قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے



٤٤ ٤٤

٤٥ ٤٥

ﭿ
٤٦ ٤٦


٤٧ ٤٧

٤٨ ٤٨


٤٩ ٤٩


٥٠ ٥٠

ﯿ
٥١ ٥١
156
سورۃ الأعراف آیات 0 - 44

وَنَادَىٰٓ أَصۡحَٰبُ ٱلۡجَنَّةِ أَصۡحَٰبَ ٱلنَّارِ أَن قَدۡ وَجَدۡنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقّٗا فَهَلۡ وَجَدتُّم مَّا وَعَدَ رَبُّكُمۡ حَقّٗاۖ قَالُواْ نَعَمۡۚ فَأَذَّنَ مُؤَذِّنُۢ بَيۡنَهُمۡ أَن لَّعۡنَةُ ٱللَّهِ عَلَى ٱلظَّٰلِمِينَ ٤٤

جنت والوں کا جہنم والوں کو یہ پکارنا دراصل جہنم والوں کے لئے جھڑکی ہوگی،ڈانٹ ڈپٹ اور سرزنش ہوگی۔ساتھ ہی ان کے رنج اور تکلیف کو بڑھا دینے والی ہوگی۔ (ابن عطیہ: ۲؍ ۴۰۲)
سوال: جنت والوں کی طرف سے جہنم والوں کو پکارنے کا کیا فائدہ ہوگا؟

سورۃ الأعراف آیات 0 - 45

وَهُم بِٱلۡأٓخِرَةِ كَٰفِرُونَ ٤٥

یہی وہ چیز ہے جو سیدھے راستے سے ان کے پھر جانے کی وجہ بنی۔نیزثواب کی امید نہ رکھناہی ان کے نفسانی شہوتوں اورخواہشات پر ٹوٹے پڑے رہنے کی وجہ بنی۔ (السعدی: ۲۹۰)
سوال: موت کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے اور آخرت پر ایمان ویقین رکھنے کا کیا اثر ہوتا ہے؟

سورۃ الأعراف آیات 0 - 46

وَبَيۡنَهُمَا حِجَابٞۚ وَعَلَى ٱلۡأَعۡرَافِ رِجَالٞ يَعۡرِفُونَ كُلَّۢا بِسِيمَىٰهُمۡۚ وَنَادَوۡاْ أَصۡحَٰبَ ٱلۡجَنَّةِ أَن سَلَٰمٌ عَلَيۡكُمۡۚ لَمۡ يَدۡخُلُوهَا وَهُمۡ يَطۡمَعُونَ ٤٦

اہلِ جنت اور اہلِ جہنم کے درمیان ایک آڑ یعنی دیوارہوگی۔اسی کو “اَعراف” کہا جاتا ہے ۔ یہ دیوار نہ جنت کا حصہ ہوگی اور نہ جہنم کا ۔ یہ دیوار اتنی اونچی ہوگی کہ اس پر جو کوئی رہے گا وہ دونوں ٹھکانوں میں جھانک سکے گا اور دونوں فریق یعنی اہلِ جنت اور اہلِ جہنم کے حالات دیکھ پائے گا۔ چنانچہ اس دیوار پر کچھ لوگ ہوں گے جو جنت اور جہنم والوں میں سے ہر ایک کو پہچان لیں گے۔ ( بِسِيمَىٰهُمۡۚ) یعنی ان نشانیوں اور علامتوں کے ذریعہ جو جنتی اور جہنمی افراد کی پہچان ہیں، اور جن کے ذریعہ وہ دوسروں سے الگ اور ممتاز ہوتے ہیں۔سو جب وہ اہلِ جنت کی طرف نظر ڈالیں گے تو انہیں پکار کر کہیں گے: (أَن سَلَٰمٌ عَلَيۡكُمۡۚ) کہ تم پر سلامتی ہو۔ اور تحیّت وسلام کا نذرانہ پیش کریں گے، حالانکہ وہ خود اب تک جنت میں داخل نہیں ہوئے ہوں گے، لیکن اس میں داخلہ کی آس اور امید لگائے ہوں گے۔اور اللہ تعالیٰ ان کے دلوں میں یہ امید اور آرزویوں ہی نہیں جگائیگا، بلکہ اللہ ان کے دلوں میں اس لئے امید پیدا کریگا کہ وہ اپنے فضل وکرم کا معاملہ ان کے ساتھ کرنا چاہتاہے۔ (السعدی: ۲۹۰)
سوال: اصحابِ اعراف(اعراف والوں)سے کیا مراد ہے؟

سورۃ الأعراف آیات 0 - 48

وَنَادَىٰٓ أَصۡحَٰبُ ٱلۡأَعۡرَافِ رِجَالٗا يَعۡرِفُونَهُم بِسِيمَىٰهُمۡ قَالُواْ مَآ أَغۡنَىٰ عَنكُمۡ جَمۡعُكُمۡ وَمَا كُنتُمۡ تَسۡتَكۡبِرُونَ ٤٨

(وَنَادَىٰٓ أَصۡحَٰبُ ٱلۡأَعۡرَافِ رِجَالٗا) اور اہلِ اعراف کچھ لوگوں کو آواز دیں گے۔یہ وہ جہنمی ہوں گے جودنیا میں بڑے اثر ورسوخ والے تھے ۔
(يَعۡرِفُونَهُم بِسِيمَىٰهُمۡ قَالُواْ مَآ أَغۡنَىٰ عَنكُمۡ جَمۡعُكُمۡ) (اہلِ اعراف ) انہیں ان کی خاص نشانیوں سے پہچان لیں گے اور کہیں گے تمہارا جمع جمع کر رکھنا تمہارے کام نہیں آیایعنی: دنیا کے مال واسباب اور آل اولاد۔ (وَمَا كُنتُمۡ تَسۡتَكۡبِرُونَ) اور وہ چیزیں جن کے بل بوتے پر تم ایمان لانے سے اکڑتے اور تکبر کرتے تھے اور شیخی میں حق قبول نہیں کرتے تھے ۔ کلبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: وہ دیوارـ اعرافـ پر ہوں گے اور وہیں سے پکاریں گے :اے ولید بن مغیرہ!اے ابوجہل بن ہشام ! او فلاں! وہ انہیں جہنم میں مبتلائے عذاب دیکھ رہے ہوں گے۔پھر وہ اپنی نگاہوں کو جنت کی طرف پھیریں گے تو اس میں دنیا کے فقراء ومحتاجین اور کمزور لوگوں کو دیکھیں گے جن کا ان بڑے لوگوں کی طرف سے مذاق اڑایا جاتا تھا، جیسے حضراتِ سلمان،صہیب،خبّاب اور بلال رضی اللہ عنہم ۔ (البغوی: ۲؍۱۰۶)
سوال: دنیا کے پیمانے آخرت کے پیمانوں سے الگ ہیں ۔ آیت کے تناظر میں اس بات کی کچھ وضاحت کیجئے.

سورۃ الأعراف آیات 0 - 49

أَهَٰٓؤُلَآءِ ٱلَّذِينَ أَقۡسَمۡتُمۡ لَا يَنَالُهُمُ ٱللَّهُ بِرَحۡمَةٍۚ

یہ اصحابِ اعراف کے اس کلام کا حصہ ہے جسے وہ اہلِ جہنم سے خطاب کرکے کہیں گے۔یہاں (هَٰٓؤُلَآءِ) (یہ لوگ) کا اشارہ اہلِ جنت کی طرف ہے ۔ اس بات کا پس منظر یہ ہے کہ یہ کافر لوگ دنیا میں قسمیں کھاکھاکر کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ مومنوں پر رحم نہیں کریگا،اپنی رحمت سے محروم رکھے گا،اور ان کی کوئی پرواہ نہیں کریگا،مگر یہاں جو منظر اور نتیجہ سامنے ہوگا وہ ان کی اس بات کے بالکل خلاف ہوگا۔ (ابن جُزی: ۱؍ ۳۶۰)
سوال: اس آیت سے جہنم میں جانے کے چند اسباب بیان کیجئے.

سورۃ الأعراف آیات 0 - 50

وَنَادَىٰٓ أَصۡحَٰبُ ٱلنَّارِ أَصۡحَٰبَ ٱلۡجَنَّةِ أَنۡ أَفِيضُواْ عَلَيۡنَا مِنَ ٱلۡمَآءِ أَوۡ مِمَّا رَزَقَكُمُ ٱللَّهُۚ قَالُوٓاْ إِنَّ ٱللَّهَ حَرَّمَهُمَا عَلَى ٱلۡكَٰفِرِينَ ٥٠

یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ پانی پلاناافضل ترین اعمال میں سے ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیاکون سا صدقہ سب سے زیادہ فضیلت والا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: پانی،کیا تم نے اہلِ جہنم کو نہیں دیکھا کہ جب وہ اہل جنت سے فریاد ومدد چاہیں گے تو کہیں گے: (أَنۡ أَفِيضُواْ عَلَيۡنَا مِنَ ٱلۡمَآءِ أَوۡ مِمَّا رَزَقَكُمُ) یعنی: ہم پر بھی تھوڑا سا پانی انڈیل دویا اللہ نے تمہیں جو رزق دیا ہے اسی میں سے کچھ گرادو۔ بعض تابعین کا قول ہے:جس کے گناہ زیادہ ہوجائیں اسے لوگوں کوپانی پلانا چاہئے ۔اور واقعہ ایسا ہی ہے کہ ایک شخص نے کتے کو پانی پلادیا تو اللہ نے اس کے گناہوں کو معاف کردیا،تو پھر اسے بخشش کیوں نہیں ملے گی جو کسی مومن وموحد (ایمان وتوحید والے )انسان کو پانی پلائے اور سیراب کرکے اس کی زندگی اور تازگی کا ذریعہ بنے۔ (القرطبی:۹؍۲۳۳)
سوال:کون سی چیز پانی پلانے کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے؟بیان کیجئے.

سورۃ الأعراف آیات 0 - 50

وَنَادَىٰٓ أَصۡحَٰبُ ٱلنَّارِ أَصۡحَٰبَ ٱلۡجَنَّةِ أَنۡ أَفِيضُواْ عَلَيۡنَا مِنَ ٱلۡمَآءِ أَوۡ مِمَّا رَزَقَكُمُ ٱللَّهُۚ قَالُوٓاْ إِنَّ ٱللَّهَ حَرَّمَهُمَا عَلَى ٱلۡكَٰفِرِينَ ٥٠

اس بات چیت کے اندر جوچیز کافروں کو سب سے زیادہ بری لگے گی وہ یہ ہوگی کہ وہ یعنی جنتی اور جہنمی ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہوں گے ،ایک دوسرے کے حالات کا مشاہدہ کررہے ہوں گے ۔ تو یہ چیز ان کے اندر ذلت ورسوائی کا احساس بڑھا دیگی ،اور ان کے دل کو زیادہ چوٹ پہنچائیگی۔ (ابن عطیہ: ۲؍ ۴۰۶)
سوال: جہنم میں ایک طرف جہاں جسمانی عذاب ہوگا ،وہیں دوسری طرف معنوی عذاب بھی ہوگا۔ آیت کے معنی ومفہوم کے تحت اس بات کی وضاحت کیجئے.