قرآن
ﮎ
ﰹ
ﮎ
ﭛ ٢ ٢ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ
ﭢ ﭣ ﭤ ٣ ٣ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ
ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ٤ ٤
ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ
ﭺ ﭻ ٥ ٥
الٓمٓ ١ ذَٰلِكَ ٱلۡكِتَٰبُ لَا رَيۡبَۛ فِيهِۛ هُدٗى لِّلۡمُتَّقِينَ ٢
بعض سورتوں كےشروع ميں(الٓمٓ) جيسے حروف لانے كا مقصد قرآن مجید کے اعجاز(معجزہ ہونے) کو بیان کرناهے، کہ ساری مخلوق قرآن کے مقابلے میں اس جیسا کلام پیش کرنے سے عاجز وبے بس ہے۔حالانکہ قرآن كريم عربی زبان كے انہی حروف مقطّعات (الگ الگ حروف)سے ترتیب پایا ہواہے،جس زبان وه آپس ميں هم كلام هوتے ہیں۔اور یہی وجہ ہے کہ ہر وہ سورت جس کا آغاز اس طرح کے حروف سے ہواہے،اس میں قرآن کي صداقت اور اس کے اعجاز وعظمت کا بیان ضرور ہوتا ہے ۔یہ بات مطالعہ كرنے سے بالکل واضح معلوم هوتی ہے۔(ابن کثیر:۱؍۳۶۳۷)
سوال:حروف مقطعات كاقرآن کی عظمت اور اس کے اعجاز سے كيا تعلق ہے؟
ذَٰلِكَ ٱلۡكِتَٰبُ لَا رَيۡبَۛ فِيهِۛ هُدٗى لِّلۡمُتَّقِينَ ٢
یہ نہیں کہا کہ فلاں مصلحت یا فلاں چیز کے لئے ہدایت ہے،بلکہ اس سے عام ہدایت مراد ہے، اور بلاشبہ یہ قرآن دنیا وآخرت کی تمام مصلحتوں کے لئے ہدایتورہنمائی ہے۔چنانچہ یہ کتاب تمام اصولی اور فروعی مسائل میں بندوں کی رہنمائی کرنے والی ہے ۔حق کو باطل سے اور صحیح کو ضعیف سے چھانٹ کر الگ کرنے والی ہے، اور لوگوں كے ليے واضح كرتی ہے کہ دنیا وآخرت میں مفید راستوں پر انہیں کس طرح چلنا چاہئے۔ (السعدی:۴۰)
سوال:آیت ميں كيا دلیل ہے کہ قرآن كريم دونوں جہاں کی تمام مصلحتوں کی رہنمائی کرتا ہے؟
ٱلَّذِينَ يُؤۡمِنُونَ بِٱلۡغَيۡبِ وَيُقِيمُونَ ٱلصَّلَوٰةَ وَمِمَّا رَزَقۡنَٰهُمۡ يُنفِقُونَ ٣
غیب پر ایمان لانا دل سے متعلق ہے ، نماز کی ادائیگی بدن سے متعلق ہے،جبکہ ملی ہوئی روزی سے خرچ کرنا مال سے متعلق ہے، اور یہ باتیں ظاہر ہیں۔(القرطبی:۱/۴۶۵)
سوال:آیت نے تقویٰ کے تین مقامات کو جمع کردیا ہے۔وہ کیا ہیں؟
وَيُقِيمُونَ ٱلصَّلَوٰةَ
یہ نہیں کہا کہ وہ نماز کا فعل بجالاتے ہیں یا اسے اداکرتے ہیں، کیونکہ نماز کو محض اس کی ظاہری شکل کے ساتھ اداکرنا کافی نہیں ہے، بلکہ یہ کہاکہ (وہ نماز قائم کرتے ہیں)،کیونکہ نمازقائم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ظاہری طور پر اس کے تمام ارکان ،واجبات اور شرطوں کو پوري طرح ادا کیا جائے، اور باطنی طور پر اس کی روح کے ساتھ اسے ادا کیا جائے۔اور اس کی روح یہ ہے کہ نماز دل لگا کر ادا کی جائے ، اور نماز ادا کرنے والا جو کہہ رہا ہے اور جو کررہا ہےاس پر اچھی طرح غور وفکر کرے۔(السعدی:۴۱)
سوال:نماز ادا کرنے کو “اقامت ”سے کیوں تعبیر کیا گیا؟
وَمِمَّا رَزَقۡنَٰهُمۡ يُنفِقُونَ
یہاں حر فِ (مِنْ)لایا گیا ہے ۔جو “تبعیض”یعنی کسی چیز کے كچھ حصے پر دلالت کرتاہے۔اس کا مقصد انہیں اس بات سے آگاہ کرنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے مال کا بہت معمولی سا حصہ ان سے طلب کیا ہے،جو اُن کے لئے نہ نقصاندہ ہے، نہ ہی بڑا بوجھ ہے۔بلکہ اس خرچ سے خود انہی کو فائدہ حاصل ہوگا، اور ان کے بھائی بھی فائدہ اٹھائیں گے۔
اللہ کے فرمان(رَزَقْنٰهُمْ)(جو ہم نے ان کودیا ہے)میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ مال واسباب جو تمہارے پاس ہیں تمہاری قوت وملكيت کی وجہ سے نہیں، بلکہ محض اللہ کی دی ہوئی روزی اور اس کا احسان ہے ۔غرضيكه جس طرح اس نے تم پر نعمتوں کا سایہ کردیا ، اور تمہیں اپنے بہت سے بندوں پرفضیلت عطافرمائی،تو اسی طرح تم بھی اس کی نعمتوں کا کچھ حصہ اس کی راہ میں خرچ کرکے اس کا شکر بجالاؤ۔ (السعدی:۴۱)
سوال: مذكوره آیت میں“تبعیض”یعنی کسی چیز کے بعض حصہ پر دلالت کرنے والے حرفِ (مِنْ)کو کیوں لایا گیاہے؟
ٱلَّذِينَ يُؤۡمِنُونَ بِٱلۡغَيۡبِ وَيُقِيمُونَ ٱلصَّلَوٰةَ وَمِمَّا رَزَقۡنَٰهُمۡ يُنفِقُونَ ٣
اللہ کے راستے میں خرچ کو ایمان بالغیب کے بعد لانے کی وجہ یہ ہے کہ کشادگئ رزق‘غیبی چیزہے، کیونکہ انسان جب اپنے پورے رزق سے آگاہ نہیں ہے تو یہ بھی غیبي چيز ہے۔اب جب اسے (خرچ کرنے پر)بدلہ ملنے کا یقین ہوگا تو وہ عطیہ ونوازش میں خوب سخاوت برتے گا۔چنانچه جب وہ رزق كي نوازشات اور لوگوں کی امداد واعانت کرے گا تو اسکی خلافت پوری ہوجائے گی، اور اس کا اقتدار مضبوط تر ہوجائے گا ،(کیونکہ قیادت کے لیے سخاوت چاہئے)۔ اور اب اس کے لئے پہلے سے کہیں اعلیٰ اورکامل رزق کا دروازہ کھل جائیگا۔(البقاعی:۱؍۳۰)
سوال:اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کو ایمان بالغیب کے بعد لانے کی وجہ کیا ہے؟
وَبِٱلۡأٓخِرَةِ هُمۡ يُوقِنُونَ
یقین ،علم کا سب سے اونچا مقام ہے۔یقین اسے کہتے ہیں جس میں کسی بھی اعتبار سے شک كي گنجائش نہ ہو۔(ابن عطیہ:۱؍۸۶)
سوال:آخرت کا علم جس قدر بڑھتا جائیگا،اسی قدر اس کے لئے عمل میں اضافہ ہوگا۔آیت کی روشنی میں اس بات کی وضاحت کیجئے.