قرآن
ﮒ
ﱀ
ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ
ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ
١١٩ ١١٩ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ
ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ١٢٠ ١٢٠ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ
ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ
ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ
١٢١ ١٢١ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ
ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ
ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ١٢٢ ١٢٢ ﮱ ﯓ
ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ
ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ١٢٣ ١٢٣ ﯣ ﯤ
ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ
ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ
ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ ﰁ ١٢٤ ١٢٤
وَقَدۡ فَصَّلَ لَكُم مَّا حَرَّمَ عَلَيۡكُمۡ
یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ تمام اشیاء اور کھانوں میں اصل ‘‘مباح اور جائز ہونا’’ہے۔اور یہ کہ جب تک شریعت کسی چیز کو حرام نہیں ٹھہراتی وہ اپنی اصل مباح اور جائز ہونے پر باقی رہتی ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے جس چیز کا حکم بیان نہیں فرمایا ہے وہ حلال ہے ،اس لئے کہ جو کچھ حرام ہے اللہ نے اس کی تفصیل بیان فرمادی ہے۔اس کا یہ مطلب ہواکہ اللہ نے جس چیز کی تفصیل بیان نہیں کی ہے وہ حرام نہیں ہے۔ (السعدی: ۲۷۱)
سوال:مذکورہ آیت اس شرعی قاعدے پر کس طرح دلیل بنتی ہے کہ اشیاء میں اصل اباحت اورجوازہے؟
وَإِنَّ كَثِيرٗا لَّيُضِلُّونَ بِأَهۡوَآئِهِم بِغَيۡرِ عِلۡمٍۚ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعۡلَمُ بِٱلۡمُعۡتَدِينَ ١١٩
کسی کی نفرت کی بنیاد پر ،توکسی کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ اللہ کی شریعت کو چھوڑکر اسی کی اتباع کرے جو اسے اچھی لگے ،پھر دوسروں کو بھی اس کا حکم دے اور اسی کو اپنا دین بنالے ،بلکہ یہ چیز صرف اللہ کی ہدایت کی بنیاد پر ہونی چاہئے۔اور اللہ کی ہدایت اس کی شریعت جس پر اس نے اپنے رسول کو کاربند فرمایا ہے ۔ لہٰذا جو کوئی شریعت محمدی علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام سے ہٹ کر کسی پسند اور ناپسند یا محبت اور نفرت کی بناپر اپنی چاہت کی اتباع کرتا ہے تو وہ اللہ کی ہدایت کے بغیر خواہشات نفس کی پیروی کرتا ہے۔ (ابن تیمیہ: ۳؍ ۹۶)
سوال: اللہ تعالیٰ کی جانب سے ملنے والے علم کے بغیر خواہشات کی اتباع کرنا کتنا خطرناک ہے؟بیان کیجئے.
وَإِنَّ كَثِيرٗا لَّيُضِلُّونَ بِأَهۡوَآئِهِم بِغَيۡرِ عِلۡمٍۚ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعۡلَمُ بِٱلۡمُعۡتَدِينَ ١١٩
پھر اللہ عزوجل نے ان لوگوں کی گمراہی کے بارے میں بتایا کہ ان کی گمراہی بدترین شکل کی ہے ۔ وہ اس طرح کہ ان کی گمراہی غور وفکر اور سمجھ بوجھ کی بنیاد پر نہیں ہے بلکہ خواہشات نفس کے پیچھے پڑنے کی وجہ سے ہے۔ اور ’’بغیر علم‘‘ کا مطلب ہے بلا سوچے سمجھے۔ (ابن عطیہ: ۲؍ ۳۳۹)
سوال: گمراہی کی بدترین صورت کیا ہے۔؟
وَذَرُواْ ظَٰهِرَ ٱلۡإِثۡمِ وَبَاطِنَهُۥٓۚ إِنَّ ٱلَّذِينَ يَكۡسِبُونَ ٱلۡإِثۡمَ سَيُجۡزَوۡنَ بِمَا كَانُواْ يَقۡتَرِفُونَ ١٢٠
بندہ کھلے اور چھپے گناہوں کو اسی وقت پوری طرح چھوڑسکتا ہے جب وہ ان گناہوں کی جانکاری حاصل کرلے۔لہذا انہیں تلاش کرنادل اور جسمانی اعضاء وجوارح دونوں کے گناہوں کی معرفت حاصل کرنامکلف بندے پر فرض ہے، جبکہ حال یہ ہے کہ بہت سے لوگوں کو گناہوں کا علم نہیں ہوتا ہے ،خاص طور پر دل کے گناہ جیسے :کبروگھمنڈ ، انانیت اورریاکاری جیسے گناہ چھپے رہ جاتے ہیں اور اسے پتہ نہیں چلتا،یہاں تک کہ بندہ ان میں سے بہت سے گناہوں یا کچھ گناہوں کا خوب ارتکاب کرتا ہے اور اسے اس کااحساس تک نہیں رہتا۔ یہ دراصل علم اور فہم وبصیرت سے محرومی کا نتیجہ ہوتا ہے۔ (السعدی: ۲۷۱)
سوال: ظاہری اور باطنی گناہوں اور نافرمانیوں سے بچنے کے لئے آدمی کو سب سے پہلے کیا کرنا ضروری ہے؟
وَذَرُواْ ظَٰهِرَ ٱلۡإِثۡمِ وَبَاطِنَهُۥٓۚ إِنَّ ٱلَّذِينَ يَكۡسِبُونَ ٱلۡإِثۡمَ سَيُجۡزَوۡنَ بِمَا كَانُواْ يَقۡتَرِفُونَ ١٢٠
(وَذَرُواْ ظَٰهِرَ ٱلۡإِثۡمِ وَبَاطِنَهُۥٓۚ) “اور تم ظاہری گناہوں کو بھی چھوڑدو اور باطنی گناہوں کو بھی” ۔ یہاں لفظ اور تعبیر ایسی ہے جس کے عمومی معنی میں ہر قسم کے گناہ آجاتے ہیں اس لئے کہ جتنے بھی گناہ ہیں سب کے سب یا تو باطنی یعنی چھپے ہوئے ہیں یاپھر ظاہری یعنی کھلے ہوئے ہیں۔نیز اس کا ایک معنی یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ ظاہر سے مراد اعمال ہیں اور باطن سے مراد عقیدہ ہے۔ (ابن جُزی: ۱؍ ۲۸۴)
سوال: اس آیت میں اختصار اور عموم دونوں ہے۔اس کی وضاحت کیجئے.
وَإِنَّ ٱلشَّيَٰطِينَ لَيُوحُونَ إِلَىٰٓ أَوۡلِيَآئِهِمۡ لِيُجَٰدِلُوكُمۡۖ
یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ دلوں میں جو کشف اور الہامات ہوتے ہیں جو صوفیاء اور ان جیسے لوگوں کے یہاں کثرت سے واقع ہوتے ہیں ۔ یہ کشف والہامات محض الہام ہونے کی بناپر بذات خود اس بات کی دلیل نہیں ہیں کہ وہ حق ہیں، اور اس وقت تک ان کی تصدیق نہیں کی جائیگی جب تک انہیں کتاب اللہ اورسنت رسول اللہ ﷺ کی کسوٹی پر جانچ نہ لیا جائے، چنانچہ اگر قرآن وسنت ان الہامات وغیرہ کے قابل قبول ہونے کی گواہی دیں تو وہ قبول کئے جائیں گے، اور اگر ان کے مخالف ہوں تو یہ بلا تردد رد کردئیے جائیں گے۔اور اگر قرآن وحدیث سے موافقت یا مخالفت کچھ بھی معلوم نہ ہوسکے تو پھر توقّف اور خاموشی اختیار کی جائیگی۔نہ انہیں سچا اور درست مانا جائیگا اور نہ ہی جھوٹ اور غلط قرار دیا جائیگا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ وحی اور الہام رحمن کی جانب سے بھی ہوتا ہے اور شیطان کی طرف سے بھی ۔لہٰذا بہت ضروری ہے کہ رحمانی اور شیطانی الہام کے درمیان فرق اور تمیز کرلی جائے ۔دراصل ان دونوں الہاموں میں فرق نہ کرنے یا نہ کرپانے کی بناپر لوگوں کو اتنی ٹھوکریں لگتی ہیں اور اس قدر غلطیاں اور گمراہیاں پیدا ہوتی ہیں جس کا حساب وشمار اللہ کے سوا کوئی نہیں کر سکتا۔ (السعدی: ۲۷۱)
سوال: مذکورہ آیت کے ذریعہ آپ کس طرح اس شخص کی تردید کریں گے جو الہامات اورکشف کو کتاب وسنت پر پیش کئے بغیرمان لیتا ہے اور ان کی تصدیق کرتا ہے؟
وَكَذَٰلِكَ جَعَلۡنَا فِي كُلِّ قَرۡيَةٍ أَكَٰبِرَ مُجۡرِمِيهَا لِيَمۡكُرُواْ فِيهَاۖ وَمَا يَمۡكُرُونَ إِلَّا بِأَنفُسِهِمۡ وَمَا يَشۡعُرُونَ ١٢٣
(وَكَذَٰلِكَ جَعَلۡنَا فِي كُلِّ قَرۡيَةٍ أَكَٰبِرَ) “اور اسی طرح ہم نے ہر بستی میں وہاں کے بڑے لوگوں کو ہی جرائم کا مرتکب بنایا”۔
یعنی: جس طرح ہم نے مکہ میں اس کے سرداروں اور رئیسوں کو جرائم میں لگادیا تاکہ وہ اپنے شہر میں مکروفریب پھیلائیں ۔ٹھیک اسی طرح ہم نے ہر بستی میں کیا ہے ۔ آیت میں صرف’’اکابر‘‘یعنی بڑے لوگوں اور سرداروں کا ذکر کیا گیا ہے اس لئے کہ دوسرے لوگ تو ان کے پیچھے چلنے والے اور تابع ہوتے ہیں۔ (ابن جُزی: ۱؍ ۲۸۴)
سوال:آیت میں دوسروں کو چھوڑکرصرف بڑے لوگوں کے ذکر پر کیوں اکتفاء کیا گیا ہے؟