قرآن
ﮒ
ﱀ
ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ
ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ
ﭭ ﭮ ١٢٥ ١٢٥ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ
ﭷ ﭸ ﭹ ١٢٦ ١٢٦ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ
ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ١٢٧ ١٢٧ ﮈ ﮉ
ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ
ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ
ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ
ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ١٢٨ ١٢٨ ﮯ ﮰ
ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ١٢٩ ١٢٩
ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ
ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ
ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ
ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ١٣٠ ١٣٠
فَمَن يُرِدِ ٱللَّهُ أَن يَهۡدِيَهُۥ يَشۡرَحۡ صَدۡرَهُۥ لِلۡإِسۡلَٰمِۖ
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے سامنے ،بندے کی سعادت اور ہدایت کی علامت بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ: جس شخص کا سینہ اسلام کے لئے کھل جائے ... یعنی اسلام کو ماننے کے لئے کشادہ ہوجاتا ہے ... تب وہ ایمان کی روشنی سے منور ہوجاتا ہے ،اور یقین کی رونق سے جی اٹھتا ہے، چنانچہ اس کا نفس ایمان پر مطمئن ہوجاتا ہے ،نیکی سے محبت کرنے لگتا ہے ۔اتناہی نہیں بلکہ اس کا نفس نیک کاموں کو بوجھ سمجھنے كے بجائے لذت محسوس کرتے ہوئے بخوشی کرتا ہے۔ تو یہ کیفیت اس بات کی علامت ہے کہ اللہ نے اس بندے کو ہدایت عطاکردی ہے ساتھ ہی اس کی توفیق کا انعام بھی دیا ہے اور سب سے بہترو درست راستے پر چلنے کا احسان بھی کیا ہے۔ (السعدی: ۲۷۲)
سوال: ہدایت ملنے کی کیا نشانی ہے جسے آدمی خود اپنے نفس میں محسوس کرتا ہے؟
وَمَن يُرِدۡ أَن يُضِلَّهُۥ يَجۡعَلۡ صَدۡرَهُۥ ضَيِّقًا حَرَجٗا كَأَنَّمَا يَصَّعَّدُ فِي ٱلسَّمَآءِۚ
یعنی: اس شخص کی ایسی حالت وکیفیت ہوتی ہے جیسے وہ آسمان کی بلندی میں چڑھ جانا چاہتا ہو لیکن یہ اس کے لئے ممکن نہیں ہوتا،بالکل اسی طرح ایمان لانا اس کے لئے مشکل ہوجاتا ہے ۔ (ابن جزی: ۱؍ ۲۸۵)
سوال: گمراہ آدمی اور آسمان میں چڑھنے والے شخص کے درمیان مشابہت کی کیا وجہ ہے؟
وَمَن يُرِدۡ أَن يُضِلَّهُۥ يَجۡعَلۡ صَدۡرَهُۥ ضَيِّقًا حَرَجٗا كَأَنَّمَا يَصَّعَّدُ فِي ٱلسَّمَآءِۚ
ایک کافر ایمان سے جو نفرت کرتا ہے اور اسے اختیار کرنے میں جو بوجھ اور مشقت محسوس کرتا ہے،اللہ تعالیٰ نے اسے اس شخص کی حالت سے مشابہت دی ہے جو اپنے اوپر ایسا بوجھ اور ذمہ داری لا دلیتا ہے جسے نبھانے کی اسے طاقت نہیں ہوتی۔بالکل اسی طرح جیسے آسمان میں چڑھنا آدمی کی طاقت سے باہر ہے۔ (القرطبی: ۹؍۲۵)
سوال: جس شخص پر گمراہی لکھ دی گئی ہواس کے لئے ایمان کو قبول کرنا مشکل بلکہ ناممکن ہوتا ہے ۔اس بات کی وضاحت کیجئے.
لَهُمۡ دَارُ ٱلسَّلَٰمِ عِندَ رَبِّهِمۡۖ وَهُوَ وَلِيُّهُم بِمَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ ١٢٧
مراد جنت ہے ۔جنت کو ‘‘دارالسلام’’ یعنی سلامتی کا گھر کہا گیا ہے، کیونکہ جو کوئی اس میں داخل ہوگا وہ تمام بلاؤں اورمصیبتوں سے محفوظ ہوجائیگا۔ (البغوی: ۲؍ ۶۳)
سوال: ‘‘دارالسلام’’ سے کیا مراد ہے ؟اور اسے یہ نام کیوں دیا گیا ہے؟
وَكَذَٰلِكَ نُوَلِّي بَعۡضَ ٱلظَّٰلِمِينَ بَعۡضَۢا بِمَا كَانُواْ يَكۡسِبُونَ ١٢٩
ہماری سنت اور قانون ایسے ہی ہے کہ ہم ایک ظالم شخص کو دوسرے ظالم شخص کا دوست بنادیتے ہیں جو اسے شرپر آمادہ کرتا ہے اور برائی کے لئے اکساتا ہے ،نیز خیر میں بے رغبتی پیدا کرتا ہے ،نیکی اور اچھائی سے نفرت دلاتا ہے ۔یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی جانے والی سزاؤں میں سے ایک بہت بڑی سزا ہے ،جس کا اثربہت برا اور خطرہ بہت بڑا ہوتا ہے، اورقصور خود ظالم کا ہی ہوتا ہے کیونکہ وہ خود ہی ہے جس نے اپنے آپ کو نقصان میں ڈالا اور اپنے ہی خلاف جرم کا ارتکاب کرکے خود اپنے پیروں پر کلہاڑی ماری ہے ۔ (وَ مَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيْدِ ۰۰۴۶) (سورۂ حم السجدۃ: ۴۶) اور آپ کا رب بندوں پرقطعاً ظلم نہیں کرتا۔
ایک ظالم پر دوسرے ظالم کو مسلط کرنے کی ایک شکل یہ بھی ہے کہ جب بندوں کا ظلم وستم اور شروفساد بہت بڑھ جاتا ہے اور وہ اپنے اوپر واجب حقوق کی ادائیگی روک دیتے ہیں تو ان پر ظالموں کو مسلط کردیا جاتا ہے جو انہیں سنگین عذاب اور سخت تکلیف میں مبتلا کرتے ہیں۔ اور وہ ظلم وجور اور زورزبردستی کرکے ان سے اس کا کئی گنا زیادہ حصہ چھین لیتے ہیں جو انہوں نے اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق کو روکا اور ہڑپ کیا ہوتاہے۔(السعدی: ۲۷۳)
سوال: بعض ظالموں پر دوسرے ظالموں کو مسلط کئے جانے کی حالتوں میں سے دوحالتوں کوبیان کیجئے.
وَكَذَٰلِكَ نُوَلِّي بَعۡضَ ٱلظَّٰلِمِينَ بَعۡضَۢا بِمَا كَانُواْ يَكۡسِبُونَ ١٢٩
یہ ظالم آدمی کے لئے کھلی دھمکی ہے کہ اگر وہ اپنے ظلم سے باز نہیں آتا تو بدلے میں اللہ تعالیٰ اس پر دوسرے ظالم کو مسلط کردیگا۔ فضیل بن عیاض رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:جب تم یہ دیکھو کہ ایک ظالم دوسرے ظالم کو دکھ اور سزا دے رہا ہے تو ذرا ٹھہرکر اس پر عبرت کی نگاہ ڈالو۔ (القرطبی: ۹؍۳۰)
سوال: اللہ تعالیٰ ظالم کو دنیا میں کس چیز کے ذریعہ سزا دیتا ہے؟
يَٰمَعۡشَرَ ٱلۡجِنِّ وَٱلۡإِنسِ أَلَمۡ يَأۡتِكُمۡ رُسُلٞ مِّنكُمۡ يَقُصُّونَ عَلَيۡكُمۡ ءَايَٰتِي وَيُنذِرُونَكُمۡ لِقَآءَ يَوۡمِكُمۡ هَٰذَاۚ قَالُواْ شَهِدۡنَا عَلَىٰٓ أَنفُسِنَاۖ وَغَرَّتۡهُمُ ٱلۡحَيَوٰةُ ٱلدُّنۡيَا وَشَهِدُواْ عَلَىٰٓ أَنفُسِهِمۡ أَنَّهُمۡ كَانُواْ كَٰفِرِينَ ١٣٠
اس کا مطلب ہے :یقیناًتمہارے پاس تمہارے درمیان سے اللہ کے پیغمبر اور رسول علیہم السلام آئے تھے جو قطعی اور فیصلہ کن دلیلوں کے ذریعہ تمہارے دین اور طریقے کی خرابیاں اجاگر کرتے رہے اور اس کے غلط ہونے سے تمہیں آگاہ کرتے رہے ،نیز جس راستے اور منہج پر تم اڑے ہوئے تھے یہ پیغمبر اس کے برے انجام کی دھمکی سے تمہیں ڈراتے رہے تھے ۔لیکن تم نے ان کی باتوں کو قبول نہیں کیا ،نہ نصیحت حاصل کی اور نہ ہی عبرت پکڑی۔ (الطبری: ۱۲؍ ۱۲۰)
سوال: سزادینے سے پہلے خلاف ورزیوں کو یاد دلانا قرآن کا منہج اورطریقہ ہے ۔آیت کے تناظرمیں اس کی وضاحت کیجئے.