قرآن
ﮔ
ﱁ
ﮔ
ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ
ﭥ ١ ١ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ
ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ
ﭷ ٢ ٢ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ
ﭾ ٣ ٣ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ
ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ٤ ٤ ﮍ ﮎ ﮏ
ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ٥ ٥
ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ
ﮣ ﮤ ٦ ٦ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ
ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ
ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ٧ ٧
ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ٨ ٨
يَسۡـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلۡأَنفَالِۖ قُلِ ٱلۡأَنفَالُ لِلَّهِ وَٱلرَّسُولِۖ فَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَأَصۡلِحُواْ ذَاتَ بَيۡنِكُمۡۖ وَأَطِيعُواْ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥٓ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ ١
(أطيعوا الله ورسوله إن كنتم مؤمنين) اور اللہ اور اس کے رسول ﷺکی اطاعت کرو اگر تم مومن ہو۔
اس فرمان سے اللہ کی مراد یہ ہے کہ مال غنیمت کے بارے میں اللہ اور اس کے رسول ﷺکا فیصلہ مان لو ۔
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یہ آیت ہم اصحابِ بدر یعنی جنگ بدر میں شریک رہنے والے صحابہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے جس وقت مال غنیمت کے بارے میں ہمارے بیچ اختلاف ہوگیا اور اس معاملے میں ہمارے اخلاق کچھ بگڑ گئے تب اللہ تعالیٰ نے اَنْفَال یعنی غنیمت کے مال واسباب کو ہمارے ہاتھوں سے نکال کر رسول اللہ ﷺ کے اختیار میں دے دیا۔پھر آپ ﷺ نے اسے مجاہدین میں برابر تقسیم کردیا ۔ (مسند احمد) چنانچہ اس فیصلے کے بارے میں اللہ سے ڈرنے ،اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرنے اور باہمی تعلقات کو درست رکھنے کا حکم دیا گیا۔ (ابن جُزی: ۱؍ ۳۳۸)
(مالِ غنیمت اس مال کو کہتے ہیں جو کفار اور دشمنان دین سے لڑائی کرکے حاصل ہو ۔أَنْفَال:نَفل کی جمع ہے جس کے معنی ہیں زائد مال ۔کفار کا جو مال بلا مقابلہ مل جائے وہ مال فئی ہے اور جو مقابلے کے بعد ملے وہ مالِ غنیمت ۔مال غنیمت پچھلی امتوں کے لئے حلال نہیں تھا ۔امت محمدیہ کے لئے حلال کردیا گیا)
سوال:آیت میں دیئے گئے احکام میں امت کی تربیت کا نسخہ ہے ۔اسے واضح کیجئے.
إِنَّمَا ٱلۡمُؤۡمِنُونَ ٱلَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ ٱللَّهُ وَجِلَتۡ قُلُوبُهُمۡ
سچے اور پکے مومن کی یہی نشانی ہے کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو اس کا دل دہل جائے یعنی اللہ سے ڈر جائے اور اس کی وجہ سے وہ سب کام کرے جن کا اللہ نے حکم دیا ہے اور ان سب چیزوں سے رک جائے جن سے اللہ نے منع کیا ہے ۔امام سفیان ثوری رحمہ اللہ کہتے ہیں:میں نے سُدّی رحمہ اللہ کو اس آیت کا مطلب بیان کرتے سنا ہے کہ : مومن تو بس وہی شخص ہے کہ جب وہ کوئی گناہ کرنا چاہے اور اس سے کہا جائے کہ اللہ کا خوف کھاؤ ،اس سے ڈر جاؤ، تو اس کا دل لرز جاتا ہے اور دہشت زدہ ہوجاتا ہے ۔ (ابن کثیر: ۲؍۲۷۴)
سوال: اللہ سبحانہ سے دلوں کے ڈرجانے کا کیامطلب ہے؟
وَإِذَا تُلِيَتۡ عَلَيۡهِمۡ ءَايَٰتُهُۥ زَادَتۡهُمۡ إِيمَٰنٗا
اللہ کی آیتوں کو سننے سے ایمان میں زیادتی ہونے کی صورت یہ ہوتی ہے کہ :وہ قرآن کو سمجھنے اور اس پر غور کرنے کے لئے اسے کان لگاکر ،دھیان سے اور پوری یکسوئی اور حضور قلب کے ساتھ سنتے ہیں تو اس وقت ان کا ایمان زیادہ ہو جاتا ہے کیونکہ غور وفکر کرنا دل کا ایک عمل ہے اوریہ بات بھی یقینی ہے کہ یہ عمل ان کے سامنے ایسے معانی اور مطالب بیان کریگا جن سے وہ لاعلم تھے ،یا اس عمل کی وجہ سے انہیں ایسی کئی چیزیں یاد آجائیں گی جنہیں وہ بھول گئے تھے، یا پھر یہ سننا ان کے دلوں میں نیکی اور بھلائی کی رغبت اور اپنے رب کے فضل وکرم کا شوق پیدا کریگا ،یا اس کی سزاؤں سے ڈرنے اور گناہوں سے رک جانے کا ذریعہ بنے گا۔ آیتوں کو سننے کے نتیجے میں حاصل ہونے والی یہ ساری چیزیں ایمان کو بڑھاتی ہیں ۔ (السعدی: ۳۱۵)
سوال:قرآن میں غور وفکرکس طرح آدمی کے ایمان کو بڑھاتا ہے؟
إِنَّمَا ٱلۡمُؤۡمِنُونَ ٱلَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ ٱللَّهُ وَجِلَتۡ قُلُوبُهُمۡ وَإِذَا تُلِيَتۡ عَلَيۡهِمۡ ءَايَٰتُهُۥ زَادَتۡهُمۡ إِيمَٰنٗا وَعَلَىٰ رَبِّهِمۡ يَتَوَكَّلُونَ ٢ ٱلَّذِينَ يُقِيمُونَ ٱلصَّلَوٰةَ وَمِمَّا رَزَقۡنَٰهُمۡ يُنفِقُونَ ٣
اللہ تعالیٰ نے آیت میں پہلے دل کے اعمال کا ذکر کیا ہے ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ دل کے اعمال ،جسمانی اعضاء وجوارح کے اعمال کی بنیاد ہیں اور ان سے زیادہ فضیلت والے ہیں۔ (السعدی: ۳۱۵)
سوال: اللہ تعالیٰ نے دل کے اعمال کو اعضاء وجوارح کے اعمال سے پہلے کیوں ذکر فرمایا ہے؟
ٱلَّذِينَ يُقِيمُونَ ٱلصَّلَوٰةَ وَمِمَّا رَزَقۡنَٰهُمۡ يُنفِقُونَ ٣
(يقيمون) قائم کرتے ہیں،پابندی کرتے ہیں۔(ينفقون)خرچ کرتے ہیں ۔دونوں فعل مضارع ہیں ۔فعل مضارع میں حال اور مستقبل کا زمانہ ہوتا ہے اور اس میں عمل کوباربار کرنے یا جاری رکھنے کا معنی بھی پایا جاتا ہے۔
آیت میں جو دونوں فعل “فعل مضارع” لائے گئے ہیں تو اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ (مومن ) ان کاموں کو باربار دہراتے ہیں۔ایک مرتبہ (صلاۃ اور زکاۃ کو ادا) کرلینے کے بعد پھر (جب ان کا وقت ہوتا ہے) نئے سرے سے کرتے ہیں۔ یعنی یہ عمل کرتے ہی رہتے ہیں ۔ (ابن عاشور: ۹؍۲۶۰)
سوال: آیت میں (يقيمون)اور(ينفقون) دونوں فعل مضارع کیوں لائے گئے ہیں؟
إِنَّمَا ٱلۡمُؤۡمِنُونَ ٱلَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ ٱللَّهُ وَجِلَتۡ قُلُوبُهُمۡ وَإِذَا تُلِيَتۡ عَلَيۡهِمۡ ءَايَٰتُهُۥ زَادَتۡهُمۡ إِيمَٰنٗا وَعَلَىٰ رَبِّهِمۡ يَتَوَكَّلُونَ ٢ ٱلَّذِينَ يُقِيمُونَ ٱلصَّلَوٰةَ وَمِمَّا رَزَقۡنَٰهُمۡ يُنفِقُونَ ٣ أُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡمُؤۡمِنُونَ حَقّٗاۚ لَّهُمۡ دَرَجَٰتٌ عِندَ رَبِّهِمۡ وَمَغۡفِرَةٞ وَرِزۡقٞ كَرِيمٞ ٤
(أولئك) یہی لوگ جو اِن آیتوں میں ذکر کردہ پانچ صفات سے متصف ہیں (هم المؤمنون حقًا) پکے اور سچے مومن ہیں۔ (لهم درجات عند ربهم) ان کے لئے ان کے رب کے پاس درجات ہیں۔ یعنی بلند مقامات ،اونچے مرتبے ہیں جو جنت میں الگ الگ اونچائی اور بلندی والے منازل ہیں۔اور ان کے لئے اس سے پہلے (مغفرة) پوری بخشش ہے ۔ (الجزائری: ۲؍ ۲۸۴)
سوال: آیتوں نے سچے مومنین کی صفات بتائی ہیں ۔انہیں مختصراً بیان کیجئے.
وَإِذۡ يَعِدُكُمُ ٱللَّهُ إِحۡدَى ٱلطَّآئِفَتَيۡنِ أَنَّهَا لَكُمۡ وَتَوَدُّونَ أَنَّ غَيۡرَ ذَاتِ ٱلشَّوۡكَةِ تَكُونُ لَكُمۡ وَيُرِيدُ ٱللَّهُ أَن يُحِقَّ ٱلۡحَقَّ بِكَلِمَٰتِهِۦ وَيَقۡطَعَ دَابِرَ ٱلۡكَٰفِرِينَ ٧
اللہ تعالیٰ نے مومنوں سے وعدہ کیا تھا کہ دشمنوں کی دوجماعتوں میں سے ایک جماعت تمہارے ہاتھ ضرور آئیگی یا تو تجارتی قافلے پر تمہارا قبضہ ہوگا۔یا پھر مکہ والوں کی فوج پر تم کو فتح اور غلبہ ملے گا۔تو مسلمانوں کو قافلہ پر قبضہ کرنا پسند تھا۔ اس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ مسلمانوں کے پاس ضروری تیاری نہیں تھی، جنگ کے اسباب بہت کم تھے اور یہ بھی وجہ تھی کہ قافلہ “ ذَاتِ الشَّوْكَةِ ” نہیں تھا یعنی نہ ان کی تعداد زیادہ تھی اور نہ ان کے پاس ہتھیار اور جنگی سامان تھے،وہ غیر مسلح اور بے طاقت تھے۔لیکن اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لئے جو چیز پسند کی اور جو چاہا وہ مسلمانوں کی پسند سے بہت بڑی اور اونچی چیزتھی ۔اللہ نے یہ ارادہ فرمایا کہ اہل ایمان اس بڑی فوج پر فتح اور کامیابی حاصل کریں جس میں مشرکین کے سردار وسرغنہ اور ان کے بہادر مرد میدان تھے (وَيُرِيدُ اللَّهُ أَن يُحِقَّ الحَقَّ بِكَلِمَاتِهِ) اور اللہ یہ چاہتا تھا کہ اپنے کلمات یعنی حکم کے ذریعہ حق کو ثابت کر دکھائے۔ اسی لئے اللہ نے چاہا کہ اہلِ حق کی مدد کرے (وَيَقطَعَ دَابِرَ الكَافِرِينَ) اور کافروں کی جڑ کاٹ کر رکھ دے۔ یعنی :اہلِ باطل کو جڑ سے اکھاڑ دے ،ان کا صفایاکردے اور اپنے بندوں کوحق کی مدد کرنے کا ایسا منظر دکھائے جس کا ان کے دل میں خیال تک نہ گذرا ہو۔ (السعدی: ۳۱۶)
سوال: جب اللہ کا اراد ہ اور تقدیر کا فیصلہ بندے کی خواہش اور دلی چاہت سے ہٹ کر ہو تو اس وقت بندے کو کیا سمجھنا چاہئے ؟