قرآن
ﮎ
ﰹ
ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ١٣٥ ١٣٥ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ
ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ
ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ
ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ١٣٦ ١٣٦
ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ
ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ
١٣٧ ١٣٧ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ
ﮤ ١٣٨ ١٣٨ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ
ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ١٣٩ ١٣٩
ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ
ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ
ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ
ﯴ ﯵ ﯶ ١٤٠ ١٤٠ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ
ﰀ ﰁ ﰂ ﰃ ﰄ ﰅ ﰆ ﰇ ﰈ ١٤١ ١٤١
قُولُوٓاْ ءَامَنَّا بِٱللَّهِ
( صرف زبان سے کہنا کافی نہیں کہ ہم اللہ پر ایمان لاتے ہیں بلکہ) اپنی زبانوں سے اس طرح کہوکہ تمہارے دل بھی اس کے موافق ہوں،یہی وہ حقیقی اور کامل قول ہے جس پر ثواب وجزاء متعین ہوتے ہیں،تو جس طرح (ایمان کے باب میں)دل کے اعتقاد ویقین کے بغیر محض زبان سے بولنا نفاق اور کفر ہے ،بالکل اسی طرح وہ قول جو عمل –قلبی عمل–سے عاری ہو بے اثر، بے سود ہے۔(السعدی:ص؍۶۷)
سوال:کیا ایمان لانے کا مطلب صرف زبان سے کہہ دینا ہے؟
قُولُوٓاْ ءَامَنَّا بِٱللَّهِ وَمَآ أُنزِلَ إِلَيۡنَا وَمَآ أُنزِلَ إِلَىٰٓ إِبۡرَٰهِۧمَ وَإِسۡمَٰعِيلَ وَإِسۡحَٰقَ وَيَعۡقُوبَ وَٱلۡأَسۡبَاطِ وَمَآ أُوتِيَ مُوسَىٰ وَعِيسَىٰ وَمَآ أُوتِيَ ٱلنَّبِيُّونَ مِن رَّبِّهِمۡ
اللہ پر ایمان کو پہلے ذکر کیا اس لئے کہ برحق شریعتوں کے مختلف ہونے کے باوجوداس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔(یعنی اللہ پر ایمان کا حکم ہر شریعت میں یکساں طور پر رہا ہے۔)پھر اس کے بعد نازل کردہ شریعتوں پر ایمان کو اس (ایمان باللہ) پر عطف کیا۔(ابن عاشور:۱؍۲۳۹)
سوال:اللہ پر ایمان لانے کو شریعتوں کے ایمان پر مقدم کیوں کیا گیاہے؟
وَمَآ أُوتِيَ ٱلنَّبِيُّونَ مِن رَّبِّهِمۡ
اس آیت میں نشاندہی اور رہنمائی ہے کہ دین کا تحفہ ہی حقیقی تحفہ ہے جس سے دنیا وآخرت کی سعادت جڑی ہوئی ہے ۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ حکم نہیں دیا ہے کہ انبیاء کرام (علیہم السلام) کو عطاکردہ حکومت وسلطنت ،مال واسباب اور اسی قسم کی دیگر چیزوں پر ایمان لائیں،بلکہ اللہ نے ہمیں یہ حکم دیا ہے کہ انہیں جو کتابیں اور شریعتیں دی گئی ہیں ،ہم ان پر ایمان لائیں۔(السعدی:ص؍۶۸)
سوال:اللہ کی نوازشوں اورتحائف کے اعتبار سے سب سے زیادہ خوش قسمت کون ہے؟
فَإِنۡ ءَامَنُواْ بِمِثۡلِ مَآ ءَامَنتُم بِهِۦ فَقَدِ ٱهۡتَدَواْۖ وَّإِن تَوَلَّوۡاْ فَإِنَّمَا هُمۡ فِي شِقَاقٖۖ فَسَيَكۡفِيكَهُمُ ٱللَّهُۚ وَهُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلۡعَلِيمُ ١٣٧
(فَسَيَكۡفِيكَهُمُ)اللہ ان سے عنقریب آپ کے لئے کفایت کریگا۔یہ نبی ﷺ کے لئے اللہ کا وعدہ تھا جس کی سچائی جلد ہی ظاہر ہوگئی (اور وعدہ پورا ہوگیا۔)چنانچہ بنوقُریظہ قتل کئے گئے ،بنو نضیر جلا وطن کئے گئے۔(یہ دونوں مدینہ کے پڑوس میں آباد یہودی قبیلے تھے۔)نیز دیگر شکلوں میں بھی یہ وعدہ پورا ہوا۔(ابن جزی:۱؍۸۵)
سوال:تین ایسے موقعوں کا ذکر کیجئے جن میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کے لئے کفار کی اذیتوں سے کفایت فرمائی؟
صِبۡغَةَ ٱللَّهِ وَمَنۡ أَحۡسَنُ مِنَ ٱللَّهِ صِبۡغَةٗۖ وَنَحۡنُ لَهُۥ عَٰبِدُونَ ١٣٨
یعنی:اپنے اوپر اللہ کا رنگ چڑھالو۔اللہ کا رنگ دراصل اس کادین ہے ۔ اس کے سب عقائد اور تمام ظاہری وباطنی اعمال کوہمہ وقت پورے طریقہ سے اپنا لو (اسے اپنا اوڑھنا بچھونا بنالو)حتٰی کہ یہ دین تمہارا رنگ اور تمہاری ایک صفت وپہچان بن جائے۔چنانچہ جب یہ تمہاری لازمی صفت بن جائیگی تو یہ تمہیں اس بات کا پابند بنادیگی کہ تم رضا ورغبت اور چاہت ومحبت کے ساتھ اللہ کے احکام کی تابعداری کرو ،اور یہ دین تمہاری طبعیت وعادت بن جائیگا کپڑے کے اس پختہ رنگ کی طرح جو اس کپڑے کی شناخت بن گیا ہے (جب اس طرح تم دین کے رنگ میں رنگ جاؤگے)تو تم دنیا وآخرت کی سعادت پالوگے۔(السعدی:ص؍۶۸)
سوال:دین کو اللہ کے رنگ کا نام کیوں دیا گیا؟
وَنَحۡنُ لَهُۥ عَٰبِدُونَ ١٣٨
سعید بن جُبیر(رحمہ اللہ) نے فرمایا:اخلاص یہ ہے کہ بندہ اپنے دین اور عمل کو صرف اللہ کے لئے خالص بنائے ۔چنانچہ دین میں اللہ کے ساتھ شرک نہ کرے اور اپنے عمل میں ریاکاری نہ کرے۔
فضیل (ابن عیاض) (رحمہ اللہ )نے فرمایا:لوگوں کی وجہ سے(نیک)عمل کو چھوڑدینا ریاکاری ہے اور لوگوں کی وجہ سے عمل کرنا شرک ہے۔اور اخلاص یہ ہے کہ اللہ تمہیں ان دونوں سے بچالے۔(البغوی:۱؍۱۱۳)
سوال:اللہ تعالیٰ کے لئے اخلاص کی حقیقت کیا ہے؟
تِلۡكَ أُمَّةٞ قَدۡ خَلَتۡۖ لَهَا مَا كَسَبَتۡ وَلَكُم مَّا كَسَبۡتُمۡۖ وَلَا تُسۡٔلُونَ عَمَّا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ ١٤١
(یہ آیت پہلے ۱۳۴نمبر پر آچکی ہے) پھراللہ نے اس آیت کویہاں دہرایا ہے۔وجہ یہ ہے کہ اس میں دھمکی دینے اور ڈرانے کا معنی موجود ہے۔یعنی:جب ان انبیاء کرام کو ان کی امامت اور تمام تر فضیلتوں کے باوجود ،ان کی اپنی کمائی(عمل)کا بدلہ دیا جائیگاتو پھر تم تو اس کے زیادہ مستحق ہو۔(القرطبی:۲؍۴۲۵)
سوال:یہ آیت پہلے بھی (۱۳۴؍نمبر)میں ذکرکی گئی ہے۔پھریہاںاسےدوبارہ کیوں ذکرکیاگیا؟