوح کو نجات دینا جھٹلانے والوں کو غرق کرنے سے زیادہ اہم ہے۔ساتھ ہی یہ مقصد بھی ہے کہ اس قصے کو سننے والے مسلمانوں کو خوشی پہنچانے میں پہل اور جلدی کی جائے۔ (ابن عاشور: ۱۱؍۲۴۳)
سوال: نوح علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بچالینے کا بیان قوم کوڈبونے کےبیان سے پہلے کیا گیاہے۔اس کا فائدہ کیا ہے؟

سورۃ يونس آیات 0 - 74

ثُمَّ بَعَثۡنَا مِنۢ بَعۡدِهِۦ رُسُلًا إِلَىٰ قَوۡمِهِمۡ فَجَآءُوهُم بِٱلۡبَيِّنَٰتِ فَمَا كَانُواْ لِيُؤۡمِنُواْ بِمَا كَذَّبُواْ بِهِۦ مِن قَبۡلُۚ كَذَٰلِكَ نَطۡبَعُ عَلَىٰ قُلُوبِ ٱلۡمُعۡتَدِينَ ٧٤

(على قلوب المعتدين)زیادتی کرنے والوں کے دلوں پر۔ یعنی: جو کفر وسرکشی میں جانے پہنچانے حدود سےبھی تجاوز کرنے والے ہیں،ان کی اسی زیادتی اور ڈھٹائی کی وجہ سے ہم نے انہیں حق کو قبول کرنے اور سیدھے سچے راستے پر چلنے کی توفیق سے محروم کردیا ۔ (الألوسی: ۱۱؍۲۱۶)
سوال: آیت کریمہ کے بیان کی روشنی میں ہدایت ملنے اور سیدھے راستے کی توفیق ملنے میں کون سی چیزیں رکاوٹ بنتی ہیں؟

سورۃ يونس آیات 0 - 75

ثُمَّ بَعَثۡنَا مِنۢ بَعۡدِهِم مُّوسَىٰ وَهَٰرُونَ إِلَىٰ فِرۡعَوۡنَ وَمَلَإِيْهِۦ بِـَٔايَٰتِنَا فَٱسۡتَكۡبَرُواْ وَكَانُواْ قَوۡمٗا مُّجۡرِمِينَ ٧٥

اللہ تعالیٰ اپنی کتاب عزیز قرآن میں موسیٰ علیہ السلام کا قصہ فرعون کے ساتھ اکثر بیان کرتا ہے۔اس لئے کہ یہ (دوسرے قصوں کے مقابلے میں) بڑا ہی عجیب وغریب اور حیرت انگیز قصہ ہے کہ( خود کو رب کہنے والے) فرعون نے موسیٰ علیہ السلام سے بچنے کاہر ممکن طریقہ اختیار کیا،(یہاں تک کہ بنی اسرائیل میں پیدا ہونے والے نرینہ بچوں کو قتل کروایا)مگر تقدیر الٰہی نے اسے اس طرح مغلوب کردیا کہ جس بچے (موسیٰ)سےوہ بچنا چاہتا تھا اسے خود ہی اولاد کی طرح اپنے بستر اوراپنے دسترخوان پر پالا پوسا۔پھر وہیں پل کر جوان ہوا۔ تب اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کےلئے ان(آل ِفرعون)کے بیچ سے نکل جانے کا ذریعہ پیدا کیا، پھر( کچھ سالوں بعد) اللہ نے موسیٰ علیہ السلام کو نبوت ورسالت اور اپنے سے ہم کلامی کا شرف عطا کیا۔اور انہیں فرعون کے پاس بھیجا تاکہ وہ اسے اللہ تعالیٰ کی طرف بلائیں۔ (ابن کثیر: ۲؍۴۰۸)
سوال: قرآن کریم میں موسیٰ علیہ السلام کا قصہ فرعون کے ساتھ باربار دہرایا گیا ہے۔کیوں؟

سورۃ يونس آیات 0 - 78

قَالُوٓاْ أَجِئۡتَنَا لِتَلۡفِتَنَا عَمَّا وَجَدۡنَا عَلَيۡهِ ءَابَآءَنَا وَتَكُونَ لَكُمَا ٱلۡكِبۡرِيَآءُ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَمَا نَحۡنُ لَكُمَا بِمُؤۡمِنِينَ ٧٨

(وتكون لكما الكبرياء)(یعنی تاکہ تم دونوں کو) سرداری، بادشاہی اور حکومت مل جائے۔ (القرطبی: ۱۱؍۲۸)
سوال: دین کی طرف دعوت دینے والوں پر یہ الزام لگانا کہ وہ اپنی دعوت کی آڑ میں عہدے چاہتے ہیں۔یہ مخالفین کا پرانا طریقہ ہے۔ آیت کی مدد سے اس بات کی وضاحت کیجئے.

سورۃ يونس آیات 0 - 78

قَالُوٓاْ أَجِئۡتَنَا لِتَلۡفِتَنَا عَمَّا وَجَدۡنَا عَلَيۡهِ ءَابَآءَنَا وَتَكُونَ لَكُمَا ٱلۡكِبۡرِيَآءُ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَمَا نَحۡنُ لَكُمَا بِمُؤۡمِنِينَ ٧٨

دلیلوں کی کاٹ دلیلوں اورپختہ ثبوتوں سے ہی کی جاسکتی ہے۔اب اگر کوئی شخص حق پیش کرے اور سامنے والا (فرعون اور اس کے درباریوں کی طرح) اس قسم کی بودی باتوں کے ذریعہ اس حق کو رد کرے تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ایسے کمزور جواب سے حق کو رد کرنے والا شخص ایسی دلیل لانے سے عاجز ہے جو مدمقابل کی بات کو رد کرے اور اس کی دلیلوں کو کاٹ سکے۔ اس لئے کہ اگر اس کے پاس کوئی دلیل ہوتی تو اسے پیش کرتا اور اس طرح کی باتوں کا سہارا نہیں لیتاکہ “تمہارا مقصد کچھ اورہے“تم کچھ اور چاہتے ہو”۔چاہےوہ مدمقابل کےمقصد کے بارے میں اپنی بات اور خبر میں سچا ہو یا جھوٹا۔ (السعدی؍۳۷۱)
سوال: آیت میں حق کے سامنے اہل ِباطل کی بات چیت کے طریقوں میں سے ایک طریقے کا ذکر ہے۔اس کی وضاحت کیجئے.