قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے



٣٤ ٣٤


٣٥ ٣٥

ﭿ

٣٦ ٣٦


٣٧ ٣٧


٣٨ ٣٨


٣٩ ٣٩

٤٠ ٤٠
181
سورۃ الأنفال آیات 0 - 34

وَمَا لَهُمۡ أَلَّا يُعَذِّبَهُمُ ٱللَّهُ وَهُمۡ يَصُدُّونَ عَنِ ٱلۡمَسۡجِدِ ٱلۡحَرَامِ وَمَا كَانُوٓاْ أَوۡلِيَآءَهُۥٓۚ إِنۡ أَوۡلِيَآؤُهُۥٓ إِلَّا ٱلۡمُتَّقُونَ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُونَ ٣٤

حسن رحمہ اللہ کہتے ہیں: مکہ کے مشرکین کہتے تھے کہ : ہم مسجد حرام کے متولی ہیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ فرماکران کی بات کو غلط ٹھہرایا: (وما كانوا أولياءه) وہ مشرکین اس کے متولی نہیں ہیں (إن أولياؤه) یعنی بیت اللہ کے متولی نہیں ہیں (إلا المتقون) مگر وہ لوگ جو ڈرتے اور بچتے ہیں۔مراد ہیں :اہل ایمان جو شرک سے بچتے ہیں،اس سے ہوشیار رہتے ہیں۔ (البغوی: ۲؍ ۲۱۹)
سوال: بیت اللہ کی ولایت یعنی دیکھ بھال اور انتظام کرنے کا حق کس بنیاد پر ملتا ہے؟

سورۃ الأنفال آیات 0 - 35

وَمَا كَانَ صَلَاتُهُمۡ عِندَ ٱلۡبَيۡتِ إِلَّا مُكَآءٗ وَتَصۡدِيَةٗۚ فَذُوقُواْ ٱلۡعَذَابَ بِمَا كُنتُمۡ تَكۡفُرُونَ ٣٥

تالی بجانے ، نغمے گانے ،ڈھول پیٹنے اور بانسری اور ساز میں سُر لگانے اور ان سب کاموں کے لئے جمع ہونے کو دین کی حیثیت دے دینااور اللہ کی طرف جانے کا راستہ اور اس سے نزدیک ہونے کا ذریعہ بنالینا۔حقیقت میں یہ ایسی چیز ہے جس کا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ نہ مسلمانوں کے نبی محمد ﷺ نے اسے شریعت کا حصہ بتایا ہے ،نہ ہی آپ ﷺ کے خلفاء راشدین میں سے کسی نے اسے کیا اور شرعی کام سمجھا اور نہ ہی مسلمانوں کے کسی بھی امام نے اسے اچھا سمجھا ہے بلکہ رسول اللہ ﷺ کے مبارک زمانے میں دین کو ماننے والا کوئی بھی شخص اس کام کو نہیں کرتا تھا ،نہ صحابہ کرام کے زمانے میں کوئی دیندار آدمی اسے کرتا تھا،نہ ہی بھلائی کے ساتھ صحابہ کی پیروی کرنے والے تابعین کے زمانے میں اور نہ ہی تبع تابعین کے زمانے میں کوئی اسے دین اور نیکی سمجھتا تھا ۔ (القاسمی: ۵؍۲۸۹)
سوال:تالی بجانے،گیت گانے اورڈھول پیٹنے کو دین بنالینابدعتوں میں سے ایک بدعت کیوں ہے؟

سورۃ الأنفال آیات 0 - 36

إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ يُنفِقُونَ أَمۡوَٰلَهُمۡ لِيَصُدُّواْ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِۚ فَسَيُنفِقُونَهَا ثُمَّ تَكُونُ عَلَيۡهِمۡ حَسۡرَةٗ ثُمَّ يُغۡلَبُونَۗ وَٱلَّذِينَ كَفَرُوٓاْ إِلَىٰ جَهَنَّمَ يُحۡشَرُونَ ٣٦

کافر اپنے مال ودولت اس مقصد سے خرچ کرتے ہیں تاکہ حق کو باطل ثابت کردیں،باطل کی مدد کریں اوررحمٰن کی وحدانیت مٹ جائے ،اور بت پرستی کادین قائم ہوجائے. (فسينفقونها) اور ابھی یہ لوگ اور بھی خرچ کریں گے۔ یعنی :مال خرچ کرنے کا یہ عمل وہ پھر سے دہرائیں گے ،یہ سلسلہ جاری رکھیں گے اور چونکہ وہ باطل کو مضبوطی سے تھامے ہوئے ہیں اور حق وسچائی سے سخت نفرت رکھتے ہیں اس لئے ا ن کے لئے (باطل کی راہ میں)مال لٹانا آسان ہے لیکن (ثُمَّ تَكُونُ عَلَيۡهِمۡ حَسۡرَةٗ ثُمَّ يُغۡلَبُونَ) پھر یہ خرچ کرنا ان پر حسرت وافسوس کا سبب بن جائیگا۔یعنی: انہیں پچھتاوا ہوگااور ذلت ورسوائی کا دکھ جھیلناپڑیگااور آخر کاروہ مغلوب بھی ہوں گے۔تب انہیں احساس ہوگاکہ ان کا مال برباد ہو گیااور امیدوں پر پانی پھر گیااورآخرت میں انہیں بہت ہی سخت عذاب میں مبتلا بھی کیا جائیگا۔(یعنی باطل کی مدد اور حق کی مخالفت میں مال بھی لٹتا رہا ،خود بھی پٹتے رہے اور پھر ہمیشہ کے بھیانک اور اخروی عذاب میں جھونکے بھی جائیں گے۔) (السعدی: ۳۲۰)
سوال: باطل کے لئے منافقوں اور کافروں کے منصوبے بڑے مضبوط ہوں اور بے تحاشہ روپئے پیسے خرچ کرتے ہوں تب بھی ا ن سب کا انجام کیا ہوگا؟

سورۃ الأنفال آیات 0 - 36

إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ يُنفِقُونَ أَمۡوَٰلَهُمۡ لِيَصُدُّواْ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِۚ فَسَيُنفِقُونَهَا ثُمَّ تَكُونُ عَلَيۡهِمۡ حَسۡرَةٗ ثُمَّ يُغۡلَبُونَۗ وَٱلَّذِينَ كَفَرُوٓاْ إِلَىٰ جَهَنَّمَ يُحۡشَرُونَ ٣٦

پچھتاوے اور افسوس کو مال کی طرف منسوب کرنے کی وجہ یہ ہے کہ مال ودولت کا خرچ کرنا ہی اس حسرت وافسوس کا سبب بناہے۔ (ابن عاشور: ۹؍۳۴۱)
سوال: آیت کریمہ میں افسوس و پچھتاوے کو مال ودولت سے کیوں جوڑا گیاہے؟

سورۃ الأنفال آیات 0 - 38

قُل لِّلَّذِينَ كَفَرُوٓاْ إِن يَنتَهُواْ يُغۡفَرۡ لَهُم مَّا قَدۡ سَلَفَ وَإِن يَعُودُواْ فَقَدۡ مَضَتۡ سُنَّتُ ٱلۡأَوَّلِينَ ٣٨

یعنی: جب وہ ان چیزوں سے باز آجائیں گے جن سے انہیں روکا گیا ہے تو ا ن کے پچھلے گناہ معاف کردیے جائیں گے ۔ (ابن تیمیہ: ۳؍۴۷۴)
سوال: آیت کی مدد سے اس بات کی کچھ تفصیل بیان کیجئے کہ اللہ بندے کی توبہ پسندکرتا ہے؟

سورۃ الأنفال آیات 0 - 39

وَقَٰتِلُوهُمۡ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتۡنَةٞ وَيَكُونَ ٱلدِّينُ كُلُّهُۥ لِلَّهِۚ

دین کے دشمنوں سے لڑنے اور جہاد کرنے کا مقصد ہے کہ: دینِ حق کو مخالفین کی شرارتوں سے بچایا جائے اور اللہ کے اس دین کی حفاظت اور حمایت کی جائے جس کے لئے تمام مخلوقات کو پیداکیا گیا ہے ۔(دینِ حق کے خلاف شرارتوں اور سازشی کاموں کی روک تھام اور اس کی دعوت وتبلیغ کے راستے میں آنے والی رکاوٹوں کو دور کرنے کی یہ لڑائی ۔جسے جہاد کہتے ہیں۔جاری رہے)یہاں تک کہ اللہ کا سچا دین دوسرے تمام ادیان پر غالب ہوجائے۔ (السعدی: ۳۲۱)
سوال: مجاہد فی سبیل اللہ یعنی اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے کی صحیح نیت اور سب سے بڑا مقصد کیا ہوتا ہے؟

سورۃ الأنفال آیات 0 - 40

وَإِن تَوَلَّوۡاْ فَٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّ ٱللَّهَ مَوۡلَىٰكُمۡۚ نِعۡمَ ٱلۡمَوۡلَىٰ وَنِعۡمَ ٱلنَّصِيرُ ٤٠

اب جس کادوست اور مددگار خود اللہ رب العزت ہو تو اسے کسی طرح کا کوئی ڈر خوف نہیں رہتااورجس کا دشمن اور مخالف اللہ عزوجل ہو اسے کوئی عزت اور کوئی حیثیت نہیں مل سکتی اور نہ کوئی اس کا آسرا اور سہارا بن سکتا ہے۔ (السعدی: ۳۲۱)
سوال: ایک مسلمان کا یہ جاننا کہ اللہ اس کا حامی و مددگار ہےتو اس معرفت سے اسے کیا فائدہ ملتا ہے؟