قرآن
ﮎ
ﰹ
ﭚ ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ١٢٧ ١٢٧ ﭡ ﭢ ﭣ
ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ
ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ١٢٨ ١٢٨ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ
ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ
ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ١٢٩ ١٢٩ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ
ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ
ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ١٣٠ ١٣٠ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ
ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ١٣١ ١٣١ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ
ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ
ﯔ ﯕ ﯖ ١٣٢ ١٣٢ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ
ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ
ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ
ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ١٣٣ ١٣٣ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ
ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ ﰁ ﰂ ﰃ ﰄ ﰅ ١٣٤ ١٣٤
وَإِذۡ يَرۡفَعُ إِبۡرَٰهِۧمُ ٱلۡقَوَاعِدَ مِنَ ٱلۡبَيۡتِ وَإِسۡمَٰعِيلُ رَبَّنَا تَقَبَّلۡ مِنَّآۖ
(تَقَبَّلۡ مِنَّآ)تو ہم سے قبول فرمالے۔یعنی ہمارے ساتھ اپنے فضل وکرم کا برتاؤ فرمااور ہمارے عمل کو ردنہ کر۔یہ کوتاہی اور کمی کے اعتراف کا اظہارہے کیونکہ بندہ خواہ کتنی ہی محنت ومشقت اٹھالے،اپنے آقا کی عظمت کے سامنے نہایت حقیر اور بے حیثیت ہے۔(البقاعی:۱؍۲۴۲)
سوال:ابراہیم اور اسماعیل( علیہماالسلام) نے قبولیت کے لئے دعاکیوں کی؟
وَإِذۡ يَرۡفَعُ إِبۡرَٰهِۧمُ ٱلۡقَوَاعِدَ مِنَ ٱلۡبَيۡتِ وَإِسۡمَٰعِيلُ رَبَّنَا تَقَبَّلۡ مِنَّآۖ إِنَّكَ أَنتَ ٱلسَّمِيعُ ٱلۡعَلِيمُ ١٢٧
قصہ ماضی کا ہے، مگر اسے (پوری طرح ذہن میں) حاضر کرنے کے لئے مضارع (حاضِر) کا صیغہ اختیار فرمایا، تاکہ لوگ پر مشقت نیک کام کرنے میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام )کو نمونہ بنائیں اور ساتھ ہی اپنی نیکیوں کی قبولیت کے لئے عاجزانہ دعا کریں اور اس تعمیر کردہ گھر (بیت اللہ) کی عظمت جان لیں اور اس کی تعظیم کریں۔(الألوسی:۱؍۳۸۳)
سوال:(يَرۡفَعُ)مضارع(حاضر)کا صیغہ کیوں اختیار فرمایاجب کہ یہ قصہ ماضی کا ہے؟
رَبَّنَا وَٱجۡعَلۡنَا مُسۡلِمَيۡنِ لَكَ وَمِن ذُرِّيَّتِنَآ أُمَّةٗ مُّسۡلِمَةٗ لَّكَ وَأَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَتُبۡ عَلَيۡنَآۖ إِنَّكَ أَنتَ ٱلتَّوَّابُ ٱلرَّحِيمُ ١٢٨
بندہ کسی بھی درجہ کو پہنچ جائے ،اس کے اندر کچھ نہ کچھ کمی وکوتاہی رہ ہی جاتی ہے لہذاوہ توبہ کا محتاج ہوتا ہے چنانچہ ابراہیم واسماعیل (علیہما السلام)(اپنی تمام اچھی کارکردگی کے باوجود بارگاہِ الٰہی میں) عرض گذار ہوئے:(وَتُبۡ عَلَيۡنَآۖ إِنَّكَ أَنتَ ٱلتَّوَّابُ ٱلرَّحِيمُ) رب !ہماری توبہ قبول فرمایقیناًتو بہت زیادہ توبہ قبول فرمانے والا اوربے انتہا رحم وکرم والا ہے۔(السعدی:ص؍۶۶)
سوال: ابراہیم اور اسماعیل( علیہما السلام) دونوں اللہ کے حضور توبہ کے طلبگار کیوں ہوئے،جبکہ دونوں کا دین میں بہت اعلٰی مقام تھا؟
رَبَّنَا وَٱجۡعَلۡنَا مُسۡلِمَيۡنِ لَكَ وَمِن ذُرِّيَّتِنَآ أُمَّةٗ مُّسۡلِمَةٗ لَّكَ وَأَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَتُبۡ عَلَيۡنَآۖ
توبہ کرنے والوں کی مختلف قسمیں ہیں،اسی لئے توبہ کے بھی مختلف درجات ہیں،چنانچہ:عام مسلمانوں کی توبہ ہے:گناہ پر نادم ہونا،دوبارہ اس کا ارتکاب نہ کرنے کا پختہ ارادہ کرنا اور ممکن ہوتومظالم کا تصفیہ کرنا اور ظلماً لی ہوئی چیز کالوٹانا اور اگر لوٹانا ممکن نہ ہو تو اس کی نیت اور جذبہ رکھنا۔اورخواص(عوام سے اونچا درجہ رکھنے والوں )کی توبہ ہے:مکروہ اور ناپسندیدہ چیزوں سے باز آجانا۔ ان مکروہات اور نا پسندیدہ چیزوں میں :دل میں برے خیالات کا ہونا،نیک اعمال میں کوتاہی ہونا اور عبادت کو کما حقہ انجام نہ دینا شامل ہے۔اور خواص الخواص(سب سے اعلیٰ درجات کے لوگوں)کی توبہ درجات کو بلند کرنے اور مراتب ومقامات میں ترقی پانے کے لئے ہوتی ہے ۔(الألوسی:۱؍۳۸۶)
سوال:کیا شخصیتوں کے مقام مختلف ہونے سے توبہ بھی مختلف ہوتی ہے؟اسے واضح کیجئے.
رَبَّنَا وَٱبۡعَثۡ فِيهِمۡ رَسُولٗا مِّنۡهُمۡ يَتۡلُواْ عَلَيۡهِمۡ ءَايَٰتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ ٱلۡكِتَٰبَ وَٱلۡحِكۡمَةَ
حکمت سے مراد:دین کی جانکاری،تاویل وتفسیر کی سمجھ اور وہ سوجھ بوجھ ہے جو اللہ کی جانب سے عطاکردہ خوبی اورروشنی ہے۔ (القرطبی:۲؍۴۰۳)
سوال:وہ حکمت کیا ہے جس کی دعا اللہ کے نبی ابراہیم (علیہ السلام) نے کی تھی؟
رَبَّنَا وَٱبۡعَثۡ فِيهِمۡ رَسُولٗا مِّنۡهُمۡ يَتۡلُواْ عَلَيۡهِمۡ ءَايَٰتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ ٱلۡكِتَٰبَ وَٱلۡحِكۡمَةَ وَيُزَكِّيهِمۡۖ إِنَّكَ أَنتَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡحَكِيمُ ١٢٩
(ٱلۡحِكۡمَةَ)سے مرادسنت ہے،اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کی ازواجِ مطہرات کو حکم دیا کہ ان کے گھروں میں پڑھی یا تلاوت کی جانے والی کتاب اور حکمت کا ذکر کریں۔اور (ٱلۡكِتَٰبَ)توقرآن ہے اور اس کے علاوہ رسول اللہ ﷺ جس چیز کو پڑھتے تھے وہ ہے سنت۔(ابن تیمیہ:۱؍۳۴۵)
سوال:حکمت سے کیا مقصود ہے؟اور اس کی دلیل کیاہے؟
فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسۡلِمُونَ ١٣٢
پس(اللہ نے تمہارے لئے جس دینِ اسلام کو چن لیا ہے)تم اس دین پر عمل پیرا ہوجاؤ،اس کے احکام پر عمل کو اپنی صفت اور پہچان بنالواور اس کے اخلاق کے رنگ میں رنگ جاؤ پھر تم اسی پربرقرار رہو۔ پھر جب بھی تمہاری موت آئے تو تمہارا یہی رنگ ڈھنگ اور طور طریقہ رہے، کیونکہ آدمی جس حالت میں زندگی گذارتاہے اسی پر اس کی موت ہوتی ہے اور جس حالت میں اس کی موت ہوتی ہے، قیامت کے دن اسی پر (دوبارہ)اٹھایا جائے گا۔(السعدی:ص؍۶۷)
سوال:اللہ نے لوگوں کو اسلام پر مرنے کا حکم کیسے دیا ہے جبکہ انسان کو حالتِ موت میں اپنے اوپر قابو نہیں رہتا؟