قرآن
ﮎ
ﰹ
ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ
ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ
ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ
ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ
ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ
ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ
ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ
ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ١٠٢ ١٠٢ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ
ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ١٠٣ ١٠٣
ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ
ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ١٠٤ ١٠٤ ﯡ ﯢ
ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ
ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ
ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ١٠٥ ١٠٥
وَمَا كَفَرَ سُلَيۡمَٰنُ وَلَٰكِنَّ ٱلشَّيَٰطِينَ كَفَرُواْ يُعَلِّمُونَ ٱلنَّاسَ ٱلسِّحۡرَ
جادو کے حصول میں شیطان کا تقرب حاصل کرکے مدد لی جاتی ہے اور شیطان کا تقرب برائیوں کے ارتکاب سے حاصل ہوتا ہے، چاہے وہ برائی زبان سے ادا کی جانے والی ہو جیسے جھاڑپھونک کے ایسے منتر جن میں شرکیہ الفاظ ہوں اورشیطان کی تعریف اور تابعداری کا اظہارہو،چاہے وہ برائی عملی ہو مثلاً ستاروں کی عبادت وپرستش کرنا،گناہ پر گناہ کرتے رہنا اور دوسرے نافرمانی وبدکاری کے کاموں کو انجام دینا۔(الألوسی:۱؍۳۳۸)
سوال:جادو،شرک وکفر کے بغیرنہیں سیکھا جاسکتا۔آیت کی روشنی میں اس کی وضاحت کیجئے.
وَمَا كَفَرَ سُلَيۡمَٰنُ وَلَٰكِنَّ ٱلشَّيَٰطِينَ كَفَرُواْ يُعَلِّمُونَ ٱلنَّاسَ ٱلسِّحۡرَ
جس طرح فرشتے صرف ان نیک لوگوں کی مدد کرتے ہیں جو ہمیشہ عبادت میں لگے رہنے میں اور قول وفعل کے ذریعہ اللہ کی قربت حاصل کرنے میں ان (فرشتوں) کی مشابہت اختیار کرتے ہیں۔ٹھیک اسی طرح شیاطین بھی صرف ایسے شریر اور برے لوگوں کی مدد کرتے ہیں جو قول،فعل اور اعتقاد کی خباثت اور گندگیوں میں ان کے ہم مثل ہوتے ہیں اور انہی بری صفات کی وجہ سے جادوگر،نبی اور ولی سے الگ ہوجاتا ہے۔(الألوسی:۱؍۳۳۸)
سوال:فرشتوں اورشیاطین میں سے ہر ایک کا انسان سے کیا تعلق ہے؟
وَمَا هُم بِضَآرِّينَ بِهِۦ مِنۡ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذۡنِ ٱللَّهِۚ
اس آیت اوراس جیسی دیگر آیات سے معلوم ہوتاہے کہ اسباب ووسائل کی قوتِ تاثیر خواہ کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو وہ (بہرحال)قضاوقدر(تقدیر اور اللہ کے فیصلے) کے تابع ہوتے ہیں۔ان کی تاثیر بذات خود مستقل نہیں ہوتی۔(یعنی ان کی تاثیر اللہ کے حکم پر منحصر ہوتی ہے۔)(السعدی:ص؍۶۱)
سوال:اسباب کے متعلق صحیح نظر یہکیا ہے جو ایک مسلمان کو اختیار کرنا چاہئے؟
وَيَتَعَلَّمُونَ مَا يَضُرُّهُمۡ وَلَا يَنفَعُهُمۡۚ
وہ لوگ ان دونوں(ہاروت وماروت)سے جادوسیکھتے تھے،جو اُن کے دین کے لئے نقصان دہ تھا اورجو آخرت میں بھی ان کے لئے سودمند نہ ہوگا۔(الطبری:۲؍۴۵۰)
سوال:آیت میں جس فائدہ کی نفی کی گئی ہے،اس سے کیا مرادہے؟
وَلَقَدۡ عَلِمُواْ لَمَنِ ٱشۡتَرَىٰهُ مَا لَهُۥ فِي ٱلۡأٓخِرَةِ مِنۡ خَلَٰقٖۚ وَلَبِئۡسَ مَا شَرَوۡاْ بِهِۦٓ أَنفُسَهُمۡۚ لَوۡ كَانُواْ يَعۡلَمُونَ ١٠٢
جادونہ آخرت میں فائدہ دے گااور نہ وہ اللہ سے قریب کرےگا ،اور یقیناًجو اسے حاصل کرتاہے ،آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہوگا،اس لئے کہ اس کی بنیاد شرک،جھوٹ اور ظلم پر ہے ۔جادوگرکا مقصد ظلم کرنااور بڑے بڑے قبیح گناہ اور فواحش کا ارتکاب ہوتا ہے۔(ابن تیمیہ:۲؍۲۸۷)
سوال:جادونفع بخش اور اللہ سے قربت کا ذریعہ کیوں نہیں ہے؟
وَلَوۡ أَنَّهُمۡ ءَامَنُواْ وَٱتَّقَوۡاْ لَمَثُوبَةٞ مِّنۡ عِندِ ٱللَّهِ خَيۡرٞۚ لَّوۡ كَانُواْ يَعۡلَمُونَ ١٠٣
(لَمَثُوبَةٌ مِّنۡ عِندِ ٱللَّهِ) کہا (یعنی مَثُوبَةٌ بمعنی ثواب؍نکرہ لفظ کہا)،لَمَثُوبَةٌ الله(اضافت کےساتھ )نہیں کہا ؛ حالانکہ یہ لفظ مختصر ہے، کیونکہ نکرہ کا استعمال اس چیز کے کم ہونے کا پتہ دیتا ہے، اور اس سے یہ فائدہ حاصل ہوتا ہے کہ ہمیشہ رہنے والی آخرت میں اللہ کے ثواب کی معمولی مقدار فناہونے والی دنیا میں اعمال کے ڈھیر سارے بدلے سے بہتر ہے، جبکہ اللہ کی طرف سے ملنے والا ثواب(کم نہیں بلکہ) بہت زیادہ اور دائمی ہے۔ (الألوسی:۱؍۳۴۷)
سوال:لفظ(مَثُوبَةٌ)آیت میں نکرہ کیوں وارد ہوا، اضافت کے ساتھ(لَمَثُوبَةٌ الله) کیوں نہیں آیا؟
يٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَقُولُواْ رَٰعِنَا وَقُولُواْ ٱنظُرۡنَا وَٱسۡمَعُواْ
مسلمان دینی امور سیکھنے کے وقت رسول اللہﷺ سے مخاطب ہوتے تو (رَٰعِنَا)کہتے تھے یعنی ہمارے حالات کی رعایت کیجئے ۔ ظاہر ہے وہ اس سے صحیح معنی مراد لیتے تھے مگر یہود اس سے غلط اورخراب معنی مراد لیتے تھے۔پس انہوں نے مسلمانوں کے اس خطاب کو اپنے لئے بہتر موقع سمجھا اور رسول ﷺ کو اسی کلمہ سے خطاب کرنے لگے مگر دل میں اس کاغلط معنی مراد لیتے لہٰذا اللہ تعالیٰ نے مومنین کو اس کلمہ (رَٰعِنَا)کے استعمال سے ہی منع فرمادیا تاکہ اس شرانگیزی کا راستہ بند ہوجائے ۔اس آیت سے معلوم ہوتاہے کہ جب کوئی جائز کام ،کسی حرام کام تک پہنچانے کا ذریعہ بنے تو اس جائز کام سے بھی روک دیا جائیگا ۔(السعدی:ص؍۶۱)
سوال: آیت کریمہ سے دوسروں سے مخاطب ہونے کے بارے میں اسلامی آداب میں سے ایک ادب کا استنباط کیجئے.