قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے



٨٨ ٨٨

ﭿ

٨٩ ٨٩


٩٠ ٩٠
٩١ ٩١

٩٢ ٩٢


٩٣ ٩٣

٩٤ ٩٤

ﯿ
٩٥ ٩٥
162
سورۃ الأعراف آیات 0 - 88

قَالَ ٱلۡمَلَأُ ٱلَّذِينَ ٱسۡتَكۡبَرُواْ مِن قَوۡمِهِۦ

اُن لوگوں سے مراد شعیب علیہ السلام کی قوم کے اشراف اور بڑے لوگ ہیں، جو اپنی خواہشاتِ نفس کے پیچھے پڑے ہوئے تھے اور اپنی لذتوں میں مست تھے پھر جب ان کے پاس حق آگیا اور انہوں نے یہ دیکھا کہ حق ان کی خواہشاتِ نفس کے خلاف ہے تو انہوں نے اس سچائی کو ٹھکرادیا اور اس کے سامنے اکڑ دکھانے لگے ۔ (السعدی: ۲۹۶)
سوال: نعمت کے تعلق سے دھوکے میں پڑجانا کس طرح کفر تک پہنچا دیتا ہے؟

سورۃ الأعراف آیات 0 - 88

قَالَ ٱلۡمَلَأُ ٱلَّذِينَ ٱسۡتَكۡبَرُواْ مِن قَوۡمِهِۦ لَنُخۡرِجَنَّكَ يَٰشُعَيۡبُ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ مَعَكَ مِن قَرۡيَتِنَآ أَوۡ لَتَعُودُنَّ فِي مِلَّتِنَاۚ قَالَ أَوَلَوۡ كُنَّا كَٰرِهِينَ ٨٨

دینداری کا مقصد ہے:نفس کو پاک بنانا،حق کی فوج میں اضافہ کرنااور حسبِ ضرورت بہتری لانا ہے؛ مگر زور زبردستی اور جبرًادین کو اپنانے سے دینداری کے یہ مقاصد حاصل نہیں ہوتے۔ (ابن عاشور: ۹؍۷)
سوال:زبردستی کی دینداری سے اس کے ممکنہ پھل اور فائدے نہیں ملتے ۔آیت کی مدد سے اس بات کو بیان کیجئے.

سورۃ الأعراف آیات 0 - 91

فَأَخَذَتۡهُمُ ٱلرَّجۡفَةُ

قومِ شعیب علیہ السلام کے بارے میں اللہ نے خبر دی کہ انہیں ایک زلزلے نے پکڑ لیا۔یہ عذاب ان کی اپنی بدعملی کے جیسا ہی تھا کہ انہوں نے حضرت شعیب علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کو دہلا رکھا تھا اور انہیں بستی سے نکال باہر کرنے اور جلا وطن کردینے کی دھمکیاں دیتے رہے تھے ۔(ابن کثیر: ۲؍ ۲۲۳)
سوال: قومِ مدین پر زلزلہ کا عذاب اور شعیب علیہ السلام کے ساتھ اس قوم کے رویہ کے درمیان کیسی مناسبت ہے؟

سورۃ الأعراف آیات 0 - 92

ٱلَّذِينَ كَذَّبُواْ شُعَيۡبٗا كَأَن لَّمۡ يَغۡنَوۡاْ فِيهَاۚ

یعنی:شعیب علیہ السلام کی قوم کے منکرین کو جب سزا مل گئی اور ان پر عذاب آچکا تو منظر یہ تھا کہ جیسے وہ لوگ اُس بستی میں کبھی بسے ہی نہیں تھے جس بستی سے اللہ کے نبی اور ان کے ساتھیو ں کو نکال دینا چاہتے تھے ۔اللہ نے خود انہی کو وہاں سے صاف کردیااور ان کی آبادی کو برباد کردیا۔ (ابن کثیر: ۲؍ ۲۲۳)
سوال:اس آیت کی روشنی میں اس قاعدے پر روشنی ڈالئے:“جزاء عمل کی جنس سے ہوتی ہے”یعنی جیسی کرنی ویسی بھرنی.

سورۃ الأعراف آیات 0 - 93

فَكَيۡفَ ءَاسَىٰ عَلَىٰ قَوۡمٖ كَٰفِرِينَ ٩٣

یعنی: کیسے غم کھاؤں اور کیوں رنج کروں؟ (القرطبی: ۹؍۹۸۷)
سوال: کیا کافروں کی ہلاکت پر افسوس کرنا مومنوں کی شان ہے؟

سورۃ الأعراف آیات 0 - 94

وَمَآ أَرۡسَلۡنَا فِي قَرۡيَةٖ مِّن نَّبِيٍّ إِلَّآ أَخَذۡنَآ أَهۡلَهَا بِٱلۡبَأۡسَآءِ وَٱلضَّرَّآءِ لَعَلَّهُمۡ يَضَّرَّعُونَ ٩٤

یہ آیت اور قرآن کی دوسری آیتیں اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں ،نیز ادیان کی تاریخ بھی گواہی دیتی ہے کہ رسولوں کو بھیجنے کے لئے شہروں کو خاص کیا گیا تھا ۔دیہاتوں اور دور درازکی بستیوں ،قبیلو ں میں انہیں مبعوث نہیں کیا جاتا تھا ۔یعنی ان کا ٹھکانہ اور قیام شہروں میں ہوتا تھا ،دیہاتوں میں نہیں ۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبروں کو بھیجنے میں اللہ تعالیٰ کامقصد یہ تھا کہ شہروں میں بسنے والوں کے اندر ،مختلف قسم کے لوگوں کے ملنے جلنے اور اکٹھا رہنے کی وجہ سے جوخرابیاں داخل ہوجاتی ہیں اور باہمی اجتماع کے سبب جو بگاڑ پیدا ہوجاتا ہے،اس میں سدھار اوربہتری لانے کی تعلیم دی جائے جبکہ دیہاتوں میں رہنے والے بھی شہروں کی طرف رخ کرنے سے رک نہیں سکتے۔انہیں اپنی رہائشی اور شہری ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے اپنی بستی کے قریبی شہروں میں جانے اور ٹھہرنے کے سواچارہ نہیں ۔چاروناچار ان دیہاتیوں کو قریبی شہروں میں آنا جانا پڑتا ہے ۔ لہٰذا جب پیغمبر شہروں میں آتے تو اردگرد کی دیہاتی بستیاں بھی پیغمبر اور ان کی تعلیمات سے جڑ جاتیں۔ (ابن عاشور: ۹؍۱۶)
سوال: رسولوں کودیہات والوں کے بجائے شہروالوں کی طرف بھیجنے میں اللہ کی حکمت بیان کیجئے؟

سورۃ الأعراف آیات 0 - 95

ثُمَّ بَدَّلۡنَا مَكَانَ ٱلسَّيِّئَةِ ٱلۡحَسَنَةَ حَتَّىٰ عَفَواْ وَّقَالُواْ قَدۡ مَسَّ ءَابَآءَنَا ٱلضَّرَّآءُ وَٱلسَّرَّآءُ فَأَخَذۡنَٰهُم بَغۡتَةٗ وَهُمۡ لَا يَشۡعُرُونَ ٩٥

(ثُمَّ بَدَّلۡنَا مَكَانَ ٱلسَّيِّئَةِ ٱلۡحَسَنَةَ) پھر ہم نے ان کی بدحالی کو خوشحالی سے اورمصیبت کو راحت سے بدل دیا۔
یعنی: سختی اور تکلیف ونقصان کی حالتوں کو ہم نے نعمتوں کی خوشحالی سے بدل دیاتاکہ دونوں حالتوں میں ان کا امتحان لیں ۔
(حَتَّىٰ عَفَواْ)یہاں تک کہ وہ خوب پھلے پھولے۔ یعنی ان کی تعداد خوب بڑھ گئی ،مال ودولت بہت زیادہ ہوگئے اور جان ومال میں خوب ترقی مل گئی۔
( وَّقَالُواْ قَدۡ مَسَّ ءَابَآءَنَا ٱلضَّرَّآءُ وَٱلسَّرَّآءُ ) اور کہنے لگے: یہ اچھے اور برے دن تو ہمارے آباء واجداد پر بھی آتے رہے ہیں۔ یعنی مصیبت وراحت کی یہ دھوپ چھاؤں تو ہمارے باپ دادا بھی جھیلتے رہے ہیں ،اس سے ان کا کوئی نقصان نہیں ہوا۔یہ تو بس اتفاق ہے ،کسی امتحان کے مقصد سے نہیں ہے۔ (ابن جُزی: ۱؍ ۳۶۰)
سوال:اللہ تعالیٰ لوگوں کو خیراور شراچھی اور بری حالت کے ذریعہ آزماتاہے ۔کیا وجہ ہے کہ لوگ اس حقیقت سے نصیحت اور سبق نہیں لیتے؟اورکیا آج کے زمانے کے کچھ حالات و واقعات پر یہ رویہ فٹ آتا ہے؟