قرآن
ﮑ
ﰿ
ﭙ ﭚ ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ
ﭢ ٧٨ ٧٨ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ
ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ٧٩ ٧٩ ﭰ ﭱ ﭲ
ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ
ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ
ﮃ ٨٠ ٨٠ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ
ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ
ﮒ ﮓ ٨١ ٨١ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ
ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ
ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ
ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ
ﮰ ﮱ ٨٢ ٨٢ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ
ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ
ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ٨٣ ٨٣
لُعِنَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ مِنۢ بَنِيٓ إِسۡرَٰٓءِيلَ عَلَىٰ لِسَانِ دَاوُۥدَ وَعِيسَى ٱبۡنِ مَرۡيَمَۚ ذَٰلِكَ بِمَا عَصَواْ وَّكَانُواْ يَعۡتَدُونَ ٧٨
بنی اسرائیل، حضرت اسرائیل(یعقوب ) علیہ السلام کی طرف نسبت کے ساتھ دومیں سے ایک شریعت کی طرف نسبت بھی رکھتے تھے مگر اس نبی سے (اور شریعت کی دوہری) نسبت نے انہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچایا۔اس لئے کہ اللہ کے پاس تقوے کے بغیر کسی کا کوئی نسب (کام آنے والا) نہیں ۔ خاص طور پر فیصلے کے دن۔ جبکہ: (ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ) (سورۂ زخرف: ۶۷) اس دن (دنیاکے) جگری دوست ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیں گے سوائے پرہیز گار لوگوں کے ۔ (البقاعی: ۲؍ ۵۱۸)
سوال: حضرت اسرائیل علیہ السلام انبیاء میں سے ایک نبی ہیں ۔اس کے باوجود ان کی نسل واولاد میں سے جنہوں نے کفر کیا وہ لعنت کے مستحق ہو گئے۔ توکیاشرف وعزت والا نسب، بغیر عبادت وبندگی کے نفع بخش ہے ؟ وضاحت کیجیے.
كَانُواْ لَا يَتَنَاهَوۡنَ عَن مُّنكَرٖ فَعَلُوهُۚ لَبِئۡسَ مَا كَانُواْ يَفۡعَلُونَ ٧٩
ماہر، اور گہری بصیرت رکھنے والے اہلِ علم کہتے ہیں کہ: برائی سے روکنے والے کے لئے یہ شرط نہیں ہے کہ وہ گناہ اور نافرمانی سے پاک وصاف ہو بلکہ نافرمان اور گناہوں میں ملوث لوگ ایک دوسرے کو برائیوں سے روک سکتے ہیں۔(القرطبی: ۸؍۱۰۶)
سوال: کیا برائی سے روکنے والے کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ گناہ سے پاک ہو ؟
وَلَوۡ كَانُواْ يُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلنَّبِيِّ وَمَآ أُنزِلَ إِلَيۡهِ مَا ٱتَّخَذُوهُمۡ أَوۡلِيَآءَ
اللہ سبحانہ نے بیان فرمایا ہے کہ ایمان کے کچھ ضروری تقاضے اورلوازمات ہیں اور ایسی کئی چیزیں پائی جاتی ہیں جو ایمان کی ضد اور مخالف ہیں ۔لہذا ایمان کا ہونا اپنے ضروری تقاضوں کا ثبوت واقرار اور مخالف چیزوں کا انکار لازمی طور سے چاہتا ہے۔ اور ایمان کے منافی چیزوں یعنی اضداد میں سے ایک ضد ہے :اللہ اور اس کے رسول ﷺسے دشمنی رکھنے والوں سے محبت اور دوستی رکھنا۔
سوال: آیت کریمہ نے ایمان کی ایک ضد (منافی چیز) کا ذکر کیا ہے ۔وہ کیا ہے؟
وَلَتَجِدَنَّ أَقۡرَبَهُم مَّوَدَّةٗ لِّلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱلَّذِينَ قَالُوٓاْ إِنَّا نَصَٰرَىٰۚ
آیت میں تمام عیسائی مراد نہیں لئے گئے ہیں اس لئے کہ وہ بھی مسلمانوں سے اپنی دشمنی میں یہودیوں کی طرح ہی ہیں ۔مسلمانوں کو قتل اور قید کرتے ہیں ، ان کے شہروں اور بستیوں کو تباہ وبرباد کرتے ہیں ،ان کی مسجدوں کو منہدم کرتے اور ان کے مصاحف (قرآن کے نسخو ں) کو جلاتے ہیں۔ تو ان سے دوستی اور عزت وکرامت کی کوئی گنجائش نہیں بلکہ آیت کا مضمون ان عیسائیوں کے بارے میں ہے جو دائرہ اسلام میں داخل ہوچکے ہیں۔ ( البغوی: ۱؍ ۷۰۲)
نوٹ: یہ تفسیر محل نظر ہے۔ اور آیت کے الفاظ وسیاق سے تعارض ہے خاص طور پر اگلی آیت جس میں (قِسِّيسِينَ ) کا ذکر ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان ہوجانے والے عیسائی مراد نہیں بلکہ عام نصاریٰ مراد ہیں۔ کیونکہ اگر اسلام قبول کرلیا تو پھر نصاریٰ کہاں رہے؟ پھر آیت میں یہ نہیں کہا گیا ہے کہ ان کے اندر مسلمانوں سے دشمنی اور عداوت بالکل نہیں ہے بلکہ یہود اور مشرکین کے مقابل۔نسبتاً ۔ زیادہ قربت بتائی گئی ہے۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ نصاریٰ کے بارے میں ایمان والوں سے جو قربت کی بات بتائی گئی وہ یہود اور مشرکین کے مقابلے میں ہے ورنہ نصاریٰ بھی مسلمانوں کے سخت دشمن ہیں۔ اور امر واقعہ بھی یہی ہے نصاریٰ میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو مسلمانوں کیلئے آواز اٹھاتے ہیں مگر یہود میں ایسا کم پائیں گے۔ اسلام لانے والے بھی زیادہ عیسائی ہوتے ہیں یہودی جلد اسلام نہیں لاتے۔ واللہ اعلم (مترجم)
سوال: آیت میں ذکر کردہ نصاریٰ سے کون مراد ہیں؟
ذَٰلِكَ بِأَنَّ مِنۡهُمۡ قِسِّيسِينَ وَرُهۡبَانٗا
(قِسِّيسِينَ وَرُهۡبَانًا ) پادری او ر گوشہ نشین۔یعنی :زُہد اور دنیا سے بے رغبتی اختیار کرنے والے علماء اور کلیساؤں میں عبادت و ریاضت میں لگے ہوئے عبادت گزار لوگ۔ علم کے ساتھ زہدوعبادت بھی ہو تو یہ ان اسباب میں سے ہیں جو دل میں نرمی اور رقت پیدا کرتے ہیں ۔ساتھ ہی دل کے اندر کی جفا اور سختی کو ختم کرتے ہیں ۔اسی بناپر نصاریٰ کے اندر، یہود کی سنگ دلی اور مشرکین کی سختی نہیں پائی جاتی۔(السعدی: ۲۴۲)
سوال: دل کی نرمی کے کچھ اسباب ہیں۔وہ کیا ہیں؟
وَإِذَا سَمِعُواْ مَآ أُنزِلَ إِلَى ٱلرَّسُولِ تَرَىٰٓ أَعۡيُنَهُمۡ تَفِيضُ مِنَ ٱلدَّمۡعِ مِمَّا عَرَفُواْ مِنَ ٱلۡحَقِّۖ يَقُولُونَ رَبَّنَآ ءَامَنَّا فَٱكۡتُبۡنَا مَعَ ٱلشَّٰهِدِينَ ٨٣
یہ علماء کی حالت وکیفیت ہے کہ روتے ہیں مگر چیختے نہیں۔ (اللہ سے) مانگتے ہیں مگر زور وشور سے چلاتے نہیں۔ غمگین ودردمند ہوتے ہیں لیکن مغلوب ہوکر بے خود ومدہوش نہیں ہوتے ہیں ۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشا ہے : ( ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ) (سورۂ زمر: ۲۳) اللہ نے سب سے اچھا کلام نازل فرمایا ہے، جو ایسی کتاب ہے کہ آپس میں ملتی جلتی ہیں اور اس کی آیتیں اور مضامین باربار دہرائے گئے ہیں ۔ اس کلام (کو سننے اور پڑھنے) سے ان لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں پھر (بالآخر) ان کے جسم وجلد اور دل اللہ کے ذکر کی طرف مائل ہوجاتے ہیں۔ (القرطبی: ۸؍۱۱۳)
سوال: اللہ کی کتاب سے متاثر ہونا شریعت کی نظر میں کس طرح ہوتا ہے؟
وَإِذَا سَمِعُواْ مَآ أُنزِلَ إِلَى ٱلرَّسُولِ تَرَىٰٓ أَعۡيُنَهُمۡ تَفِيضُ مِنَ ٱلدَّمۡعِ مِمَّا عَرَفُواْ مِنَ ٱلۡحَقِّۖ يَقُولُونَ رَبَّنَآ ءَامَنَّا فَٱكۡتُبۡنَا مَعَ ٱلشَّٰهِدِينَ ٨٣
(فَٱكۡتُبۡنَا مَعَ ٱلشَّٰهِدِينَ) پس تو ہمیں بھی شہادت اور گواہی دینے والوں میں لکھ لے۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: یعنی محمد ﷺ اور ان کی امت کے ساتھ شامل کردے کیونکہ شہادت دینے والوں کی امت یہی ہے ۔ ہاں!نصاری کے لئے ارادہ وعبادت تو ہے لیکن علم اور گواہی ان کا حصہ نہیں ہے۔ (ابن تیمیہ: ۵۲۲)
سوال:اللہ تعالیٰ کے فرمان: (فَٱكۡتُبۡنَا مَعَ ٱلشَّٰهِدِينَ) سے کیا مراد ہے؟