قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے

ﰿ


٨٤ ٨٤


٨٥ ٨٥

٨٦ ٨٦

ﭿ
٨٧ ٨٧

٨٨ ٨٨





٨٩ ٨٩


٩٠ ٩٠
122
سورۃ المائدہ آیات 0 - 85

فَأَثَٰبَهُمُ ٱللَّهُ بِمَا قَالُواْ جَنَّٰتٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَاۚ وَذَٰلِكَ جَزَآءُ ٱلۡمُحۡسِنِينَ ٨٥

(فَأَثَٰبَهُمُ ٱللَّهُ)اللہ نے انہیں عطاکردیا۔
(بِمَا قَالُواْ جَنَّٰتٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَاۚ) ان کے کہنے کے بدلے اور صلے میں ایسی جنتیں جن کے نیچے سے نہریں بہہ رہی ہیں۔وہ ان جنتوں میں ہمیشہ رہیں گے۔ یقیناً: ان کےقول اور کہنے کو کامیاب بنادیا۔ اور“ثواب” کو “قول”(ان کے کہنے)پر مرتب کیاہے کیونکہ وہ “قول” اخلاص سے صادر ہوا ہے۔ اس کی دلیل آیت کے اگلے حصہ میں اللہ کا یہ فرمان ہے: ( وَذَٰلِكَ جَزَآءُ ٱلۡمُحۡسِنِينَ)اور نیکی اور احسان کرنے والوں کا ایسا ہی بدلہ ہے ۔یعنی: توحید والے ،ایمان والے کا۔یعنی ان کا قول محض زبانی دعویٰ نہیں تھا بلکہ دل کے یقین اور اخلاص کے ساتھ تھا۔ (البغوی: ۲؍ ۷۰۴)
سوال: اللہ تعالیٰ نے صرف ان کے قول پرجنتوں کی عظیم جزاکیوں عطافرمائی؟

سورۃ المائدہ آیات 0 - 87

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تُحَرِّمُواْ طَيِّبَٰتِ مَآ أَحَلَّ ٱللَّهُ لَكُمۡ وَلَا تَعۡتَدُوٓاْۚ

(وَلَا تَعۡتَدُوٓاْۚ) اور حد سے آگے نہ بڑھو۔جس طرح یہ ضروری ہے کہ تم حلال چیزوں کو حرام نہ ٹھہراؤ۔اسی طرح یہ بھی لازم ہے کہ حلال چیزوں کے استعمال میں حد سے آگے نہ بڑھو بلکہ اس کی اتنی ہی مقدار لو جتنی حاجت ہو اور اس میں حد سے تجاوز مت کرو۔غرض اللہ کی شریعت زیادتی کرنے والوں اور اس میں کوتاہی کرنے والوں کے بیچ اعتدال پر مبنی ہے اور ہر طرح کے افراط وتفریط سے پاک ہے۔ (ابن کثیر: ۲؍ ۸۴)
سوال: یہ آیت دین میں میانہ روی اور اعتدال پر کس طرح دلالت کرتی ہے؟

سورۃ المائدہ آیات 0 - 87

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تُحَرِّمُواْ طَيِّبَٰتِ مَآ أَحَلَّ ٱللَّهُ لَكُمۡ وَلَا تَعۡتَدُوٓاْۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ ٱلۡمُعۡتَدِينَ ٨٧

اس آیت میں مذکور اللہ کے حکم کی بناپر ایسا شخص قابلِ نکیر وملامت ہے جو لذت کی جائز قسموں کو ترک کرکے اللہ کی قربت چاہتا ہے ۔جیسا کہ رسول اللہﷺ نے ان لوگوں کو ٹوکا جن میں سے ایک نے کہا تھا: “اب تو میں ہمیشہ روزہ ہی رکھوں گا،بے روزہ نہیں رہوں گا”۔دوسرے نے کہاتھا: “میں پوری رات نمازیں پڑھتا رہوں گا،سوؤں گا نہیں”۔ تیسرے نے کہا تھا: “میں عورتوں سے شادی ہی نہیں کروں گا” اور ان میں سے ایک نے کہاتھا: “جہاں تک میری بات ہے تو میں اب گوشت نہیں کھاؤں گا”۔تب نبی ﷺ نے ان سے فرمایا: “لٰکِنِّیْ اَصُوْمُ وَاُفْطِرُ وَاَقُوْمُ واَنَامُ وَاَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ واٰکُلُ اللَّحْمَ فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِیْ فَلَیْسَ مِنّیْ”۔ یعنی:لیکن میں توروزہ بھی رکھتا ہوں اور بے روزہ رہ کر کھاتا پیتا بھی ہوں ،رات کا قیام بھی کرتا ہوں اور سوتا بھی ہوں ،عورتوں سے شادی بھی کرتا ہوں اور میں گوشت بھی کھاتا ہوں ۔یہ میرا طریقہ اورسنت ہے۔پس جو کوئی میرے طریقے سے منہ موڑیگاتو وہ میرے منہج اور راستہ سے ہٹاہوا ہے’’۔(ابن تیمیہ:۲؍ ۵۲۴)
سوال: جو شخص لذتوں کی کسی جائز قسم کو چھوڑکر اللہ تعالیٰ کی قربت ونزدیکی چاہتا ہے ،اس کا کیا حکم ہے؟

سورۃ المائدہ آیات 0 - 87

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تُحَرِّمُواْ طَيِّبَٰتِ مَآ أَحَلَّ ٱللَّهُ لَكُمۡ وَلَا تَعۡتَدُوٓاْۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ ٱلۡمُعۡتَدِينَ ٨٧

(طَيِّبَٰتِ) سے مراد وہ لذیذ اور ذائقہ دارچیزیں ہیں جنہیں انسانی طبیعت پسند کرتی اور چاہتی ہے پھر بھی تم ایسی چیزوں کو استعمال کرنے سے خود کو روک لو توایسا مت کرو۔جیسا کہ نصرانی علماء وپادریوں اورعبادت گزاروں نے کیا کہ انہوں نے اپنے اوپر عورتوں کو ،پاکیزہ کھانوں کو اور مزے دار مشروبات کو حرام کرلیا اور ان میں سے بعض لوگوں نے خود کو گرجاؤں میں قید اور محدودکرلیااور کچھ عبادت کے مقصد سے زمین میں اِدھر اُدھر پھرتے رہے ۔
لہٰذا یہاں اللہ تعالیٰ فرمارہا ہے: اے مومنو! تم ایسا مت کرو جیسے اُن لوگوں نے کیااور اللہ نے تمہارے لئے حلال اور حرام چیزوں کی جوحد مقرر کردی ہے،اس سے آگے مت نکلو۔ایسا نہ ہوکہ تم اس کی متعین کردہ حدود سے آگے بڑھ جاؤاور اس طرح تم اس کی اطاعت وفرمانبرداری کی خلاف ورزی کرنےلگوکیونکہ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے لئے مختلف چیزوں کو حلال اور حرام ٹھہرانے کا جو دائرہ کھینچ دیا ہے ،جو اصول اور حدود متعین کردیے ہیں ،ان سے تجاوز کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتاہے۔(الطبری: ۱۰؍۵۱۳)
سوال: کھانے ،پینے اور نکاح کرنے جیسی جائز ومباح چیزوں میں حد سے تجاوزکرناکیسے ہوتاہے؟

سورۃ المائدہ آیات 0 - 88

وَكُلُواْ مِمَّا رَزَقَكُمُ ٱللَّهُ حَلَٰلٗا طَيِّبٗاۚ

یعنی: اللہ نے تمہارے لئے حصولِ رزق کے جو بھی جائز اسباب میسر فرمائے ہیں ،انہیں اپنا کر اللہ کی دی ہوئی روزی سے بلا جھجھک کھاؤ۔شرط یہ ہے کہ وہ حلال ہو،جائز طریقے سے حاصل کیا گیا ہو۔چوری کا،یا چھینا ہوانہ ہو ،یا کسی بھی ناجائز طریقے سے حاصل کیا ہوانہ ہو۔ یہ شرط بھی ہے کہ وہ پاکیزہ ہواور پاک وہ ہے جس میں کوئی گندگی نہ ہو ۔چنانچہ اس شرط اور پابندی کے ذریعہ ناپاک درندے اور دوسری ناپاک اور گندی چیزیں اس دائرے سے باہر نکل جاتی ہیں۔(السعدی : ۲۴۲)
سوال: جائز کھانوں میں دوشرطوں کا ہونا ضروری ہے۔وہ کیا ہیں؟

سورۃ المائدہ آیات 0 - 89

فَكَفَّٰرَتُهُۥٓ إِطۡعَامُ عَشَرَةِ مَسَٰكِينَ مِنۡ أَوۡسَطِ مَا تُطۡعِمُونَ أَهۡلِيكُمۡ أَوۡ كِسۡوَتُهُمۡ أَوۡ تَحۡرِيرُ رَقَبَةٖۖ

قسم کے کفارے کی یہ تین شکلیں ہیں: علماء امت کا اتفاق ہے کہ قسم توڑنے والا شخص ان تینوں میں سے جو عمل بھی کرلے،وہ بطور کفارہ اس کے لئے کافی ہوگا۔ان طریقوں میں پہلے سب سے آسان ،پھر اس سے کم آسان کی ترتیب کے لحاظ سے بیان فرمایا ہے۔چنانچہ کھانا کھلانا،کپڑا پہنانے سے زیاد ہ آسان ہے ۔ اسی طرح غلام آزاد کرنے سے زیادہ آسانی کپڑا پہنانے میں ہے ۔
تو کفارہ کے ان عملوں میں آپ ادنیٰ سے اعلیٰ اور کم تر سے برتر مرحلے کی طرف بڑھتے ہیں ۔ پھر اگر قسم توڑنے والا شخص مذکورہ تینوں کاموں میں سے کوئی ایک کام بھی کرنے کی قدرت نہیں رکھتا تو ایسی صورت میں وہ تین دن کے روزے رکھ کر کفارہ ادا کرے جیسا کہ اللہ نے آیت میں آگے فرمایا:
(فَمَنْ لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلٰثَةِ اَيَّامٍ) یعنی اگرذکر کردہ چیزوں میں سے کوئی چیزمیسر نہ آئے تو پھر تین دن کے روزے رکھنا چاہئے۔(ابن کثیر:۲؍ ۸۶)
سوال: کفارے کے اعمال کو اس ترتیب سے بیان کرنے کی کیا حکمت ہے؟

سورۃ المائدہ آیات 0 - 90

فَٱجۡتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُونَ ٩٠

فلاح اور کامیابی اسی وقت پوری ہوسکتی ہے جب اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں کو چھوڑدیا جائے۔ خاص طور پر آیت میں ذکر کردہ ان بڑے اور کھلے گناہوں سے بچنا ضروری ہے ۔انہیں میں سے ایک‘‘خمر’’ یعنی شراب ہے اور شراب ہر وہ چیز ہے جو عقل کو ڈھانپ لے اور پینے والے کی عقل پر پردہ ڈال دے ۔
اور انہیں مذکورہ گناہوں میں سے “میسر” یعنی جواہے ۔اور یہ ہار جیت کے وہ تمام کھیل ہیں جن میں دونوں فریق کی جانب سے عِوض (پیسہ ؍ بدلہ ) لگایا جائے۔ جیسے کسی مقابلہ یا دیگر کھیل وغیرہ میں عوض کی شرط لگانا ۔(السعدی:۳۴۳)
سوال: انسان کی کامیابی کس چیز کے ذریعہ کامل ہوتی ہے.