قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے


٣٤ ٣٤


ﭿ ٣٥ ٣٥


٣٦ ٣٦


٣٧ ٣٧


٣٨ ٣٨

٣٩ ٣٩

ﯿ
٤٠ ٤٠

٤١ ٤١

٤٢ ٤٢
213
سورۃ يونس آیات 0 - 36

وَمَا يَتَّبِعُ أَكۡثَرُهُمۡ إِلَّا ظَنًّاۚ إِنَّ ٱلظَّنَّ لَا يُغۡنِي مِنَ ٱلۡحَقِّ شَيۡـًٔاۚ

(وما يتبع أكثرهم إلا ظنًا) اور ان میں زیادہ تر ایسے ہی لوگ ہیں جو صرف قیاس وگمان کے پیچھے چلتے ہیں۔
اس سے مشرکین کے سردار مراد ہیں۔مطلب یہ ہے کہ: یہ سرداران صرف وہم وگمان اور اٹکل کی پیروی کرتے ہیں کہ ان کے شرکاء عبادت کے لائق ہیں اور وہ (اللہ کے پاس)ان کی سفارش کریں گے جبکہ ان کے پاس اس کی کوئی دلیل وحجت نہیں ہے۔ اب رہے ان کے پیروکار عام لوگ تو وہ بس تقلید میں (بلا سمجھے اور بلا دلیل)اپنے سرداروں کے پیچھے چل پڑے ہیں۔ (القرطبی: ۱۰؍۵۰۲)
سوال:بدعت کے سرداروں کی گمراہی کا کیا سبب ہے؟ اور ان کے پیروکاروں کی گمراہی کا کیا سبب ہے؟

سورۃ يونس آیات 0 - 36

وَمَا يَتَّبِعُ أَكۡثَرُهُمۡ إِلَّا ظَنًّاۚ إِنَّ ٱلظَّنَّ لَا يُغۡنِي مِنَ ٱلۡحَقِّ شَيۡـًٔاۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمُۢ بِمَا يَفۡعَلُونَ ٣٦

(وما يتبع أكثرهم إلا ظنًا) اور ان میں زیادہ تر لوگ ایسے ہیں جو صرف قیاس وگمان کی پیروی کرتے ہیں۔
یعنی: اس چیز کے پیچھے چلتے ہیں جس کی سچائی ثابت نہیں ہوتی اس لئے کہ وہ کسی دلیل پر ٹکی نہیں ہوتی۔( إِنَّ ٱلظَّنَّ لَا يُغۡنِي مِنَ ٱلۡحَقِّ شَيۡـًٔا) یہ بات عقائد کے بارے میں بالکل صاف اور اٹل ہے کیونکہ عقائد میں یقین کا ہونا ضروری ہے جبکہ فروعی احکام ومسائل میں ایسا نہیں ہے۔ (یعنی عقائداور عبادات کے علاوہ مسائل میں قیاس واجتہاد کی گنجائش اور اجازت ہے۔) (ابن جزی: ۱؍۳۸۱)
سوال: کیا عقیدے کے مسائل میں گمان وتقلید فائدہ دے سکتے ہیں؟ان مسائل میں کیا ضروری ہے؟

سورۃ يونس آیات 0 - 37

وَتَفۡصِيلَ ٱلۡكِتَٰبِ لَا رَيۡبَ فِيهِ مِن رَّبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ ٣٧

(یہ کتاب رب العالمین کی طرف سے ہے) جس نے اپنی نعمتوں کے ذریعہ تمام مخلوقات کی پرورش کا انتظام کیا او ر ان کی تربیت کی۔اس کے اس انتظام اور تربیت کا سب سے بڑا اوراہم حصہ یہ ہے کہ اس نے لوگوں کی ہدایت کے لئے یہ کتاب (قرآن)نازل فرمائی ۔ جس میں ان کے دین اور دنیا کی ساری مصلحتیں موجود ہیں۔نیز وہ عمدہ اخلاق اور اچھے اعمال کی تعلیم ورہنمائی پر مشتمل ہے۔ (السعدی؍۳۶۴)
سوال: کتاب(قرآن)کی تفصیل کا ذکر کرنے کے بعد آیت کو اللہ کی صفت ِربوبیت (تربیت وپرورش کرنے کی صفت)کے ساتھ ختم کیا گیا ہے۔ان دونوں کے بیچ کیا تعلق ہے؟

سورۃ يونس آیات 0 - 39

بَلۡ كَذَّبُواْ بِمَا لَمۡ يُحِيطُواْ بِعِلۡمِهِۦ وَلَمَّا يَأۡتِهِمۡ تَأۡوِيلُهُۥۚ كَذَٰلِكَ كَذَّبَ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡۖ فَٱنظُرۡ كَيۡفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلظَّٰلِمِينَ ٣٩

(کفار نے قرآن کو جہالت کی وجہ سے جھٹلایا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے جھٹلانے کو پہلے لوگوں –ہلاک کی جانے والی قوموں–کے جھٹلانے کی طرح بتایا ہے)اس تشبیہ کے مقاصد میں کئی باتیں شامل ہیں:
پہلی بات: یہ بتانا کہ مخالفت کرنے والے ہٹ دھرم کا فروں کا ہمیشہ سے یہی طریقہ رہا ہے تاکہ مشرکین کو یہ بات معلوم ہوجائے کہ وہ ان قوموں اور امتوں کی طرح ہی ہیں جنہوں نے سچے رسولوں کو جھٹلایاتھا۔ لہذا اس حقیقت سے عبرت اور نصیحت پکڑیں۔
دوسری بات: دھمکی اور ڈرانے کے ذریعہ اشارہ کرنا ہے کہ تم پر بھی ویسا ہی عذاب آسکتا ہے جیسا کہ ان قوموں پر آچکا ہے جن کے انجام سے سننے والے بھی باخبر ہیں اور ان کی اجڑی بستیو ں کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے ۔
تیسری بات: نبی ﷺ کو تسلی دینا بھی مقصود ہے کہ آپ کو اپنی قوم کی طرف سے جو بھی تکلیف پہنچی ہے وہ کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ یہ اذیتیں اور مخالفتیں بالکل ویسی ہی ہیں جیسی پچھلے رسولوں نے اپنی قوموں کی طرف سے جھیلی تھیں۔(ابن عاشور: ۱۱؍۱۷۳)
سوال: تاریخ کے ہر دور میں دین ِحق کے دشمنوں کا رویہ یکساں رہا ہے۔یہ بات آیت کی روشنی میں بیان کیجئے.

سورۃ يونس آیات 0 - 39

بَلۡ كَذَّبُواْ بِمَا لَمۡ يُحِيطُواْ بِعِلۡمِهِۦ وَلَمَّا يَأۡتِهِمۡ تَأۡوِيلُهُۥۚ كَذَٰلِكَ كَذَّبَ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡۖ فَٱنظُرۡ كَيۡفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلظَّٰلِمِينَ ٣٩

آیت میں اس بات کی دلیل ہے کہ آدمی کو ہر معاملہ میں اچھی طرح حقیقت کی جستجو کرنا چاہئے اور انسان کے لئے یہ بات مناسب نہیں ہے کہ وہ کسی بھی چیز کی حقیقت ِ حال کو پوری طرح جاننے سے پہلے جلد بازی سے کام لے کر اسے قبول کرلے یا رد کردے۔ (السعدی؍۳۶۵)
سوال:ملنے والی خبروں کو ماننے اور نہ ماننے کے تعلق سے انسان کا رویہ اور طریقہ کیا ہونا چاہئے؟

سورۃ يونس آیات 0 - 42

وَمِنۡهُم مَّن يَسۡتَمِعُونَ إِلَيۡكَۚ أَفَأَنتَ تُسۡمِعُ ٱلصُّمَّ وَلَوۡ كَانُواْ لَا يَعۡقِلُونَ ٤٢

جس وقت نبی ﷺ وحی کی تلاوت کرتے ہیں اس وقت کچھ مشرکین آپ کی طرف کان لگاکرغور سے سنتے ہیں لیکن ہدایت حاصل کرنے کے لئے نہیں بلکہ دل لگی کے لئے،جھٹلانے کے لئے اور غلطی وکمزوری تلاش کرنے کے لئے ۔اور اس طرح کا سننا بے فائدہ ہے اور سننے والے کو اس سے کوئی خیر حاصل نہیں ہوسکتی۔ (السعدی؍۳۶۵)
سوال: مشرکین کو قرآن سننے سے کوئی فائدہ کیوں نہیں ملا؟

سورۃ يونس آیات 0 - 42

وَمِنۡهُم مَّن يَسۡتَمِعُونَ إِلَيۡكَۚ أَفَأَنتَ تُسۡمِعُ ٱلصُّمَّ وَلَوۡ كَانُواْ لَا يَعۡقِلُونَ ٤٢

اللہ تعالیٰ نے انہیں بہرے کے مانند قرار دیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگادی (اتنا تو سنتے ہیں جس سے ان پر حجت قائم ہوجاتی ہے لیکن ایسا نہیں سنتے کہ ہدایت قبول کرلیں)مطلب یہ ہوا کہ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت کی سماعت سے محروم کردیا ہے (اے نبی!) آپ انہیں ہدایت نہیں دے سکتے۔ (القرطبی: ۱۰؍۵۰۷)
سوال: اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو بہراکیوں قرار دیا ہے جبکہ ا ن کے کان تھے اور سننے کی طاقت بھی تھی؟