قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے


١٧١ ١٧١



ﭿ ١٧٢ ١٧٢


١٧٣ ١٧٣

١٧٤ ١٧٤

١٧٥ ١٧٥




١٧٦ ١٧٦

١٧٧ ١٧٧

ﯿ ١٧٨ ١٧٨
173
سورۃ الأعراف آیات 0 - 173

أَوۡ تَقُولُوٓاْ إِنَّمَآ أَشۡرَكَ ءَابَآؤُنَا مِن قَبۡلُ وَكُنَّا ذُرِّيَّةٗ مِّنۢ بَعۡدِهِمۡۖ أَفَتُهۡلِكُنَا بِمَا فَعَلَ ٱلۡمُبۡطِلُونَ ١٧٣

یقیناًاللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کی فطرت میں ایسی صلاحیت ڈال رکھی ہے جو تمہیں بتاتی ہے کہ تمہارے باپ دادا کے پاس جو کچھ تھا وہ باطل اور ناحق ہے ۔حق وہ ہے جسے اللہ کے انبیاء لے کر آئے ۔اور انبیاء کا لایا ہوا حق باپ دادا کے طور طریقوں کا مقابلہ کرتا ہے اور اس پر غالب آجاتاہے ۔ہاں،کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ بندے کے سامنے اس کے گمراہ باپ دادا کے اقوال اور ان کے غلط مذاہب یعنی فاسد افکار ونظریات اس طرح پیش ہوتے ہیں کہ وہ انہیں حق اور سچ سمجھ بیٹھتا ہے ۔اس غلط فہمی کی وجہ صرف یہ ہوتی ہے کہ وہ اللہ کی کھلی حجتوں وثبوت اور صاف دلیلوں سے منہ موڑ لیتا ہے ۔کائنات میں اور خود اس کی ذات میں موجودنشانیوں سے آنکھیں موند لیتا ہے چنانچہ حق کو ثابت کرنے والی ان دلیلوں اور نشانیوں سے اس کا اعراض کرنا اور باطل پرستوں کے اقوال اور خیالات پر توجہ دینا، اسے ایسی حالت میں پہنچادیتا ہے جس میں وہ باطل کو حق پر ترجیح دینے لگتا ہے ۔ (السعدی: ۳۰۸)
سوال: بعض لوگ اپنے باپ دادا کی آراء یعنی افکار وخیالات کی اتباع کرتے ہیں اور اس کے مقابل رسولوں کی لائی ہوئی تعلیمات کو چھوڑ دیتے ہیں۔کیوں؟

سورۃ الأعراف آیات 0 - 175

وَٱتۡلُ عَلَيۡهِمۡ نَبَأَ ٱلَّذِيٓ ءَاتَيۡنَٰهُ ءَايَٰتِنَا فَٱنسَلَخَ مِنۡهَا فَأَتۡبَعَهُ ٱلشَّيۡطَٰنُ فَكَانَ مِنَ ٱلۡغَاوِينَ ١٧٥

وہ اللہ کی آیتوں کا علم رکھنے والوں کی حقیقی صفت سے خالی ہوگیا۔ اس لئے کہ آیاتِ الٰہی کا علم آدمی کو اونچے اخلاق اور اچھے اعمال والا بنادیتا ہے ۔اسے اٹھاکر بلند ترین مقام تک پہنچادیتاہے لیکن اس شخص نے اللہ کی کتاب کو پس پشت ڈال دیا ،اپنے علم کی کوئی پرواہ نہیں کی اور اللہ کی کتاب جن اخلاق کو اپنانے کا حکم دیتی ہے، ان سے اپنا دامن جھٹک لیااور اپنی ذات وشخصیت سے ان اخلاقی خوبیوں کو اس طرح اتار پھینکا جس طرح جسم سے لباس اتارا جاتا ہے ۔اب جب وہ اللہ کی آیات وتعلیمات سے نکل گیا تو شیطان اس کے پیچھے لگ گیا۔ یعنی جب وہ محفوظ قلعے اور مضبوط پناہ گاہ سے نکل پڑا تو شیطان اس پرحاوی ہوگیا ،اس طرح وہ ‘‘اسفل سافلین’’ یعنی سب سے زیادہ پست اور نچلے لوگوں میں جاپہنچااور وہ اپنے بلند ترین مقام سے گرتا ہوا انتہائی پستی میں جاپڑا۔ پھر شیطان نے اسے گناہوں پرخوب خوب اکسایا (فَكانَ مِنَ الغَاوِينَ) نتیجہ یہ نکلا کہ وہ گمراہوں میں سے ہوگیا۔ جبکہ پہلے وہ ہدایت پر چلنے والا بھی تھا اور چلانے والابھی ۔ (السعدی: ۳۰۹)
سوال: اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی کتاب کو پڑھ لینے اور اس کی تعلیمات کو جان لینے کے بعد اسے چھوڑدینے اور عمل نہ کرنے میں کس بات کا خطرہ ہے؟

سورۃ الأعراف آیات 0 - 175

وَٱتۡلُ عَلَيۡهِمۡ نَبَأَ ٱلَّذِيٓ ءَاتَيۡنَٰهُ ءَايَٰتِنَا فَٱنسَلَخَ مِنۡهَا فَأَتۡبَعَهُ ٱلشَّيۡطَٰنُ فَكَانَ مِنَ ٱلۡغَاوِينَ ١٧٥

جب اس نے حق کی مخالفت کی اور اللہ کی دی ہوئی ہدایت پر عمل نہیں کیا تو نتیجہ میں اس کے دل میں شیطانی تاریکی پیدا ہوگئی ۔اس تاریکی نے شیطان کو فائدہ اٹھانے کا موقع دے دیا اور اس کا کام آسان کردیا ۔چنانچہ شیطان کا زور اور بس چلنے لگا پھر وہ لگاتار اسے گمراہ کرنے میں لگ گیا ۔ معلوم ہوا کہ اللہ کی آیتوں کے دائرے سے باہر نکل جانا شیطانی وسوسے کا نتیجہ ہے ۔جب آدمی وسوسے کے پیچھے چلتا ہے تو وہ خود ہی اپنی باگ ڈورشیطان کے ہاتھ میں دے دیتا ہے ۔ تب شیطان اس پر پوری طرح حاوی ہوکر اپنا تابع بنالیتا ہے اور اسے لگاتار گمراہی میں ڈھکیلتا رہتاہے ۔اسی بات کو آیت کریمہ میں یوں کہا گیا ہے :
(فَأَتۡبَعَهُ ٱلشَّيۡطَٰنُ) تو شیطان اس کے پیچھے لگ گیا۔ اس کے نتیجہ میں وہ گمراہ لوگوں کے گروہ میں شامل ہوگیا ۔ایسے گمراہ لوگ جو گمراہی میں کامل اور پختہ ہیں اور پورے پورے نافرمان ہیں ۔ (ابن عاشور: ۹؍۱۷۶)
سوال: شیطانی وسوسوں کی فرمانبرداری کرنے میں کیا خطرہ ہے ؟

سورۃ الأعراف آیات 0 - 176

وَٱتۡلُ عَلَيۡهِمۡ نَبَأَ ٱلَّذِيٓ ءَاتَيۡنَٰهُ ءَايَٰتِنَا فَٱنسَلَخَ مِنۡهَا فَأَتۡبَعَهُ ٱلشَّيۡطَٰنُ فَكَانَ مِنَ ٱلۡغَاوِينَ ١٧٥ وَلَوۡ شِئۡنَا لَرَفَعۡنَٰهُ بِهَا وَلَٰكِنَّهُۥٓ أَخۡلَدَ إِلَى ٱلۡأَرۡضِ وَٱتَّبَعَ هَوَىٰهُۚ

ان آیتوں میں علم پر عمل کرنے کی رغبت دلائی گئی ہے کہ علم پر عمل کرنے سے بندے کو اللہ کی طرف سے بلندی اور اونچی شان ملتی ہے اور شیطان سے حفاظت اور بچاؤبھی حاصل ہوتا ہے ،ساتھ ہی علم پر عمل نہ کرنے سے ڈرایا بھی گیا ہے کہ علم کے مطابق عمل نہ کرکے بندہ بلندیوں سے اتر کر نیچے درجے یعنی مقام اسفل سافلین تک جاپہنچتا ہے اور اپنے اوپر شیطان کومسلط کرلیتا ہے ۔
آیت میں یہ تنبیہ بھی ہے کہ خواہشاتِ نفس کی پیروی کرنا اور شہوتوں کی دھن میں لگے رہنا اللہ کی مدداور رحمت سے محرومی کی وجہ بنتا ہے۔(السعدی: ۳۰۸)
سوال: مذکورہ آیتوں کے تناظر میں علم پر عمل کرنے کی کیا اہمیت ہے؟

سورۃ الأعراف آیات 0 - 176

وَلَوۡ شِئۡنَا لَرَفَعۡنَٰهُ بِهَا وَلَٰكِنَّهُۥٓ أَخۡلَدَ إِلَى ٱلۡأَرۡضِ وَٱتَّبَعَ هَوَىٰهُۚ

اللہ تعالیٰ کا ارشاد: (وَلَو شِئنَا لَرَفَعناهُ بِهَا)اور اگر ہم چاہتے تو ان نشانیوں کے ذریعہ اس کا مرتبہ بلند کردیتے۔
یہ فرمان اس بات کا فائدہ دیتا ہے کہ اس کو دی گئی نشانیاں ایسی شان والی تھیں جو اس کی ہدایت کا اور اسے پاک اور نیک بنانے کا سبب بن سکتی تھیں۔شرط یہ تھی کہ : اللہ تعالیٰ کی مشیئت اور چاہت ہوتی کہ اسے توفیق دے اور شیطان کے مکروفریب اور فتنے سے بچائے ۔اگر اللہ کی مشيئت اور توفیق ہوتی تو وہ نشانیوں کے دائرے اور جامے سے باہر نہ نکلتا۔یہ بات، ہدایت اور نیکی کی توفیق پانے والوں کے لئے عبرت اور سبق ہے کہ وہ اس بات کو اچھی طرح دل ودماغ میں بٹھالیں کہ انہیں خیر کی جو توفیق ملی ہے وہ ان پر اللہ کا فضل اور احسان ہے ۔
غرض آیت کا معنی یہ ہوا کہ: اگر ہم چاہتے تو وہ ہماری دی ہوئی آیتوں پر عمل کرنے میں بڑھتا چلاجاتا ۔تب اللہ اس کے علم کے ذریعہ اس کے درجے اور مرتبے کوبلند کردیتا۔ (ابن عاشور: ۹؍۱۷۶)
سوال: قرآن کریم کی آیتیں ہدایت کا سبب ہیں ۔اسے واضح کیجئے.

سورۃ الأعراف آیات 0 - 176

فَمَثَلُهُۥ كَمَثَلِ ٱلۡكَلۡبِ إِن تَحۡمِلۡ عَلَيۡهِ يَلۡهَثۡ أَوۡ تَتۡرُكۡهُ يَلۡهَثۚ ذَّٰلِكَ مَثَلُ ٱلۡقَوۡمِ ٱلَّذِينَ كَذَّبُواْ بِـَٔايَٰتِنَاۚ

قتيبي رحمه اللہ کہتے ہیں: ہر جاندار جو ہانپتا ہے اس کے ہانپنے کی وجہ یا تو تھکن ہوتی ہے یا پھر پیاس،لیکن کتے کا معاملہ مختلف ہے کیونکہ وہ تھکاماندہ ہو تو بھی ہانپتا ہے ،آرام کی حالت میں ہو تب بھی۔ اور پیاس کی حالت میں بھی ہانپتا اور زبان لٹکائے رہتا ہے ۔غرض ہر حال میں ہاپنتا رہتا ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے کتے کی اس کیفیت سے اس شخص کی مثال بیان فرمائی ہے جو اس کی آیتوں کو جھٹلاتا ہے ،چنانچہ فرمایا:اگر تم اسے سمجھاؤ تب بھی وہ گمراہ رہے گا اور اگرچھوڑ دوتب بھی گمراہ ہوگا۔ بالکل کتے کی طرح کہ اسے ڈانٹو دھتکارویا اس کے حال پر یوں ہی چھوڑدو ہر حال میں ہانپتا رہے گا زبان باہر نکال کر رال ٹپکاتا رہیگا ۔ (البغوی: ۲؍ ۱۷۵)
سوال: جس شخص کو وعظ ونصیحت کی جائے تب بھی وہ نصیحت نہ مانے ۔ایسے شخص کو کتے سے تشبیہ کیوں دی گئی ہے؟

سورۃ الأعراف آیات 0 - 178

مَن يَهۡدِ ٱللَّهُ فَهُوَ ٱلۡمُهۡتَدِيۖ وَمَن يُضۡلِلۡ فَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡخَٰسِرُونَ ١٧٨

آیت میں ہدایت یافتہ لوگوں کے حال کا علانیہ بیان ہے۔ آیت میں مسلمانوں کواس بات کی تلقین بھی ہے کہ ہدایت مانگنے کے لئے صرف اللہ کی طرف رخ اور توجہ کریں ،نیز جن چیزوں اور جگہوں سے پھسل کر لوگ گمراہی میں جاگرتے ہیں ،ایسی پھسلن کے مقامات سے بچنے کا سوال بھی اللہ کی بارگاہ میں کریں ۔ (ابن عاشور: ۹؍۱۸۰)
سوال:آیت نے اس بات کی رہنمائی کی ہے کہ ہدایت طلب کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ کرنی چاہئے ۔آیت سے یہ بات کیسے معلوم ہوتی ہے؟